Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک دُعا p. 105
یہ دنیا حادثات کی دنیا ہے۔ یہاں یکساں حالات کا برقرار رہنا ممکن نہیں۔ یہاں عین فطرت کے قانون اور عین تخلیقی نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ بار بار حالات میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ بار بار نقصان سے سابقہ پیش آتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ نقصان کبھی خوف کی صورت میں پیش آئے گا، کبھی بھوک کی صورت میں، اور کبھی مال اور جان اور فائدہ میں کمی کی صورت میں (البقرہ،2:155) p. 105original + quote
ایسی حالت میں ایک انسان وہ ہے جو فریاد و ماتم کرنے لگتا ہے۔ وہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ مگر یہ سچے انسانوں کا طریقہ نہیں۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو سیدھے راستہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ p. 106
ایسے مواقع پر کسی انسان کے لیے صحیح اور سچا طریقہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ وہ سارے معاملہ کو مالکِ کائنات کے اوپر ڈال دے۔ وہ مصیبت کو صبر کا معاملہ بنائے نہ کہ بے صبری کا۔ وہ اس کو وقتی تاثر کے خانہ میں ڈالے نہ کہ مستقل تاثر کے خانہ میں۔ p. 106
جن لوگوں کے اندر یہ ربانی شخصیت ہو۔ جو سچائی کے راستہ کو پائے ہوئے ہوں۔ ان پر جب ایسی کوئی آفت آتی کی زبان سے نکل پڑتا ہے کہ ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ خدایا، تو ہماری مصیبت میں ہم کو اجر دے۔ تو اس کے بعد ہمارے لیے خیر کی صورت پیدا فرما دے:إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 918) p. 106original + quote
جو بندہ شخصی یا قومی مصیبت پیش آنے کے بعد یہ کہہ پڑے۔ اس کو فوراً ایک نیا سنبھالا مل جائے گا۔ جھٹکا لگنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہو گا۔ ناامیدی کے تجربہ سے دوچار ہونے کے بعد وہ جلد ہی امید کا نیا تحفہ اپنے لیے پا لے گا۔ p. 106
ایسے لوگ ماضی کو کھو کر دوبارہ اپنے مستقبل کو پا لیتے ہیں، وہ محرومی میں بھی یافت کا سرمایہ حاصل کر لیتے ہیں۔ جہاں بظاہر کہانی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہو وہاں بھی وہ ایک نیا پیراگراف معلوم کر لیتے ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو ازسرنو شروع کر سکیں۔ p. 107