Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مالی تعاون p. 109
زندگی کی دوڑ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آگے چلا جاتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ کسی کے پاس ضرورت سے زیادہ مال آ جاتا ہے اور کسی کو ضرورت سے کم ملتا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا مالی تعاون کریں۔ انسانی تقاضے کے تحت لوگ ایک دوسرے کے کام آئیں۔ p. 109
اس سلسلہ میں قرآن میں بہت سی آیتیں آئی ہیں۔ مثلاً فرمایا: لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ۔ یعنی وسعت والے کو چاہیے کہ وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے (65:7) اسی طرح فرمایا: وَفِي أَمْوالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ)(51:19)۔ یعنی محسن اور متقی وہ لوگ ہیں جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا حصہ ہو۔ p. 109original + quote
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا پسندیدہ انسان وہ ہے جس کو مالی فراخی ملے تو اپنے مال میں سے وہ دوسروں کے لیے خرچ کرے۔ اس کی کمائی میں صرف انھیں کا حصہ نہ ہو جو ضرورت کے تقاضے کے تحت سوال کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے مال میں وہ ان کا حصہ بھی سمجھے جو کسی وجہ سے محروم ہو گئے ہیں۔ جو مانگتے نہیں ہیں یا مانگنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وہ خود ایسے لوگوں کو جانے اور ان کے یہاں پہنچ کر ان کی مدد کرے۔ p. 109
حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں ہیں جن میں مال خرچ کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چند لوگوں کے بارے میں جنت کی خوش خبری دی ہے، ان میں سے ایک وہ انسان ہے جس کو اللہ نے مال دیا پھر اس نے اپنے مال کو دوسروں کی مدد میں خرچ کیا (وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُ)مسند احمد،حدیث نمبر 16966۔ p. 110original + quote
اپنی کمائی کو دوسرں کی ضرورت پر خرچ کرنا اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے، اور اسلام میں آخری حد تک اس کی تاکید کی گئی ہے۔ جس آدمی کو بھی مال کا کوئی حصہ ملتا ہے وہ اس کے لیے خدا کا ایک عطیہ ہوتا ہے۔ خدا اگر ضروری اسباب مہیا نہ کرے تو کوئی بھی شخص مال کمانے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جب بھی کسی کو مال ملے تو اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ خدا کی شکر گزاری کے طور پر وہ اس کا ایک حصہ نکالے اور اس کو خدا کے بندوں پر خرچ کرے۔ p. 110