Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
روزمرہ کی زندگی p. 299
عورت کی زندگی صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک کیسی ہونی چاہیے۔ اس کا نقشہ شریعت میں مکمل طور پر دیا گیا ہے۔ اس کا ایک خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ p. 299
سب سے پہلا کام صبح کو سویرے اٹھنا ہے۔ جو خواتین صبح کو سویرے نہیں اٹھتیں وہ ہر دن کم ازکم اپنا بہترین دو گھنٹہ ضائع کرتی ہیں۔ یہ ضائع شدہ وقت ایک دن میں صرف دو گھنٹہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسی طرح10 سال ہوتا رہے تو ضائع شدہ گھنٹوں کی مقدارت سات ہزار گھنٹوں سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ یہ خاندان کے صرف ایک ممبر کے ضائع شدہ گھنٹے ہیں۔ اسی طرح تمام افراد خاندان کے ضائع شدہ گھنٹوں کا شمار کیا جائے تو وہ کتنا زیادہ ہو جائے گا۔ p. 299
گھر کی خاتون جب سویرے اٹھیں تو دوسرے لوگ بھی سویرے اٹھیں گے۔ پھر سب لوگ وضو کرکے فجر کی نماز ادا کریں گے۔ اس طرح سویرے اٹھنا ایک طرف جسم کو اور دوسری طرف روح کو پاک کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ اسی طرح صبح کو سویرے اٹھنے کے نتیجہ میں دن بھر کے سارے پروگرام اپنے وقت پر انجام پائیں گے، کیونکہ جب آغاز درست ہو تو انجام بھی یقینا درست رہتا ہے۔ p. 300
صبح کو سویرے اٹھنے کی صورت میں دن بھر کے تمام پروگرام ٹھیک وقت پر انجام پائیں گے۔ بچے تیار ہو کر وقت پر سکول پہنچیں گے۔ مرد تیار ہو کر وقت پر اپنے معاشی کام میں لگ جائے گا۔ صبح سویرے گھر کی صفائی ہو جائے گی۔ باورچی خانہ سے لے کر مارکیٹ تک ہر چیز کا نظام ٹھیک طور پر انجام پائے گا۔ گھر کے پورے ماحول میں چستی، باقاعدگی اور ذمہ داری کی فضا دکھائی دے گی۔ پانچ وقت کی نماز جو ہر مومن اور مومنہ پر فرض ہے، وہ صحیح وقت پر انجام دی جاتی رہے گی۔ p. 300
مزید آپ کو جاننا چاہیے کہ گھر کا انتظام اور نماز، یہ دونوں الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ نہایت شدت کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ p. 300
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ أَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي (20:14)۔ یعنی میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ پانچ وقت کی نماز دراصل ہر وقت کی نماز کی یاد دہانی ہے۔ یہ ہر وقت کی نماز کیا ہے۔ وہ ذکر ہے، یعنی اللہ کی یاد۔ آپ کو یہ کرنا ہے کہ دن بھر کی تمام سرگرمیوں میں اللہ کو یاد کرتے رہیں۔ p. 300original + quote
صبح کو آپ سو کر اٹھیں تو اس احساس کے ساتھ اٹھیں کہ نیند کیسی عجیب نعمت ہے۔ اس نے کل دن بھر کی میری تھکن دور کر دی۔ اس نے نیا دن شروع کرنے کے لیے مجھے دوبارہ تازہ دم کر دیا۔ یہ احساس آپ کی زبان سے شکر کے کلمات کی صورت میں نکل پڑے۔ p. 301
اسی طرح دن بھر آپ جو کام کریں وہ سب آپ کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ مثلاً آپ اپنے بچہ کو سکول جانے کے لیے تیار کر رہی ہیں، اس وقت بچے کو دیکھ کر اگر آپ یہ کہہ اٹھیں کہ ایک انسانی بچہ کیسا عجیب معجزہ ہے، کیسا عجیب رحمت اور عظمت والا ہے وہ خدا جس نے انسانی بچہ جیسی عجیب چیز کی تخلیق کی۔ آپ کا بچہ اگر آپ کے اندر اس قسم کے تصورات جگانے کا ذریعہ بن جائے تو یہ سونے اور چاندی کے تمام ڈھیر سے زیادہ قیمتی ہے۔ p. 301
آپ باورچی خانہ میں روٹی اور سالن پکا رہی ہیں۔ آپ کو یاد آیا کہ یہ گیہوں، یہ چاول، یہ سبزی قدرت کے کیسے عجیب نمونے ہیں۔ خدا نے کروڑوں سال کے عمل کے دوران زمین کی اوپری تہہ کو زرخیز بنایا۔ اس نے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں کو ملا کر حیرت انگیز طور پر پانی جیسی نعمت پیدا کی۔ اس طرح کے بے شمار اسباب کو وجود دینے کے بعد یہ ممکن ہوا کہ زمین میں کسی چیز کا بیج ڈالا جاے اور وہ پودے اور درخت کی صورت اختیار کرکے انسان کے لے غذا کی فراہمی کا ذریعہ بن جائے۔ جب آپ اس طرح سوچیں گی تو آپ کا باورچی خانہ اور پورا گھر آپ کے لیے عبادت خانہ بن جائے گا۔ آپ کی نماز صرف پانچ وقت کی نماز نہیں ہوگی بلکہ وہ ذکر کی صورت میں سارے دن اور ساری رات جاری رہے گی۔ p. 301
اس طرح دن گزارتے ہوئے ظہر کا وقت آتا ہے اور گھر کے تمام افراد نماز ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھتی ہیں۔ پھر رات کا کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ اس نے کائناتی انتظام کے تحت آپ کے لیے پانی اور کھانے کا انتظام کیا۔ p. 301
عشاء کی نماز اور گھر کے ضروری کاموں کی تکمیل کے بعد وہ وقت آ جاتا ہے جب کہ آپ سو جائیں۔ اب آپ موذتین(قرآن کی آخری دو سورتیں) پڑھ کر اپنے بستر پر سو جایئے۔ جب آپ نے سارا دن پاک خیالات میں گزارا ہے تو اب آپ کو نہایت سکون کی نیند آئے گی۔ رات گزار کر صبح کو اٹھنا آپ کے لیے ایسا بن جائے گا جیسے دوبارہ نئی اور تروتازہ زندگی حاصل کر لینا۔ p. 301