’’اصول کی بنیاد پر چپ ہونا بہادری ہے اور مصلحت کی بنیاد پر چپ ہونا بزدلی‘‘
Diary 2005 — Maulana Wahiduddin Khan
Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
’’اصول کی بنیاد پر چپ ہونا بہادری ہے اور مصلحت کی بنیاد پر چپ ہونا بزدلی‘‘
مولانا جمال صاحب دارالعلوم ندوہ کے فارغ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مولانا علی میاں کے گہرے معتقدین میں سے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ رہے ہیں۔ اور ایک پروگرام کے تحت مولانا علی میاں کو اپنے وطن کوپاگنج میں لے گیے ہیں۔ یہاں مولانا کا قیام انہیں کے گھر پر تھا۔
میں نے سوچا کہ مدرسے سے فراغت اور مولانا علی میاں کی لمبی محبت کے باوجود جمال ندوی کیوں اس قابل نہ ہوسکے کہ وہ الرسالہ کے مذکورہ قبول کو سمجھ سکے۔ حالاں کہ وہ بظاہر وہ ایک ذہین آدمی معلوم ہوتے تھے اور بنارسی ساڑی کا کامیاب کاروبار کررہے ہیں۔
اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ موجودہ زمانے میں ہمارے ادارے اور ہماری شخصیتیں زیادہ تر نمائشی قسم کے کام کررہے ہیں وہ انسان کے اندر تفسیر کی صلاحیت پیدا کرنے میں کامیاب نہیں۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے پوچھا کہ محجوب پوتے کی وراثت کے معاملے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ مسئلے کسی واضح نص کی بناپر نہیں ہے کیوں کہ قرآن اور حدیث میں اس قسم کا کوئی حکم نہیں ملتا۔ یہ مسئلہ فقہ میں سناہے اور وہ خلیفہ ابوبکر صدیق کے ایک غیر واضح قول ماخوذ ہے۔ انہوں نے کہا تھا: الحج اَب۔ یعنی محجوب پوتے کے لیے اسی کا دادا ہی اس کا باپ ہے۔
میرے نزدیک اس معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ محجوب پوتے کی وراثت محجوب ہونے کے باوجود برقرار رہتی ہے۔ وہ منسوخ نہیں ہوتی۔ البتہ محجوب ہونے کی بناپر چوں کہ درمیان کی وراثتی کڑی بظاہر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے اس کی وراثت کے لیے کس قدر مختلف طریقہ رکھ گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس مقابلے میں ذمہ داری داداکی ہے۔ دادا کو چاہیے کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے اپنے محجوب پوتے کو اس کی پوری وراثت دے دے۔ اور اگر کسی وجہ سے دادا یہ مداخلت نہ کرے تو میرے نزدیک محجوب پوتے کو یہ حق ہے کہ وہ عدالت میں جاکر اپنا وراثتی عدالتی فیصلہ کے تحت حاصل کرے۔
قرق کا یہ طریقہ شریعت کے دوسرے معاملات میں بھی رکھا گیا ہے۔ مثلاً: طلاق کا معاملہ، جہاں تک شوہر کا تعلق ہے وہ خود اپنے فیصلے کے تحت اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مگر بیوی کے لیے بعد کا طریقہ ہے۔ یعنی بیوی عدالت سے رجوع کرے اور عدالتی فیصلے کے تحت تفریق کرائے۔
مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں طویل عرصے سے یہ تحریک چل رہی تھی کہ اس میں مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جائے۔ مسلمانوں کے تمام نام نہادرہنما اس تحریک میں شامل رہے ہیں۔ایک زمانے میں مولانا علی میاں، مولانا منظورنعمانی، ڈاکٹر فریدی، مولانا محمد مسلم وغیرہ پُرجوش طور پر اس مہم میں شامل تھے۔ اب موجودہ کانگریسی حکومت نے مسلم یونیورسٹی میں مسلمانوں کو50فیصد کا ریزرویشن دے دیا ہے۔ میں نے اس خبرکو دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا (20مئی2005)اس میں ریزرویشن کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ: