Diary 2005

CNRS: French Natloual Research Center (Marseille)

Diary 2005 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (273 chapters)
  1. یکم جنوری2005
  2. 2جنوری 2005
  3. 3جنوری2005
  4. 5جنوری2005
  5. 6جنوری 2005
  6. 7جنوری2005
  7. 8جنوری2005
  8. 9 جنوری2005
  9. 10جنوری 2005
  10. 12 جنوری2005
  11. 13 جنوری 2005
  12. "Give me 100 energetic young men and I shall transform India" P.18
  13. 16جنوری2005
  14. 17جنوری2005
  15. 19جنوری2005
  16. 20جنوری2005
  17. 21 جنوری2005
  18. 22 جنوری2005
  19. 23 جنوری2005
  20. 24 جنوری2005
  21. You have to learn the art of anger mangement
  22. 26 جنوری2005
  23. 27 جنوری2005
  24. 28 جنوری2005
  25. 29 جنوری2005
  26. 30جنوری2005
  27. 31جنوری2005
  28. 2 فروری2005
  29. 3 فروری2005
  30. 4فروری2005
  31. 5فروری2005
  32. ـCutting News Clip
  33. The Time of India, 2 Feb, 2005
  34. 6 فروری2005
  35. I go alongwith the poet Mirza Asadullah Khan Ghalib
  36. ہم کو معلوم ہے خدمت کی حقیقت لیکن دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
  37. اعتراف
  38. Saturday, February 5, 2005
  39. اخبار کٹنگ لگی ہے
  40. 9فروری2005
  41. 1. Polytheistic interpretation
  42. 2. Atheistic interpretation
  43. 3. Monotheistic interpretation
  44. 10فروری2005
  45. 11فروری2005
  46. 1۔ کبھی قرض نہ لیں، خواہ ان کو محنت مزدوری کرنا پڑے۔
  47. 2۔ ہمیشہ آمدنی سے کم خرچ کریں۔
  48. 3۔ کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ ہمیشہ یکطرفہ صبر کی درس اختیار کریں۔
  49. 12فروری2005
  50. 13 فروری 2005
  51. 14فروری2005
  52. 16فروری2005
  53. 17فروری2005
  54. The Times of India
  55. February 13, 2005 (P-1) N. Delhi
  56. Newspaper Clip
  57. 18فروری2005
  58. 19فروری2005
  59. 20فروری2005
  60. The Times of India
  61. Newspaper Clip
  62. 21فروری2005
  63. Time of India
  64. Newspaper clip
  65. 23فروری2005
  66. Newspaper Clip
  67. 24فروری2005
  68. 25فروری2005
  69. ٹائمس آف انڈیا (27فروری2005) میں
  70. you arent wealthin untill you have something money can't buy
  71. 28فروری2005
  72. یکم مارچ2005
  73. 3مارچ2005
  74. He is the world's largest producer of steel
  75. 4مارچ2005
  76. اوروں کی بری بات تو بھاتی نہیں تم کو پر اپنی برائی نظرآتی نہیں تم کو
  77. 6مارچ2005
  78. Newspaper Clip
  79. 8مارچ2005
  80. 9مارچ2005
  81. 10مارچ2005
  82. 11مارچ2005
  83. 12مارچ2005
  84. If this is Islam, then where is the problem
  85. 13مارچ2005
  86. 15مارچ2005
  87. Newspaper Clip
  88. The Asian Age 5 New Delhi, 14 March 2005
  89. 16مارچ2005
  90. 17مارچ2005
  91. 18مارچ2005
  92. 19مارچ2005
  93. 20مارچ2005
  94. 22مارچ2005
  95. 23مارچ2005
  96. 24مارچ2005
  97. Quran has to be rerevealed today
  98. 25مارچ2005
