Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا:لوکان موسیٰ حیّا ماوسعہ الّا اتباعی (موسیٰ اگر زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میرا اتباع ضروری ہوتا) اس حدیث کو عام طور پر فضیلت محمدؐ کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ یہ دراصل ڈسپلن کی حدیث ہے نہ کہ فضیلت کی حدیث۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی زمانے میں دو پیغمبر کسی ایک مقام پر ہوں، تو لازماً ایسا ہوگا کہ ایک نبی کو دوسرے نبی متبع بننا پڑے گا۔ ایسا نظم کے تقاضے کی بناپر ہوگا نہ کہ فضیلت کے تقاضے کی بناپر۔ اس کی ایک مثال موسیٰ اور ہارون کی ہے۔ دونوں ہم عصر اور ہم مقام پیغمبر تھے۔ مگر حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ کے اتباع میں کام کرنا پڑا۔
شاہ عمران حسن صاحب (بہار) کے ایک خط کا جواب دیتے ہوئے میں نے لکھا۔۔۔’’آدمی کو چاہیے کہ وہ زیادہ مفید کام میں اپنا وقت لگائے۔ کم مفید کام میں وقت لگانا اتنا ہی زیادہ بے معنی ہے جتنا کہ بے فائدہ کام میں وقت لگانا‘‘۔
جون کے پہلے ہفتے میں مظفرنگر کے ایک گاؤں میں ایک واقعہ ہوا۔ ایک خسرنے اپنی بہوں کے ساتھ زنا کا فعل کیا۔ یہ مسئلہ دیوبند کے دارالافتا تک پہنچا۔ مفتی صاحبان نے فتویٰ دے دیا کہ وہ عورت اب اپنے شوہر کے لیے حرام ہوگئی اور وہ اب اپنے خسر کی بیوی بن گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں زبردست مسئلے پیدا ہوئے اور وہ اب تک جاری ہیں۔
یہ فتویٰ بلا شبہہ ایک لغو فتویٰ ہے۔ یہ دراصل حنفی فقہ کی ایک غلط مسئلے پر قائم ہے۔ اس معاملے میں فقہ حنفی اور فقہ شافعی میں اختلاف ہے۔ فقہ شافعی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان رشتے نکاح سے قائم ہوتے ہیں اس کے برعکس فقہ حنفی میں یہ مانا گیا ہے کہ زنا سے بھی وہ تمام رشتے قائم ہوتے ہیں جو نکاح کے ذریعہ قائم ہوتے ہیں۔ دیوبند کے مفتی صاحبان نے اس معاملے میں فقہ حنفی کی تقلید کرتے ہوئے مذکورہ فتویٰ دے دیا۔
ابوحنیفہ کو اپنے زمانے میں قیاس کہا جاتا تھا، انہوں نے اور ان کے بعد ان کے شاگردوں نے قیاس کی بنیاد پر ہزاروں فتوے دے دئیے۔ انہیں میں سے مذکورہ فتویٰ بھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں اس قسم کے قیاسی اسلام کے خلاف بدنامی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان قیاسی فتوؤں کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو شاعر نے کہا تھا: