Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تین مرحلے p. 340
ایک عورت کو اپنی زندگی میں تین بڑے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک لڑکی کی صورت میں اپنے صبح و شام بسر کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کا نکاح ہوتا ہے اور وہ بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے گھر منتقل ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کے یہاں بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس کی حیثیت ماں کی بن جاتی ہے۔ p. 340
یہ تینوں مرحلے تقریباً ہر عورت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے تقاضے الگ الگ ہیں اور ہر دور میں عورت کو اس کے لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے تاکہ اس کی ترقی جاری رہے اور وہ آخری کامیابی کی منزل تک پہنچ سکے۔ ان تینوں مرحلوں میں عورت کو جو کام کرنا ہے اس کو تین عنوانات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے___تعلیم، خانہ آبادی، تربیت نسل۔ p. 340
پہلے مرحلہ میں جب کہ عورت کی حیثیت ایک لڑکی کی ہوتی ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری تعلیم کا حصول ہے۔ زندگی کا یہی وہ تعمیری دور ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ علم کا حصول ہر مومن مرد اور ہرمومن عورت پر فرض ہے(طلب العلم فریضۃ علی کل مومن و مومنۃ)سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 224 p. 340original + quote
تعلیم زندگی کی تعمیر ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعہ انسان حقیقی معنوں میں انسان بنتا ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعہ ذہن اس ارتقائی حالت تک پہنچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور وسروں کو سمجھے۔ وہ دنیا اور آخرت سے سچی واقفیت حاصل کرے۔ وہ مراحل حیات میں کھلی آنکھ اور کھلے ذہن کے ساتھ داخل ہو اور صحیح طور پر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔ p. 341
ایک عورت جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہے تو اس کی حیثیت ایک خام مادہ کی ہوتی ہے۔ اس کے اندر تمام فطری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں مگر یہ صلاحیتیں خام حالت میں ہوتی ہیں۔ ان صلاحیتوں کو جلا دینے کا کام تعلیم کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ تعلیم گویا لوہے کو اسٹیل بناتی ہے، وہ فطری امکانات کو واقعہ کے روپ میں تشکیل دیتی ہے۔ p. 341
تعلیم عورت کی شخصیت کو مکمل کرتی ہے۔ ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، عورت جتنی زیادہ صاحب علم ہوگی اتنا ہی زیادہ وہ اس دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے گی۔ p. 341
تعلیم کے دو پہلو ہیں۔ ایک کو سیکولر تعلیم اور دوسرے کو دینی تعلیم کہہ سکتے ہیں۔ عورت کے لیے دونوں ہی ضروری ہیں، اگرچہ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے جدا ہے۔ سیکولر تعلیم اگر ضرورت حیات کے درجہ میں مطلوب ہے تو دینی تعلیم مقصد حیات کے درجہ میں درکار ہے۔ p. 341
سیکولر تعلیم عورت کو زندگی کا شعور عطا کرتی ہے۔ وہ ا س کو سوچنے اور رائے قائم کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ انسانی نفسیات کیا ہے۔ زمانہ کے تقاضے کیا ہیں۔ قوم اور ملک کی تاریخ کیا ہے۔ وہ انسانی حالات کیا ہیں جن کے درمیان اس کو زندگی کا امتحان دینا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کو سیکولر تعلیم یا دنیوی تعلیم کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں۔ اس تعلیم کو حاصل کرنا عورت کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر وہ اپنے فرائض حیات کو کامیابی کے ساتھ ادا نہیں کر سکتی۔ p. 342
دینی تعلیم کی حیثیت مقصدی ہے۔ ہر عورت پر لازم ہے کہ وہ ضروری حد تک قرآن اور حدیث کا علم حاصل کرے۔ وہ صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں کو جانے۔ وہ اسلام کی تاریخ سے بقدر ضرورت واقف ہو۔ وہ جانے کہ انسان کے لیے اسلام کا عطیہ کیا ہے۔ p. 342