  99. 26مارچ2005
  100. 27مارچ2005
  101. 29مارچ2005
  102. 30مارچ2005
  103. ٹائمس آف انڈیا31مارچ 2005
  104. یکم اپریل2005
  105. 2اپریل2005
  106. 3اپریل2005
  107. 5اپریل2005
  108. Newspaper Clip
  109. 7اپریل2005
  110. 8اپریل2005
  111. 19اپریل2005
  112. 10اپریل2005
  113. 12اپریل2005
  114. 13اپریل2005
  115. 14اپریل2005
  116. 15اپریل2005
  117. 17اپریل2005
  118. LOC as India-Pak Border
  119. 19اپریل2005
  120. 20اپریل2005
  121. 21اپریل2005
  122. 22اپریل2005
  123. ان تا زہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب نہیں ہے
  124. 23 اپریل2005
  125. 24اپریل2005
  126. 26اپریل2005
  127. 27اپریل2005
  128. 28اپریل2005
  129. 29اپریل2005
  130. کہو اشوک کیسے آئے؟
  131. اس سلسلے میں مجھے بہت سے تلخ تجربے ہوئے ہیں۔
  132. The clash of Civilizations and the Remarking of world order
  133. By: Samuel P. Huntiongton
  134. 7مئی2005
  135. 8مئی2005
  136. 10مئی2005
  137. (مؤطاالامام مالک، کتاب انظریارۃ، صفحہ:30)
  138. 11مئی2005
  139. 12مئی2005
  140. 14مئی2005
  141. 17مئی2005
  142. 18مئی2005
  143. ’’اصول کی بنیاد پر چپ ہونا بہادری ہے اور مصلحت کی بنیاد پر چپ ہونا بزدلی‘‘
  144. to promote educational advancement of the muslims of India
  145. 22مئی2005
  146. 24مئی2005
  147. 25مئی2005
  148. 26مئی2005
  149. 27مئی2005
  150. 28مئی2005
  151. 29مئی2005
  152. 31مئی2005
  153. Newspaper Clip
  154. یکم جون2005
  155. 2جون2005
  156. 3جون2005
  157. بادہ ہے نیم رس ابھی ذوق ہے نارسا ابھی رہنے دو غم کے سرپہ تم خشت کمیسیاابھی
  158. 4جون2005
  159. خان الشافی شرار کم قلیل ۔۔۔۔ فانی فی خیارکم دکتیر
  160. 5جون2005
  161. قل الحد للہ سیہ یکم آیاتہ فتعرفونہا (93)
  162. 7جون2005
  163. 8جون2005
  164. 9جون2005
  165. 10جون2005
  166. ومن بتبغ غیر الاسلام دینا فلوہ یقبل مند، وھوفی الآخرۃ من الخاسرین(آل عمران85)
  167. 11جون2005
  168. 12جون2005
  169. 17جون2005
  170. Boss is always wright
  171. 18جون2005
  172. 19جون2005
  173. 21جون2005
  174. 22جون2005
  175. 23جون2005
  176. 25جون2005
  177. و کبّرہ تکبیراً
  178. 26جون2005
  179. 28جون2005
  180. ایں دفتر بے معنی غرق مے ناب اولیٰ
  181. لیبلوکم اُیّکم أحسن عملاً(الملک)
  182. آخرت میں جب جنت بنائی جائے گی تو عالم موجودات کا یہ تضاد ختم ہوجائے گا۔
  183. 9جولائی2005
  184. تاج محل اور مولانا وحید الدین خاں۔
  185. 10جولائی2005
  186. کیا کیا خیال باندھے ناداں نے اپنے دل میں پراونٹ کی سمائی کب ہوچوہے کے بل میں
  187. 13جولائی2005
  188. 14جولائی2005
  189. 15 جولائی2005
  190. 16جولائی2005
  191. 17جولائی2005
  192. Be still! and know I am God
  193. بشندازتے چوں حکایت می کنند از جُدائی ہا شکایت می کند
  194. مذکورہ مضمون بھی اسی طرح بلا دلیل بیانات پر مشتمل ہے۔
  195. 19جولائی2005
  196. 20جولائی2005
