Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سکون کا راز p. 203
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ (صحيح مسلم،حدیث نمبر 2963)۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم اس کو دیکھو جو تمہارے نیچے ہے اور اس کو نہ دیکھو جو تمہارے اوپر ہے۔ کیوں کہ اس رویہ سے اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ تم اپنے اوپر خدا کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔ p. 204original + quote
یہ زندگی کا ایک نہایت قیمتی اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں خود فطرت کے نظام کے تحت ایسا ہے کہ کسی کے پاس کم سامان ہوتا ہے اور کسی کے پاس زیادہ سامان۔ فرق کی یہ صورت حال کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ ایسی حالت میں پرسکون زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنے اور دوسروں کے درمیان غلط تقابل نہ کرے۔ p. 204
اگر وہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھے گا تو اس کے اندر حسد اور بے چینی پیدا ہو گی۔ وہ سکونِ قلب سے محروم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھے تو اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو گا اور اسی کے ساتھ اس کو روحانی سکون بھی حاصل ہو گا۔ اس کا دن چین کے ساتھ گزرے گا اور رات کے وقت اس کو اچھی نیند کی نعمت حاصل ہو گی۔ p. 204
اس بات کو مشہور انگریز افسانہ نگار شیکسپیر (1565-1616)نے اپنے لفظوں میں اس طرح کہا ہے کہ یہ دراصل تقابل ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان رہتے ہیں p. 204other source
It is by comparison that you suffer. p. 204
ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کا یہ نظام خود فطرت کا بنایا ہوا ہے۔ اس میں گہری مصلحت ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان چیلنج کی صورت حال قائم رہتی ہے۔ یہی چیلنج تمام ترقیوں کا زینہ ہے۔ انسانی سماج میں اگر چیلنج ختم ہو جائے تو اس کی ترقیاتی سرگرمیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ اپنے سے کم والے کو دیکھے تو شکر ادا کرے۔ اور جب اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو مسابقت کے جذبہ کے تحت آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ p. 205