Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عافیت کی زندگی p. 144
لماقدم حاتم الاصم الی الامام احمد قال لہ الامام اخبرنی کیف السلامۃ من الناس۔ فقال حاتم بثلاثۃ اشیاء تعطیھم من مالک ولا تاخذ من مالھم و تقضی لھم حقوقھم ولا تطالبھم بحقوقک و تصبر علیٰ اذا ھم ولا توذیھم (سیر اعلام النبلا للذہبی، جلد11، صفحہ487)۔ حاتم اصم جب امام احمد کے پاس آئے تو امام احمد نے ان سے کہاکہ مجھے بتائیے کہ لوگوں سے محفوظ کیسے رہا جائے۔ حاتم اصم نے کہا کہ تین چیزوں کے ذریعہ سے۔ ان کو اپنا مال دیں مگر خود ان کا مال نہ لیں۔ لوگوں کے حقوق ادا کریں مگر اپنے حقوق ان سے نہ مانگیں۔ لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کریں اور خود ان کو ایذا نہ پہنچائیں۔ p. 144unverified
ان تینوں باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ یک طرفہ طور پر لوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ وہ آپ سے پوری طرح محفوظ ہیں۔ اس کے بعد آپ بھی ان سے پوری طرح محفوظ ہو جائیں گے۔ لوگوں کو یہ احساس تین تدبیروں کے ذریعہ دلایا جا سکتا ہے۔ p. 145
لوگوں کے پاس جو کچھ ہے، اس سے اپنے آپ کو مستغنی بنا لیں۔ مگر آپ کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے آپ لوگوں کو حسب توفیق ان کا حصہ پہنچاتے رہیں۔ آپ لوگوں سے لینے والے نہ بنیں، اس کے بجائے آپ لوگوں کو دینے والے بن جائیں۔ p. 145
لوگوں کا جو حق آپ کے اوپر ہو اس کی ادائیگی میں آپ کوئی کوتاہی نہ کریں۔ مگر دوسروں کے اوپر آپ کا جو حق آتا ہو، اس کو دوسروں سے وصول کرنے کی کبھی کوئی مہم نہ چلائیں۔ p. 145
معاشرتی زندگی میں بار بار ایسا ہو گا کہ دوسروں کی طرف سے آپ کو تکلیف پہنچے گی۔ اس طرح کے مواقع پر آپ یک طرفہ صبر و تحمل کی پالیسی کو اختیار کر لیں، آپ صرف اتنا ہی نہ کریں کہ دوسروں کو آپ ایذا نہ پہنچائیں ، بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کا رویہ یہ بن جائے کہ دوسروں کی ایذاؤں پر آپ صبر کر لیں ، آپ لوگوں سے بدلہ لئے بغیر انھیں معاف کر دیں۔ p. 145
دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کا یہی واحد یقینی نسخہ ہے۔ اس کے سوا جو تدبیر اختیار کی جائے گی وہ امن و عافیت دینے والی نہیں بن سکتی۔ p. 146