  197. 26جولائی2005
  198. 27جولائی2005
  199. 28جولائی2005
  200. 29جولائی2005
  201. 30جولائی2005
  202. 31جولائی2005
  203. بعد از خدا بزرگ کوئی قصہ مختصر
  204. وہی جو شنوئی عرش تھا خدا ہوکر اُترپڑاہے مدینے میں مفطفیٰ ہوکر
  205. مسلمانوں کے عروج وزوال کا راز
  206. موجودہ زمانے میں ہرمسلم جماعت اس قسم کی بے بنیاد خوش فہمی میں مبتلا ہے۔
  207. People are searching for purpose and meaning in their lives (P-16)
  208. By dying on the cross, Jessus look the sins of the world upon him (P-16)
  209. الحکمۃ ضالۃ المؤمن، حیث وجدھا فہوأ حق بہا
  210. (حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ جہاں اس کو پائے اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے)
  211. 11اگست2005
  212. 12اگست2005
  213. 13اگست2005
  214. 17اگست2005
  215. 18اگست2005
  216. 19اگست2005
  217. لن یصلوااِلیک
  218. 23اگست2005
  219. وحید الدین، نئی دہلی22اگست2005
  220. 28اگست2005
  221. 30اگست2005
  222. 31اگست2005
  223. یکم ستمبر2005
  224. لقد خلقنا الانسان فی أحسن تقویم ثم رددناہ أسفل سافلین
  225. وددت أفی قدرأیتا اخواننا (المؤطا)
  226. 8ستمبر2005
  227. 9ستمبر2005
  228. 14ستمبر2005
  229. 15ستمبر2005
  230. 16ستمبر2005
  231. 17ستمبر2005
  232. 18ستمبر2005
  233. 20ستمبر2005
  234. خداشرّے بَرانگیزد کہ خبرمادراں باشد
  235. 24ستمبر2005
  236. 25ستمبر2005
  237. 27ستمبر2005
  238. 28ستمبر2005
  239. 29ستمبر2005
  240. یکم اکتوبر2005
  241. داتا، ایک رام، بھکاری ساری دنیا رام ایک دیوتا، پجاری ساری دنیا
  242. 4اکتوبر2005
  243. 5اکتوبر2005
  244. 7اکتوبر2005
  245. 8 اکتوبر 2005
  246. 11اکتوبر2005
  247. 12اکتوبر2005
  248. 25اکتوبر2005
  249. 26اکتوبر2005
  250. 27اکتوبر2005
  251. من لم یشکر الناس لم یشکراللہ
  252. (سنن ادبی داؤد: الجرا الرابع، صفحہ:257-256باب فی شکر المعروف)
  253. (مسند الامام احمد بن حنبل، المجلد الرابع، صفحہ278)
  254. 3نومبر2005
  255. بناکر دندخوش رسمےبخاک وخون غلطیدن خدارحمت کندایں عاشقان پاک طفیت را
  256. یہ شہادت بآمہ الفت میں قدم رکھتا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
  257. 15نومبر2005
  258. Salem wept in car on way from airport
  259. ایک خط
  260. مکرمی مولانا یحییٰ نعمانی ندوی، ایڈیٹر ماہنامہ الفرقان لکھنؤ228013-
  261. السلام علیکم ورحمۃ اللہ
  262. حکمت ولی اللہ کی عصری معنویت
  263. وحید الدین،6دسمبر2005
  264. دوسرا خط
  265. برادرِ محترم مولانا یحییٰ نعمانی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
  266. نئی دہلی وحید الدین،7جنوری2006
  267. Dr. Ghislaine Loyre
  268. IRSEA (CNRS)
  269. 1, rue Lavoisier, 75008 Paris France
  270. Tel: 0033-6-8385 3063
  271. IRSEA: Research Institute for Southeasr Asia
  272. CNRS: French Natloual Research Center (Marseille)
  273. Thousands of British Elite Embrance Islam

