Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پاکیزہ روش p. 234
قرآن میں اہل جنت کے تذکرہ کے ذیل میں فرمایا گیا ہے کہ___ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہوگی۔(یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا میں) پاکیزہ قول(قول طیب) کی ہدایت بخشی گئی تھی۔ اور ان کو خدائے حمید کا راستہ(صراط الحمید) دکھایا گیا تھا(22:23-24)۔ p. 235original + quote
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو چیزیں ہیں جو کسی کے لیے جنت میں داخلہ کا ذریعہ بنیں گی۔ ایک، اعتراف حق، اور دوسرے، اتباع حق۔ p. 235
جب کسی سماج میں حق کی دعوت اٹھتی ہے تو ایک قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کا ردعمل منفی انداز میں ہوتا ہے۔ وہ قول غیر طیب کے ذریعہ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو عزت کا سوال بنا کر اسے رد کر دیتے ہیں۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر میں نے اس کو مان لیا تو اس کے بعد میری بڑائی ختم ہو جائے گی۔ یہ سرکشی کا ردعمل ہے۔ اور جو لوگ دعوت حق کے مقابلہ میں سرکشی کا ردعمل پیش کریں وہ اپنے اس ردعمل سے جنت کا استحقاق کھو رہے ہیں۔ p. 235
دوسرا انسان وہ ہے جو قول طیب کے ذریعے دعوت حق کا استقبال کرتا ہے۔ جب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی اندرونی آواز اس کے حق ہونے کی گواہی دے رہی ہے تو اس کے بعد کوئی بھی دوسری چیز اس کے لیے قبول حق میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ کھلے طور پر اس کا اعتراف کرکے اپنے آپ کو اس میں شامل کر دیتا ہے۔ p. 235
دعوت حق کے مقابلہ میں یہ دو قسم کا ردعمل دو الگ الگ عملی نتیجے پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس کے مقابلہ میں قول غیر طیب کا مظاہرہ کریں وہ ان کی پوری زندگی کو غلط رخ پر ڈالنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ان کی ہر روش اور ان کے ہر عمل سے حق پسندی کی روح نکل جاتی ہے۔ p. 236
اس کے برعکس جو لوگ قول طیب اور کلمۂ اعتراف کے ذریعہ دعوت حق کا استقبال کرتے ہیں ان کی پوری زندگی میں سچائی کا نکھار آ جاتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کے مطابق چلتے ہیں۔ ان کا ہر عمل حق اور عدل کے رنگ میں رنگا ہوا ہوتا ہے۔ p. 236