Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پچھلے تقریباً25سال سے میرے خلاف بدترین قسم کے چھوٹے پروپیگنڈے کیے جارہے ہیں۔ پروپیگنڈے کی اس مہم میں تقریباً تمام مسلمان براہ راست یا بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ اس پوری مدت میں کوئی ایک بھی ایسا قابل ذکر مسلمان نہیں نکلا، جو میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں پر نکیرکرے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہےکہ موجودہ زمانے کے مسلمان میری سطح پر جانچے گئے اور کچھ لوگوں کو چھوڑکر سب سے سب فیل ہوگئے۔ اس طرح یہ سارے مسلمان گویا ایکسپوز ہوگئے۔ قرآن میں بتایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کے ذریعے یہود پر لعنت کی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت مسیح نے کہا اے یہودیو! تم ملعون ہو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح کے ذریعہ یہود کو ایکسپوز کردیا گیا۔
انڈیا کے ایک شہر میں ہمارے اسلامی مرکز کی ایک برانچ مستقل بلڈنگ میں قائم کی گئی۔ یہ بلڈنگ قانونی طور پر اسلامی مرکز کی بلڈنگ تھی۔ ایک صاحب جو اس برانچ میں بطورکارکن تھے، انہوں نے غلط تدبیر کرکے اس بلڈنگ پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد وہ مستقل طور پر ہمارے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے لگے۔ ہماری بلڈنگ کو انہوں نے ہمارے خلاف تخریبی کارروائیوں کا مرکز بنالیا۔
اس واقعہ کو میں صرف ایک استثنائی واقعہ سمجھا تھا۔ مگر پچھلے سالوں میں ساری دنیا میں یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ مسلمان یورپ اور امریکہ کے شہروں میں جاکر آباد ہوئے اور پھر وہاں رہتے ہوئے ان ملکوں کے خلاف تخریبی کارروائی شروع کردی۔ اس کی تازہ مثال 7جولائی2005کو ہونے والا لندن کا بم دھماکہ ہے۔
اس تجربے کے بعد اب میں سمجھا ہوں کہ پوری مسلم قوم کا کیریکٹر تقریباً وہی ہوگیا ہے جو ہمارے مرکزکی شاخ میں پیش آیا۔ غالباً مسلمانوں کے زوال کا یہی وہ پہلو ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں سے امانت (Honesty)رکھی جائے گی۔
مولانا محمد نعمان قاسمی(42سال) سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ دعاکیا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر عُمرہ اداکرنے کے لیے مدینے سے مکے جارہے تھے روانگی کے وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئے۔ آپ نے حضرت عمر کو رخصت کرتے ہوئے فرمایا:
یا اُخیَّ! لا تفسنا فی دعائک (اے میرے چھوٹے بھائی! اپنی دعا میں ہم کو فراموش نہ کرنا)
اس حدیث کا مطلب کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ایک نکتے کو جاننا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اس قول رسول میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ دعا کی اصل حقیقت کیا ہے۔ بلکہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو باہمی ملاقات میں کس طرح کے کلمات بولنا چاہیے۔ یہ قول حقیقت دعا کو بتانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ حقیقت مودّت کو بتانے کے لیے ہے۔ دعا انتہائی طور پرخدا اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے۔ دعا دراصل ایک گہرا روحانی تجربہ ہے جب کہ عاجز مطلق کا ربط قادر مطلق سے قائم ہوتا ہے دعا میں کسی بھی قسم کی شرکت حقیقت دعا کی تقی ہے۔
یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان باہمی طور پر مودّت اور اخلاص کا تعلق ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر ایک صحابی اپنے چھوٹے بچے کو لے کر رسول اللہ کے پاس آئے، یہ بچہ اپنے گھر پر ایک چڑیا پالے ہوئے تھا رسول اللہ نے اس سے بات کرتے ہوئے کہا:
یا أبا عمیر، ما فعل النغر!
اس قول رسول سے اگر کوئی شخص یہ مطلب نکالے کہ رسول اللہ کی ایک سنت یہ ہے کہ لوگوں نے ان کے پالتو جانوروں کے بارے میں گفتگو کی جائے تو یہ اسناط غلط ہوگا کیوں یا أباعمیر، ما فعل السفر کا قول پالتو جانوروں کے بارے میں سنت رسول کو بتانے کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ رحمت اور مودّت کا ایک کلمہ ہے جو پیغمبر نے ایک بچے کے ساتھ اختیار فرمایا۔