CNRS: French Natloual Research Center (Marseille)

یہ خاتون فرانسیسی حکومت کے ایک پروجیکٹ کے تحت انڈیا آئی ہیں۔ ان کاکام یہ ہے کہ وہ ہندوستان کی مسلم اقلیت کے مسائل پر ریسرچ کرکے اس کی رپورٹ اپنی حکومت کو پیش کریں۔ میں نے ان کو اپنی کچھ انگریزی کتابیں دیں۔ موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دنیا میں ستاون مسلم ملک ہیں۔ مگر ہندوستان کے مسلمان ان تمام ملکوں سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ میں نے کہا کہ ترقی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت مواقع کی ہوتی ہے۔ یہ مواقع ہندوستان میں سب سے زیادہ موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں اپنی آزادی اور سیکولرازم ہے۔ یہ تینوں چیزیں ترقی کے لیے بے حد اہم ہیں مگر یہ تینوں چیزیں کسی بھی مسلم ملک میں نہیں پائی جاتیں۔ اس سلسلے میں میں نے متعدد تقابلی مثالیں دیں۔

خاتون بہت دیر تک ہمارے دفتر میں رہیں۔ جاتے ہوئے انہوں نے ہمارے ساتھی مسٹر خالد انصاری سے کہا کہ تمہارے مولانا جو بات کہتے ہیں وہ اپیکنگ بھی ہے اور کنولسنگ بھی۔ لیکن اگر میں ان کی بات مان لوں تو میری ریسرچ پر فل اسٹاپ لگ جائے گا۔ مجھے ایسی ریسرچ کو یہیں ختم کرکے پیرس واپس جانا پڑے گا۔

میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم چند دن کے لیے لاہور گئی تھیں۔ عیسائی حضرات کی طرف سے لاہور میں ایک سمینار کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر انہوں نے اس میں شرکت کی۔ آج واپسی کے بعد انہوں نے بتایا کہ لاہور میں الرسالہ کا پیغام کافی لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ اور عام طور پر لوگ اس سے متفق ہیں۔ جناب احسن لہامی اور مولانا جاوید ظاہری نے کئی اجتماع کئے۔ ان اجتماعات میں انہوں نے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال وجواب ہوا مگر کسی نے بھی کوئی مخالفانہ سوال نہیں کیا۔

یہ پاکستان میں ایک تبدیلی کی علامت ہے۔ پچھلے سالوں میں پاکستان کے لوگ میرے مخالف بن گئے تھے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ واقعات نے پاکستانی مسلمانوں کی فکر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اب وہ جہاد اور سیاست کے سابقہ نظریات کو چھوڑکر الرسالہ کے پرامن پیغام کو سمجھنے کی طرف راغب ہوگئے ہیں۔ ان لوگوں نے مجھے پاکستان آنے کی دعوت بھی دی ہے۔

قرآن میں بعد کے زمانے کی ایک پیشگی خبر ان الفاظ میں دی گئی ہے:

سنرئیم آیاتنا فی الأفاق وی أنفسہم حتی یبن لہم أنہ الحق (حم السجدہ:) اس آیت پر غور کرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ دلائل کی روشنی میں یہ واضح ہوجائے گا صرف اسلام واحد صداقت ہے یعنی اسلام بلا مقابلہ کامیابی (Unopposedvictory)کی پوزیشن میں ہوجائے گا۔ اسلام کے سوا دوسرے نظریات قابل رد قرار دیا جائیں گے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کنتم خیرأمۃ أخرجت للناس (آل عمران: )کافی مطالعے کے بعد میں یہ سمجھا ہوں کہ اس آیت میں خیرامت سے مراد مسلم ملت نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ العصابۃ ہے جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر آپ نے فرمایا تھا: اللہم ان ترملک ھذہ العصابۃ لن تعبد بعدھافی الارض۔

اس آیت میں ’’اِخراج‘‘ کا لفظ بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لمبے تاریخی عمل کے بعد یہ گروہ وجود میں آیا ہے یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈھائی ہزار سال پہلے ہاجرہ ام اسماعیل کو مکہ کے صحرا میں بسایا گیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ اسی تاریخی عمل کا نقطۂ عروج تھے

They were the culmination of a historical process of more than 2,500 years.

