Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
رحمت ، سیف p. 121
قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین (21:107)کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ انا محمد …و نبی الرحمۃ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2355) p. 122quoted source
ایک طرف پیغمبر اسلام کی حیثیت کے بارے میں اس قسم کے کھلے بیانات ہیں۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میرا رزق میرے نیزہ کے سایہ کے نیچے رکھا گیا ہے (جُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي) صحيح البخاري،حدیث نمبر 2913۔ p. 122original + quote
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ (مسند احمد، حدیث نمبر 5115)۔ یعنی میں قیامت سے پہلے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ۔ p. 122hadith
یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ درحقیقت دو الگ الگ پہلو ہیں۔ رحمت کی بات ایک پہلو سے کہی ہے اور سیف کی بات دوسرے پہلو سے۔ p. 122
اصل یہ ہے کہ صرف پیغمبر اسلامؐ ہی رحمت کے پیغمبر نہ تھے۔ بلکہ خدا نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب پیغمبر رحمت ہی تھے۔ سب کے سب دینِ رحمت ہی لے کر آئے۔ مثال کے طور پر قرآن میں حضرت موسیؑ کی کتاب کو رحمت فرمایا گیا ہے (11:17) ۔مگر فرق یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ کوئی طاقت ور ٹیم تیار نہ ہو سکی جو پیغمبروں کے مشن کے حق میں موثر طور پر حمایت اور دفاع کا کام کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کے مشن کو مخالفین نے عملی طور پر آگے بڑھنے نہیں دیا۔ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں خدا کا دین صرف فکری تحریک کے مرحلہ میں رہا، وہ فکری انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔ p. 123original + quote
اس کے برعکس پیغمبر اسلام کو خدا کی مدد سے ’’اصحاب سیف‘‘ بالفاظ دیگر، طاقت ور حمایت گروہ حاصل ہو گیا۔ چنانچہ مخالفین نے جب جارحیت کر کے آپ کے پرامن مشن کو دبانا اور مٹانا چاہا تو آپ بھی اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پوزیشن میں تھے کہ ان کی جارحیت کا موثر جواب دے کر ان کے مخالفانہ عزائم کو ناکام بنا دیں۔ p. 123
مذکورہ قسم کی احادیث میں نیزہ اور تلوار کا لفظ آپ کی دفاعی طاقت کو بتانے کے لیے ہے نہ کہ آپؐ کی اصل پیغمبرانہ حیثیت کو بتانے کے لیے۔ p. 123