Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بے حساب اجر p. 158
قُلْ يَا عِبادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ واسِعَةٌ إِنَّما يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسابٍ (39:10)۔کہو کہ اے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو۔ جو لوگ اس دنیا میں نیکی کریں گے ان کے لیے نیک صلہ ہے۔ اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ p. 158original + quote
یہ ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے کہ کسی عمل پر بے حساب اجر دینے کا اعلان کیا جائے۔ قرآن میں اس قسم کا غیر معمولی اعلان صرف ایک عمل کے لیے کیا گیا ہے، اور وہ صبر کا عمل ہے۔ p. 158
صبر کی اصل حبس ہے۔ یعنی روکنا۔ عربی میں کہا جاتا ہے۔صبرتُ عن کذا (میں نے اپنے نفس کو فلاں چیز سے رو دیا۔ یا صبرتُ عما احبّ (جس چیز کو میں پسند کرتا ہوں اس سے میں نے اپنے آپ کو روکا) p. 159
عمل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے حد پر عمل کرنا۔ دوسرا ہے حد کے باہر جا کر عمل کرنا۔ ایک شخص آپ کے ساتھ حسن کرے اور آپ بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ یہ معمول کا کردار ہے۔ اس میں صبر و برداشت کا مرحلہ پیش نہیں آتا۔ یا آپ نے ایسے دین کو اختیار کر رکھا ہے جس میں آپ کے سب معاملات درست رہیں تو یہ گویا ایک حد پر رہ کر دین دار بننا ہے۔ p. 159
عمل کی دوسری قسم یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں مطلوب دینی رویہ پر قائم رہے، خواہ صورت حال اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ یہ صابرانہ عمل ہے۔ p. 159
یعنی دوسرا آدمی آپ کے ساتھ برا سلوک کرے تب بھی آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ دوسرا آپ کو اشتعال دلائے تب بھی آپ اس سے معتدل انداز میں کلام کریں۔ حق پر قائم رہنے میں بظاہر آپ کا معاملہ بگڑتا ہو تب بھی آپ حق اور انصاف سے نہ ہٹیں، بظاہر بے اصولی اختیار کرنے میں فائدہ نظر آتا ہو تب بھی آپ پوری طرح بااصول بنے رہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میں بے حساب انعام دیا جائے گا۔ کیوں کہ انھوں نے صبر کی قیمت پر دینی عمل کیا۔ p. 159