قرآن کے سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ غیر مسلم محققین اس بات میں تو شک کرتے ہیں کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔ مگر اس میں کسی بھی غیر مسلم محقق کو شک نہیں کہ موجودہ قرآن ٹھیک وہی قرآن ہے جو پیغمبر اسلام نے خدا کے کلام کی حیثیت سے انسان کو دیا تھا۔ تقریباً تمام غیر مسلم محققین یہ مانتے ہیں کہ قرآن خود پیغمبر اسلام کے زمانے میں لکھا جاچکا تھا۔ مثلاً انگریزی مورخ سرولیم میور (Sir William Mur)نے اپنی کتاب حیات محمد (The Life of Mohammad)میں لکھتے ہیں:

There is probabily in the world no their book which has remained twelve centuries with so pure a text (Chapter 1)

دنیا میں غالباً دوسری ایسی کوئی کتاب موجود نہیں، جس کا متن بارہ صدیوں سے اس طرح خاصل رہ سکا ہو۔

یہ ایک واقعہ ہے کہ قرآن کے سوا دوسری کسی بھی کتاب کے بارے میں محققین اس کو نہیں انتے کہ وہ اپنی ابتدائی حالت میں محفوظ ہے۔

عہد اوّل میں قرآن کی کتابت کے بارے میں بہت لکھاگیا ہے۔ مگر یہ سوال ابھی تک واضع نہیں کہ یہ کتابت کس چیز پر ہوئی۔ اس سلسلے میں کتابوں میں جو الفاظ آتے ہیں وہ یہ ہوتے ہیں۔ ہڈی، جھلّی، چمڑہ وغیرہ مگر یہ بات قابل فہم نہیں ہے کہ قرآن صرف انہیں چیزوں پر لکھا گیا ہو۔ کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں زیدبن ثابت انصاری کی رہنمائی میں جب قرآن جمع کیا گیا تو اس کو از اوّل تا آخر لکھا گیا۔ اور اس کی بائنڈنگ کی گئی۔ یہ ایک چوکور کتاب تھی جس کا نام ربعہ کتابوں میں آتا ہے۔ یہ ناقابل فہم ہے کہ یہ ربعہ ہڈی اور جھلی اور چمڑہ جیسی چیز کے ذریعے بتایا گیا ہو۔

قرآن میں قرطاس کا لفظ آیا ہے۔ جس کا معنی کاغذ کے ہیں تاریخ سے ثابت ہے کہ عہد نبوت میں مصر اور چین میں ابتدائی قسم کا کاغذ بنایا جانے لگا تھا اور سوداگروں کے ذریعے وہ شوسرے ملکوں میں پہنچتا تھا۔ اس کو پپائرس (Papyrus)کہا جاتا تھا۔ یہ معلوم ہے کہ اس زمانے میں چین کا بنا ہوا آئینہ مدینے کے بازار میں فروخت ہوتا تھا۔ ایسی حالت میں پپائرس بھی ضرور وہاں سے آنا چاہیے۔ مگر ہماری کتابوں سے واضع طر پر اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ حیات میں سمجھتاہوں کہ فرانس کا قدیم نسخہ جو لکھ کر تیار کیا گیا تھا وہ اس پپائرس پر لکھ کر تیار کیا گیا تھا۔ اس پپائرس کو موجودہ زمانے میں پیپر(ٖPaper)کہا جاتا ہے۔

مومنانہ زندگی میں شاید سب سے سخت لمحہ وہ ہے جب کہ مومن کو خصوصی ٹسٹ (test)پر پورااُترنا ہوتا ہے۔ مومن اپنی زندگی کا آغاز نصرت الہی کے یقین سے کرتا ہے، لیکن درمیان میں بار بر ایسے تجربے پیش آتے ہیں جو بظاہر یہ بتاتے ہیں کہ اسباب کا قانون مومن کے لیے بھی اسی طرح مؤثرہے جس طرح غیر مومن کے لیے۔ یہ تجربہ مومن کے لیے شک کا باعث بنتا ہے۔ وہ گمان کرنے لگتا ہے کہ کیا نصرت کے بارے میں خدا کا وعدہ سچا نہ تھا یہ معاملہ عام اہل ایمان کے ساتھ خود پیغمبر کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔

