Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کلام کی شرط p. 154
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ( صحيح البخاري،حدیث نمبر 6018؛ صحيح مسلم،حدیث نمبر 47)۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ بہتر بات بولے ورنہ چپ رہے۔ p. 154original + quote
جو شخص اللہ کو اس کے عظمت و جلال کے ساتھ مانے، جس کو یہ یقین ہو کہ قیامت کے دن اللہ اس کے ہر بول پر اس سے باز پرس کرنے والا ہے، وہ اپنی زبان کے بارے میں آخری حد تک محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ وہ خدا کے یہاں جائزہ لیے جانے سے پہلے خود اپنا جائزہ لینے لگتا ہے۔ p. 154
یہ مزاج اس کو اپنا نگراں آپ بنا دیتا ہے۔ اس کی زبان پر خاموشی کا تالا لگ جاتا ہے۔ وہ صرف اس اس وقت بولتا ہے جب کہ بولنا فی الواقع ضروری ہو گیا ہو، اور جہاں حقیقی ضرورت نہ ہو وہاں وہ چپ رہنا پسند کرتا ہے۔ p. 154
جو شخص اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایسا بن جائے، اس کی زبان جب کھلے گی تو بھلی بات ہی کے لیے کھلے گی۔ لغویا بے ہودہ بات کے لیے اس کی زبان اس طرح بند ہو جائے گی جیسے اس کے پاس بولنے کے لیے الفاظ ہی نہیں۔ p. 155
بہتر بات سے مراد وہ بات ہے جس سے کسی خدائی سچائی کا اعلان ہوتا ہو۔ جس میں کسی مظلوم کی حمایت کی گئی ہو۔ جس سے انسانی بھلائی قائم کرنا مقصود ہو۔ جو خیرخواہی اور اصلاح کے جذبہ کے تحت ظاہر ہوئی ہو۔ p. 155
اس کے برعکس غیر بہتر بات وہ ہے جس کا مقصد اپنے آپ کو نمایاں کرنا ہو۔ جس کے ذریعہ ظالم کی نائید چاہی گئی ہو۔ جو بدخواہی اور ظلم کے جذبہ کے تحت نکلی ہو۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ سویا ہوا فتنہ جاگ اٹھے اور خدا کی زمین میں فساد پھیل جائے۔ p. 155
اللہ پر اور آخرت پر ایمان آدمی کو سنجیدہ اور ذمہ دار بناتا ہے۔ اور جو شخص حقیقی معنوں میں سنجیدہ اور ذمہ دار ہو جائے اس کا کلام ویسا ہی ہو جائے گا جس کا حدیث میں ذکر ہوا۔ p. 155