Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
شکر خداوندی کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں ان میں یہ الفاظ آئے ہیں: التحدّث بنعمۃ اللہ شکر ، وترکھا کفیہ (مسنداحمد) یعنی اللہ کی نعمت کا چرچا کرنا شکر ہے اور اس کا چرچا نہ کرنا کفر ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ آدمی جب کوئی بڑی چیز پاتا ہے تو اس کا سینہ ممنونیت کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ وہ اس کا بار بار ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت میں اگر کسی شخص کو ممنونیت کا تجربہ ہو مگر اس کی زبان سے اس کا اظہار نہ ہوتو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ احساس ممنونیت سے خالی ہے۔
خداپر شکرکرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی کو خود اپنے لیے کوئی چیز ملے تو وہ خدا پر شکر ادادکرے۔ اس قسم کا شکر بہت چھوٹا شکر ہے۔ حقیقی شکریہ ہے کہ انسانیت عام کو خدا کی طرف سے جو نعمتیں دی گئی ہیں۔ ان کو سوچ کر خدا کا شکر اداکرنا۔ اس کے برعکس کوئی شخص خدا کے شایان شان شکرادانہیں کرسکتا۔
10ستمبر2005کو میں کیرلا کے شہر کالی کٹ میں تھا۔ یہاں مجھے ایک تقریر کرنا تھا۔ اس تقریر کا موضوع یہ تھا:’’ہندوستانی مسلمانوں کا رول، ماضی اور حال میں‘‘ یہ پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ماضی میں مسلمان انڈیا میں ہیروکی حیثیت رکھتے تھے۔ اب وہ یہاں زیرو بن کر رہ گئے۔ اس کا سبب ہندوستان کی مسلم دشمنی نہیں ہے بلکہ خود مسلمانوں کی اپنی بے خبری ہے۔
آٹھویں صدی اور نویں صدی میں جب مسلمان انڈیا میں آئے تو اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت قائم تھی۔ وہ اس زمانے کے سپر پاور تھے۔ اس زمانے میں مسلمان جب انڈیا آئے تو ان کا حال یہ تھا کہ ہم وقت کے سپر پاور کا حصہ ہیں۔ یہ سیاسی احساس ان کے لیے یقین کا سرچشمہ تھا۔ موجودہ زمانے میں1947کے بعد انہوں نے اس یقینی کو کھودیا۔
اس کا سبب خود ان کی بے خبری تھی۔ قرآن میں فطرت کا یہ قانون بتایا گیاکہ اقلیتی گروہ بھی اکثریتی گروہ پر غالب آسکتا ہے۔ خدا کے اِذن سے (البقرہ249)مسلمان اگر اس آیت پر غور کرتے تو اس آیت سے وہ یقینی کا نیا سرچشمہ حاصل کرلیتے۔ قرآن کی بے خبری نے انہیں بے یقینی میں مبتلا کردیا۔ وہ آئڈیٹی کراسس میں مبتلا ہوئے۔
آیت میں اذان اللہ سے مراد یہ ہے کہ اقلیتی گروہ کو اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج پیش آتا ہے یہ چیلنج اس کے لیے زحمت میں رحمت ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ اقلیت کو تخلیقی اقلیت بنادیتا ہے۔
تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس صاحب تھے۔ انہیں کی فرمائش پر مولانا زکریاصاحب نے فضائل اعمال لکھی، جو گویا تبلیغی جماعت کی انجیل ہے۔ مولانا الیاس کا نظریہ یہ تھا کہ ’’فضائل کا درجہ مسائل سے پہلے ہے۔ فضائل سے اعمال کے اجر پر یقین پیدا ہوتا ہے، جو ایمان کا مقام ہے۔ اور اس سے آدمی عمل کے لیے آمادہ ہوتا ہے مسائل معلوم کرنے کی ضرورت کا احساس تو تب ہی ہوتا جب وہ عمل پر تیار ہوگا۔ اس لیے ہمارے نزدیک فضائل کی اہمیت زیادہ ہے۔ (ملفوظات مولانا الیاس، بحوالہ فضائل اعمال صفحہ11)
میرے نزدیک یہ اے بے بصیرتی کی بات ہے۔ فضائل کی روایتوں سے جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ بے جایقین ہے۔ جس کو قرآن میں اَمافی کہا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں فضائل کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ فضائل کی روایتیں بیشتر یا تو ضعیف ہیں یا موضوع ۔ ان روایتوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس قسم کی تمام روایتیں ہمیشہ فارم کے بارے میں ہوتی ہیں۔ وہ اسپرٹ کے بارے میں نہیں ہوتیں۔حالاں کہ فارم کے اہتمام سے کبھی اسپرٹ پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اسپرٹ کے آنے سے فارم زندگی میں آتا ہے۔
میرے ذہن میں ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کے بعد کی تاریخ میں کیوں ایسا ہوا کہ رسول اور اصحاب رسول دونوں اُسوہ(نمونہ) کی حیثیت سے حذف ہوگئے۔ ان کے بجائے بعد کے مشائخ اور علما مسلمانوں کے لیے اسوہ بن گئے۔
اس سلسلے میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ رسول اللہ عملاً مسلمانوں کے یا اُسوہ اس لیے نہیں بن سکے کہ مسلمانوں نے آپ کو خدا کا درجہ دے دیا۔ مسلمانوں کے درمیان مقبول ہونے والی نعمتیں اس کا ثبوت ہیں۔ صحابہ کے اسوہ نے بننے کا سبب اُس روایت سے معلوم ہوتا ہے جس میں کچھ لوگ عائشہؓ کے پاس آئے اور رسول اللہ کا عمل دریافت کیا، تو ان لوگوں کو رسول اللہ کا عمل کم نظر آیا(کانہم تقا لوھا) بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ یہی پیش آیا۔ ایک طرف صحابہ کا نمونہ تھا، جو سادہ اور فطری عبادت کا نمونہ تھا۔ دوسری طرف مشائخ اور اکابر کا نمونہ تھا جس میں غلو آمیز اذکاروعبادت کے نمونے تھے۔ لوگوںکو صحابہ کا نمونہ کم نظرآیا، اور اکابر و مشائخ کا نمونہ زیادہ دکھائی دیا۔ اس لیے انہوں نے عملاً صحابہ کو چھوڑدیا اور مشائخ کو پکڑلیا۔