Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جنگ کا حکم p. 123
وَقاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقاتِلُونَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (2:190)۔ اور اللہ کے راستہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ p. 123Qur'an
اعتداء کے معنی ہیں زیادتی کرنا، تجاوز کرنا۔ یہاں یہ لفظ جارحیت (aggression) کے معنی میں ہے۔ الراغب الاصفہانی نے یہاں اس کو جارحیت کے آغاز (الِاعْتِدَاءُ عَلَى سَبِيلِ الِابْتِدَاءِ)کے معنی میں لیا ہے (المفردات فی غریب القرآن،صفحہ 554)۔ p. 124original + quote
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ)۔یعنی تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو۔ اور اللہ سے عافیت مانگو۔ صحيح البخاري،حدیث نمبر 2966۔ p. 124original + quote
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام مکمل طور پر امن کا مذہب ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثناء کی۔ یہ استثنائی حکم اس وقت کے لیے ہے جب کہ کسی نے یک طرفہ طور پر جنگ کا آغاز کر دیا ہو۔ اس وقت دفاع کے طور پر جنگ کی جائے ۔ مگر خود سے جنگ چھیڑنے کی اجازت اسلام میں نہیں۔ p. 124
تاہم یہ دفاع بھی ایک ضروری شرط کے ساتھ مشروط ہے ، اور وہ اعراض ہے۔ سنت رسولؐ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فریق ثانی اگر جنگ کے حالات پیدا کرے تب بھی ابتدائی کوشش اسی کی ہو گی کہ عملی طور پر جنگ کی نوبت نہ آئے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ جنگ سے بچنے کی ہر کوشش ناکام ہو جائے اور فریق ثانی کی طرف سے جنگ کا عملی آغاز کر دیا جائے تو اس وقت آخری چارۂ کار کے طور پر جنگ کی جائے گی۔ p. 124
اسلام ملک گیری کا مذہب نہیں۔ وہ مکمل طور پر ایک دعوتی مذہب ہے ۔ اور دعوت کا کام ہمیشہ امن چاہتا ہے، جنگ کا ماحول دعوتی کام کے لیے ہرگز مناسب نہیں۔ امن میں دعوت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور جنگ میں دعوت کا کام معطل ہو جاتا ہے۔ p. 125