اس معاملے میں شک اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب اس کو قانون نصرت کے ساتھ جوڑکر دیکھا جائے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ اس قسم کا معاملہ قانون امتحان کے ساتھ جڑاہوا ہے۔ مومن کے ساتھ نصرت کا وعدہ ضرور ہے۔ مگر کسی کے لیے بھی اس دنیا میں امتحان کا قانون منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔ کسی معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ صحیح ریفرنس میں کیا جائے۔ ریفرنس کو بدلنا ہمیشہ کنفیوژن پیدا کرتا ہے مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قتال کا جو معاملہ پیش آیا اس کو مرحلۂ دعوت کے طور پر دیکھا جائے تو یہ غلط ہوگا۔ صحیح یہ ہے کہ قتال کے معاملے کو قائم شدہ حکومت کے اوپر خارجی جملے کے ریفرنس میں دیکھا جائے۔ یعنی اگر حملہ نہ ہوتا تو قتال بھی نہ ہوتا ، اگرچہ دعوت پھر بھی مسلسل جاری رہتی۔

اکثر مسلمان مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ کی تحریروں میں ابوبکر اور عمر کا نام آتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھاہوا نہیں ہوتا۔ یا محمد کا نام آتا ہے مگر اس کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہوانہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک یہ بات بے حد قابل اعتراض ہے۔ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ جس چیز کو ایمان سمجھتے ہیں وہ تاریخ پر ایمان لانا ہے نہ کہ رسول اور اصحاب رسول پر ایمان لانا۔ مکّی دور میں جو لوگ رسول اللہ پر ایمان لائے ان کا ایمان آپ لوگوں سے مختلف تھا۔ اس وقت رسول اللہ کی پشت پر عظمت کی تاریخ نہیں بنی تھی۔ اس وقت آپ اپنی مجرد صورت میں تھے۔ مکی دور کے مومنین نے رسول اللہ کو جوہر کی بنیاد پر پہچانا تھا۔ جب آپ لوگ تاریخی عظمتوں کے حوالے سے رسول اللہ کو پہچانتے ہیںتو صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کرکے آپ اس معرفت کو نہیں پاسکتے جو صحابہ کو حاصل تھی صحابہ والی معرفت رسول کسی کو اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ بعد کو بننے والی تاریخی عظمتوں کے بغیر رسول اللہ پہچانے۔

میرا معاملہ یہ ہے کہ میں پیدائشی طور پر ظواہر کو بے حقیقت سمجھتا ہوں۔ میں اپنے پیدائشی مزاج کی بناپر تاریخی عظمتوں کو کبھی بھی نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک عظمت کسی تاریخ سے اخذنہیں ہوتی بلکہ وہ انسان کی داخلی شخصیت کے اعتبار سے متعین ہوتی ہے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر میرے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ میں نے اللہ کے فضل سے تاریخی عظمتوں کو حذف کرکے رسول کو پہچانا۔ اسی طرح ابوبکر اور عمر کو بھی میں نے ان کے گرد بننے والی تاریخی عظمتوں سے الگ کرکے انہیں پہچانا۔ اس لیے میری معرفت رسول یا معرفت صحابہ مجرد معرفت کی حیثیت رکھتی ہے۔ میری معرفت کسی بھی تاریکی عظمت پر منحصر نہیں۔

اسلام آباد (پاکستان) میں ایک تعلیمی ادارہ اسلامک یونیورسٹی کے نام سے قائم ہے۔ اس میں ایک شعبہ دعوہ اکیڈمی کے نام سے ہے۔ اس شعبہ کے تحت یا ایک انگریزی ماہنامہ دعوہ ہائی لائٹس(Dawah Highlights)کے نام سے نکلا ہے۔ اس کے شمارہ جولائی2005میں ایک مضمون چھپا ہے۔ جس کا عنوان یہ ہے: