Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ترک تعلق p. 172
قطع تعلق اور ترک کلام کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت ہے کہ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ صحيح البخاري،حدیث نمبر 6077۔کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے۔ دونوں ملیں تو ایک اِدھر منہ پھیر لے اور دوسرا اُدھر منہ پھیر لے۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ p. 172original + quote
ایک روایت میں ہے کہ ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنّت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ پھر ہر اس بندہ کو بخش دیا جاتا ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو سوا اس آدمی کے جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کے بارے میں انتظار کرو، یہاں تک کہ وہ آپس میں اپنے تعلق کو درست کر لیں (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2565) p. 172hadith
ایک روایت کے مطابق ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے بھائی سے ایک سال تک تعلق توڑے رہے تو وہ اس کا خون بہانے کے برابر ہے (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4915)۔ سنن ابو داؤد میں ایک اور روایت اس طرح ہے: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ (سنن أبي داود،حدیث نمبر 4914)۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۔ پس جو شخص تین دن سے ز یادہ ترک تعلق کرے اور اسی حال میں مر جائے تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔ p. 172quoted source
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کسی سے غصہ ہو کر اس سے تعلق توڑ لیتا ہے اور ا س سے بولنا بند کر دیتا ہے۔ یہ برائی مردوں میں بھی ہے اور عورتوں میں بھی۔ مگر یہ سخت گناہ ہے ۔ وہ اتنا زیادہ سنگین ہے کہ آدمی اپنی اصلاح نہ کرے اور اسی حالت میں اس پر موت آ جائے تو نماز روزہ کے باوجود سخت اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی پکڑ میں آ جائے گا۔ p. 173