عورت اگر عربی زبان سیکھ سکے تو بہت اچھی بات ہے۔ ورنہ اپنی مادری زبان میں اس کو قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہیے اور بار بار اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن کی حیثیت دین میں اساس کی ہے۔ قرآن کی تعلیمات سے واقفیت کے بغیر دین کا فہم و ادراک ممکن نہیں۔ p. 342
اس کے بعد عورت کو احادیث کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ عربی زبان جانے اور عربی میں پڑھ سکے تو زیادہ بہتر ہے، ورنہ آج ہر زبان میں حدیث اور سیرت پر کتابیں موجود ہیں۔ اس کو چاہیے کہ اپنی زبان میں اس موضوع پر کتابیں حاصل کرے اور اہتمام کے ساتھ ان کا مطالعہ کرے۔ p. 342
اس کے بعد صحابہ کے حالات اور دوسری دینی شخصیتوں کے حالات کا معاملہ ہے۔ ان پر بھی ہر زبان میں کثرت سے کتابیں موجود ہیں۔ ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ ان کتابوں کو اپنے حالات کے اعتبار سے پڑھے اور اس میں پوری آگہی حاصل کرے۔ p. 342
عورت کی زندگی کا دوسرا مرحلہ وہ ہے جب کہ اس کا نکاح ہوتا ہے اور وہ کسی مرد کی بیوی بن کر نئے گھر میں منتقل ہوتی ہے۔ اس دوسرے دور حیات میں اس کی جو ذمہ داریاں ہیں اس کو ایک لفظ میں خانہ آبادی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اب عورت محض ایک فرد نہیں رہی، وہ سماج کا ایک ایسا جزء بن جاتی ہے جس کے بغیر نہ وہ خود مکمل ہے اور نہ سماج۔ p. 343
خانہ آبادی کے اس دور میں عورت کو جس طرح رہنا ہے، اس کو ایک لفظ میں حسن معاشرت کہا جا سکتا ہے۔ قرآن میں مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم عورتوں کے ساتھ اچھی طرح گزر کرو (وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ) اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو(4:19)۔ p. 343original + quote
یہ بات جو مردوں سے کہی گئی وہی عورتوں سے متعلق بھی ہے۔ عورت کو بھی اسی ذہن کے ساتھ اپنا گھر بسانا ہے کہ خانہ آبادی میں حاصل اہمیت ذاتی پسند ناپسند کی نہیں ہے بلکہ مجموعی انسانی فلاح کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ذاتی اعتبار سے ایک چیز آپ کو پسند نہ آتی ہو مگر مجموعی انسانیت کے اعتبار سے اس میں خیر ہو۔ اس لیے گھر کے اندر ناموافق باتوں کو نبھاہتے ہوئے ہنسی خوشی زندگی گزارنا ہے۔ p. 343
تیسرا مرحلہ وہ ہے جب کہ عورت ماں بن جاتی ہے۔ اب اس کی ذمہ داریوں کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ یعنی اگلی نسل کی تیاری میں اپنا حصہ ادا کرنا۔ ہر گھر یا خاندان گویا کہ وسیع تر انسانیت کی ایک اکائی ہے۔ اکائیوں کی درستگی سے مجموعہ درست ہوتا ہے۔ اب عورت کو یہ کرنا ہے کہ اپنی اکائی کو درست کرنے میں لگ جائے تاکہ وسیع تر انسانی معاشرہ درست معاشرہ بن سکے۔ p. 343
عورت کو اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دینا ہے۔ اس کو اعلیٰ انسانی اخلاق سکھانا ہے۔ اس کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے گھر میں اور اپنے سماج میں ایک شریف اور دیانت دار انسان کی حیثیت سے رہ سکے۔ عورت کو اپنی اولاد کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ دنیا میں انسانوں کے حقوق ادا کرنے والے بنیں، اور آخرت میں خدا کی رضا کے مستحق قرار پائیں۔ p. 344
عربی کا مقولہ ہے:التعلیم فی الصغر کا لنقش فی الحجر۔ یعنی کم عمری کی تعلیم پتھر میں نقش کی مانند ہے(فتح الباری702/8) بچہ میں یہ حجری نقش بنانا ماں ہی کا کام ہے۔ اگر عورت اس امکان کو پوری طرح استعمال کرے تو اس کی آغوش میں پلا ہوا بچہ ایک ایسا انسان بن کر ابھرے گا جو انسانی دنیا کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہو نہ کہ کوئی بوجھ۔ p. 344original + quote
وہی عوت کامل عورت ہے جو ان تینوں ذمہ داریوں میں پوری اترے۔ p. 344