Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
CNRS: French Natloual Research Center (Marseille)
یہ خاتون فرانسیسی حکومت کے ایک پروجیکٹ کے تحت انڈیا آئی ہیں۔ ان کاکام یہ ہے کہ وہ ہندوستان کی مسلم اقلیت کے مسائل پر ریسرچ کرکے اس کی رپورٹ اپنی حکومت کو پیش کریں۔ میں نے ان کو اپنی کچھ انگریزی کتابیں دیں۔ موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دنیا میں ستاون مسلم ملک ہیں۔ مگر ہندوستان کے مسلمان ان تمام ملکوں سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ میں نے کہا کہ ترقی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت مواقع کی ہوتی ہے۔ یہ مواقع ہندوستان میں سب سے زیادہ موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں اپنی آزادی اور سیکولرازم ہے۔ یہ تینوں چیزیں ترقی کے لیے بے حد اہم ہیں مگر یہ تینوں چیزیں کسی بھی مسلم ملک میں نہیں پائی جاتیں۔ اس سلسلے میں میں نے متعدد تقابلی مثالیں دیں۔
خاتون بہت دیر تک ہمارے دفتر میں رہیں۔ جاتے ہوئے انہوں نے ہمارے ساتھی مسٹر خالد انصاری سے کہا کہ تمہارے مولانا جو بات کہتے ہیں وہ اپیکنگ بھی ہے اور کنولسنگ بھی۔ لیکن اگر میں ان کی بات مان لوں تو میری ریسرچ پر فل اسٹاپ لگ جائے گا۔ مجھے ایسی ریسرچ کو یہیں ختم کرکے پیرس واپس جانا پڑے گا۔
میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم چند دن کے لیے لاہور گئی تھیں۔ عیسائی حضرات کی طرف سے لاہور میں ایک سمینار کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر انہوں نے اس میں شرکت کی۔ آج واپسی کے بعد انہوں نے بتایا کہ لاہور میں الرسالہ کا پیغام کافی لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ اور عام طور پر لوگ اس سے متفق ہیں۔ جناب احسن لہامی اور مولانا جاوید ظاہری نے کئی اجتماع کئے۔ ان اجتماعات میں انہوں نے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال وجواب ہوا مگر کسی نے بھی کوئی مخالفانہ سوال نہیں کیا۔
یہ پاکستان میں ایک تبدیلی کی علامت ہے۔ پچھلے سالوں میں پاکستان کے لوگ میرے مخالف بن گئے تھے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ واقعات نے پاکستانی مسلمانوں کی فکر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اب وہ جہاد اور سیاست کے سابقہ نظریات کو چھوڑکر الرسالہ کے پرامن پیغام کو سمجھنے کی طرف راغب ہوگئے ہیں۔ ان لوگوں نے مجھے پاکستان آنے کی دعوت بھی دی ہے۔
قرآن میں بعد کے زمانے کی ایک پیشگی خبر ان الفاظ میں دی گئی ہے:
سنرئیم آیاتنا فی الأفاق وی أنفسہم حتی یبن لہم أنہ الحق (حم السجدہ:) اس آیت پر غور کرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ دلائل کی روشنی میں یہ واضح ہوجائے گا صرف اسلام واحد صداقت ہے یعنی اسلام بلا مقابلہ کامیابی (Unopposedvictory)کی پوزیشن میں ہوجائے گا۔ اسلام کے سوا دوسرے نظریات قابل رد قرار دیا جائیں گے۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کنتم خیرأمۃ أخرجت للناس (آل عمران: )کافی مطالعے کے بعد میں یہ سمجھا ہوں کہ اس آیت میں خیرامت سے مراد مسلم ملت نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ العصابۃ ہے جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر آپ نے فرمایا تھا: اللہم ان ترملک ھذہ العصابۃ لن تعبد بعدھافی الارض۔
اس آیت میں ’’اِخراج‘‘ کا لفظ بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لمبے تاریخی عمل کے بعد یہ گروہ وجود میں آیا ہے یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈھائی ہزار سال پہلے ہاجرہ ام اسماعیل کو مکہ کے صحرا میں بسایا گیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ اسی تاریخی عمل کا نقطۂ عروج تھے
They were the culmination of a historical process of more than 2,500 years.
