Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اعتراف p. 221
سب سے بڑا عمل اعتراف ہے۔ اعتراف کی حیثیت جڑ والی صفت کی ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ ہو، اس کے اندر دوسری تمام خوبیاں بھی موجود ہوں گی۔ جو آدمی اعتراف سے خالی ہو، وہ یقینی طور پر تمام خوبیوں سے بھی خالی ہوگا۔ p. 221
یہ اعتراف کا مادہ ہی ہے جو کسی آدمی کو ایمان کی طرف لے جاتا ہے جو کہ دین کی اصل بنیاد ہے۔ جس کو شریعت کی زبان میں ایمان کہا جاتا ہے، اسی کا نام فطرت کی زبان میں اعتراف ہے۔ اعتراف کی فطرت جب ایمان میں ڈھل جائے تو وہیں سے دینی یا اسلامی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ اعتراف ہی کی عملی صورت کا نام عبادت خدا وندی ہے۔ p. 222
اعتراف کا مادہ ہی آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پیغمبر کی پیغمبری کو مانے۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پیغمبر اس کے لئے قابل اطاعت نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اسے اپنی پوری زندگی میں پیغمبر کے حکم کی پیروی کرنا چاہئے۔ p. 222
قرآن کو خدا کی کتاب سمجھنا اور حدیث کو پیغمبر خدا کے کلام کا درجہ دینا بھی اسی جذبۂ اعتراف کی بنا پر ہوتا ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف کا جذبہ آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی اس حیثیت کو تسلیم کرے جو فی الواقع اسے حاصل ہے۔ p. 222
اسی طرح انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا معاملہ بھی اعتراف سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دراصل جذبہ اعتراف ہی ہے جو آدمی سے یہ کہتا ہے کہ دوسروں کا حق جو تمہارے اوپر آتا ہے اس کو تم پوری طرح ادا کرو۔ احترام، شفقت، امانت، صبر، شریفانہ اخلاق، وعدہ پورا کرنا، لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا، اس قسم کی جتنی بھی اعلی انسانی خصوصیات ہیں، ان سب کا سرچشمہ اعتراف ہے۔ p. 222
اسی طرح تمام بری صفات کا رشتہ بے اعترافی سے بندھا ہوا ہے۔ ایمان پر راضی نہ ہونا بے اعترافی ہے۔ کسی انسان کے ساتھ حسد اسی لئے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اس کے فضل کا اعتراف کرنا نہیں چاہتا۔ آدمی خیانت اسی لئے کرتا ہے کہ وہ نہیں مانتا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ اس کی اپنی نہیں ہے بلکہ دوسرے کی ہے۔ p. 223