قرآن کے سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ غیر مسلم محققین اس بات میں تو شک کرتے ہیں کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔ مگر اس میں کسی بھی غیر مسلم محقق کو شک نہیں کہ موجودہ قرآن ٹھیک وہی قرآن ہے جو پیغمبر اسلام نے خدا کے کلام کی حیثیت سے انسان کو دیا تھا۔ تقریباً تمام غیر مسلم محققین یہ مانتے ہیں کہ قرآن خود پیغمبر اسلام کے زمانے میں لکھا جاچکا تھا۔ مثلاً انگریزی مورخ سرولیم میور (Sir William Mur)نے اپنی کتاب حیات محمد (The Life of Mohammad)میں لکھتے ہیں:
There is probabily in the world no their book which has remained twelve centuries with so pure a text (Chapter 1)
دنیا میں غالباً دوسری ایسی کوئی کتاب موجود نہیں، جس کا متن بارہ صدیوں سے اس طرح خاصل رہ سکا ہو۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ قرآن کے سوا دوسری کسی بھی کتاب کے بارے میں محققین اس کو نہیں انتے کہ وہ اپنی ابتدائی حالت میں محفوظ ہے۔
عہد اوّل میں قرآن کی کتابت کے بارے میں بہت لکھاگیا ہے۔ مگر یہ سوال ابھی تک واضع نہیں کہ یہ کتابت کس چیز پر ہوئی۔ اس سلسلے میں کتابوں میں جو الفاظ آتے ہیں وہ یہ ہوتے ہیں۔ ہڈی، جھلّی، چمڑہ وغیرہ مگر یہ بات قابل فہم نہیں ہے کہ قرآن صرف انہیں چیزوں پر لکھا گیا ہو۔ کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں زیدبن ثابت انصاری کی رہنمائی میں جب قرآن جمع کیا گیا تو اس کو از اوّل تا آخر لکھا گیا۔ اور اس کی بائنڈنگ کی گئی۔ یہ ایک چوکور کتاب تھی جس کا نام ربعہ کتابوں میں آتا ہے۔ یہ ناقابل فہم ہے کہ یہ ربعہ ہڈی اور جھلی اور چمڑہ جیسی چیز کے ذریعے بتایا گیا ہو۔
قرآن میں قرطاس کا لفظ آیا ہے۔ جس کا معنی کاغذ کے ہیں تاریخ سے ثابت ہے کہ عہد نبوت میں مصر اور چین میں ابتدائی قسم کا کاغذ بنایا جانے لگا تھا اور سوداگروں کے ذریعے وہ شوسرے ملکوں میں پہنچتا تھا۔ اس کو پپائرس (Papyrus)کہا جاتا تھا۔ یہ معلوم ہے کہ اس زمانے میں چین کا بنا ہوا آئینہ مدینے کے بازار میں فروخت ہوتا تھا۔ ایسی حالت میں پپائرس بھی ضرور وہاں سے آنا چاہیے۔ مگر ہماری کتابوں سے واضع طر پر اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ حیات میں سمجھتاہوں کہ فرانس کا قدیم نسخہ جو لکھ کر تیار کیا گیا تھا وہ اس پپائرس پر لکھ کر تیار کیا گیا تھا۔ اس پپائرس کو موجودہ زمانے میں پیپر(ٖPaper)کہا جاتا ہے۔
مومنانہ زندگی میں شاید سب سے سخت لمحہ وہ ہے جب کہ مومن کو خصوصی ٹسٹ (test)پر پورااُترنا ہوتا ہے۔ مومن اپنی زندگی کا آغاز نصرت الہی کے یقین سے کرتا ہے، لیکن درمیان میں بار بر ایسے تجربے پیش آتے ہیں جو بظاہر یہ بتاتے ہیں کہ اسباب کا قانون مومن کے لیے بھی اسی طرح مؤثرہے جس طرح غیر مومن کے لیے۔ یہ تجربہ مومن کے لیے شک کا باعث بنتا ہے۔ وہ گمان کرنے لگتا ہے کہ کیا نصرت کے بارے میں خدا کا وعدہ سچا نہ تھا یہ معاملہ عام اہل ایمان کے ساتھ خود پیغمبر کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔
اس معاملے میں شک اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب اس کو قانون نصرت کے ساتھ جوڑکر دیکھا جائے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ اس قسم کا معاملہ قانون امتحان کے ساتھ جڑاہوا ہے۔ مومن کے ساتھ نصرت کا وعدہ ضرور ہے۔ مگر کسی کے لیے بھی اس دنیا میں امتحان کا قانون منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔ کسی معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ صحیح ریفرنس میں کیا جائے۔ ریفرنس کو بدلنا ہمیشہ کنفیوژن پیدا کرتا ہے مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قتال کا جو معاملہ پیش آیا اس کو مرحلۂ دعوت کے طور پر دیکھا جائے تو یہ غلط ہوگا۔ صحیح یہ ہے کہ قتال کے معاملے کو قائم شدہ حکومت کے اوپر خارجی جملے کے ریفرنس میں دیکھا جائے۔ یعنی اگر حملہ نہ ہوتا تو قتال بھی نہ ہوتا ، اگرچہ دعوت پھر بھی مسلسل جاری رہتی۔
اکثر مسلمان مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ کی تحریروں میں ابوبکر اور عمر کا نام آتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھاہوا نہیں ہوتا۔ یا محمد کا نام آتا ہے مگر اس کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہوانہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک یہ بات بے حد قابل اعتراض ہے۔ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ جس چیز کو ایمان سمجھتے ہیں وہ تاریخ پر ایمان لانا ہے نہ کہ رسول اور اصحاب رسول پر ایمان لانا۔ مکّی دور میں جو لوگ رسول اللہ پر ایمان لائے ان کا ایمان آپ لوگوں سے مختلف تھا۔ اس وقت رسول اللہ کی پشت پر عظمت کی تاریخ نہیں بنی تھی۔ اس وقت آپ اپنی مجرد صورت میں تھے۔ مکی دور کے مومنین نے رسول اللہ کو جوہر کی بنیاد پر پہچانا تھا۔ جب آپ لوگ تاریخی عظمتوں کے حوالے سے رسول اللہ کو پہچانتے ہیںتو صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کرکے آپ اس معرفت کو نہیں پاسکتے جو صحابہ کو حاصل تھی صحابہ والی معرفت رسول کسی کو اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ بعد کو بننے والی تاریخی عظمتوں کے بغیر رسول اللہ پہچانے۔
میرا معاملہ یہ ہے کہ میں پیدائشی طور پر ظواہر کو بے حقیقت سمجھتا ہوں۔ میں اپنے پیدائشی مزاج کی بناپر تاریخی عظمتوں کو کبھی بھی نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک عظمت کسی تاریخ سے اخذنہیں ہوتی بلکہ وہ انسان کی داخلی شخصیت کے اعتبار سے متعین ہوتی ہے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر میرے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ میں نے اللہ کے فضل سے تاریخی عظمتوں کو حذف کرکے رسول کو پہچانا۔ اسی طرح ابوبکر اور عمر کو بھی میں نے ان کے گرد بننے والی تاریخی عظمتوں سے الگ کرکے انہیں پہچانا۔ اس لیے میری معرفت رسول یا معرفت صحابہ مجرد معرفت کی حیثیت رکھتی ہے۔ میری معرفت کسی بھی تاریکی عظمت پر منحصر نہیں۔
اسلام آباد (پاکستان) میں ایک تعلیمی ادارہ اسلامک یونیورسٹی کے نام سے قائم ہے۔ اس میں ایک شعبہ دعوہ اکیڈمی کے نام سے ہے۔ اس شعبہ کے تحت یا ایک انگریزی ماہنامہ دعوہ ہائی لائٹس(Dawah Highlights)کے نام سے نکلا ہے۔ اس کے شمارہ جولائی2005میں ایک مضمون چھپا ہے۔ جس کا عنوان یہ ہے: