Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
(ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب مسلم علماء کا قبرستان ہے۔ اور میرا ایسا خیال نہیں کہ مولانا عمر عابدین اس عموم میں ایک استثناء کی حیثیت رکھتے ہیں۔)
شام کو مغرب کی نماز مولانا محمد ذکوان ندوی کے ساتھ پڑھی۔ انہوں نے امامت کی۔ نماز میں انہوں نے سورہ عصر کی تلاوت ک۔ نماز کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کے بارے میں مذہبی اور غیر مذہبی لوگوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں جب کہ سورہ عصر میں انہی لوگوں کو خُسران سے محفوظ بتایا گیا ہے جو صبر کی تلقین کریں۔ ایسی حالت میں آپ کا صبر کی تلقین کرنا عین قرآنی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ اس معاملے میں ہمارے معترضین کا کیس خسران کا کیس ہے۔ مزید یہ کہ وہ اپنی بات کو الزام کی زبان میں کہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ آپ صبر کی تلقین کرتے ہیں، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ مسلمانوں کو بزدلی سکھا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک تو ایسی بالصبر، تواصی بالجبن کے ہم معنی ہے۔ یہ کتنی بڑی گمراہی ہے جس میں تمام مسلمان مبتلا نظرآتے ہیں۔
لکھنؤ کے پندرہ روزہ تعمیرحیات (15جولائی2005)میں ایک مضمون بعنوان’’قرآن کی بے حرمتی اور طاقت کا نشہ‘‘ چھپاہے۔ یہ مضمون ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا محمد رابع حسن ندوی کا ہے۔ اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں ’’قرآن کی بے حرمتی‘‘ کے واقع پر امریکہ میں مقیم مسلمانوں یاپاکستانیوں نے جو مظاہرہ کیا وہ درست تھا۔ اس طرح کے مزید واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے:’’موجودہ دور میں مسلمان اس زیادتی کے خلاف جو احتجاج و مظاہرے کررہے ہیں، وہ ان کا دینی حق ہے‘‘۔
میں کہوں گا کہ یہ دینی حق کی بات نہیں ہے زیادصحیح طور پر وہ جمہوری دور میں ملی ہوئی آزادی کا ایک غلط استعمال ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر واقعی قرآن کی بے حرمتی کی تڑپ ہوتی تو وہ یہ سوچتے کہ قرآن کے بارے میں دوسرے لوگوں کے یہ منفی جذبات دراصل مسلمانوں کے اپنے غلط مظاہروں کی بنا پر ہے۔ ایسی حالت میں کرنے کا کام یہ ہے کہ خود اپنے غلط مظاہروں کا خاتمہ کیا جائے نہ کہ دوسروں کے خلاف مظاہرے اور جلوس کی دھوم مچائی جائے۔
احمددیدات یکم جولائی1918میں گجرات کے مشہور شہر سورت میں پیدا ہوئے اور8اگست2005کو ان کا ساؤتھ افریقہ میں انتقال ہوا۔ احمد دیدات ایک مشہور مسلم مناظرتھے۔ ان کے مناظرے کا ایک واقعہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
’’احمد دیدات اور ایک پادری اسٹیج پر تشریف فرماہیں۔ میز پر ایک جگ میں پانی اور دو گلاس رکھے ہوئے ہیں۔ وہیں قرآن مجید کا ایک نسخہ اور انجیل کے دس نسخے رکھے ہوئے ہیں۔ احمد دیدات اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے پادری سے کہتے ہیں کہ یہ پانی ہم دونوں کے لیے رکھا گیا ہے۔ پادری نے اثبات میں سرہلایا۔ اس کے بعد احمد دیدات نے دریافت کیا کہ اگر آپ کو معلوم ہو کہ اس پانی میں ہزارواں، لاکھواں جُز کوئی نجاست ہے تو کیا آپ اسے پی لیں گے۔ پادری نے جواب دیا کہ ہرگزنہیں۔ احمد دیدات نے کہا آپ نے صحیح فرمایا۔ میں بھی اسے نہیں پی سکتا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ انجیل مقدس کی یہ دس جلدیں میں نے دنیا کے مختلف ملکوں سے منگوائی ہیں، اور جب کمپیوٹر پر ان کا تجزیہ (Analysis)کیا گیا تو ان میں پچاسی فیصد85%تک فرق پایاگیا ۔اب آپ بتائیے کہ اصل انجیل کہاں ہے کہا یہ کتاب خدا کی نازل کردہ اصل انجیل ہوسکتی ہے۔ اپنی جسمانی صحت کے لیے تو ہم لاکھواں حصہ بھی ملاوٹ برداشت نہیں کرسکتے تو روحانی صحت کے لیے ہم85%فیصد ملاوٹ کیوں کر برداشت کررہے ہیں۔ پادری صاحب خاموش رہے۔ اس کے بعد احمد دیدات نے انجیل کا ایک صفحہ کھول کرپادری صاحب سے گذارش کی کہ بآواز بلند کتاب مقدس کا یہ حصہ تلاوت فرمائیں۔ پادری نے اس کو برسرعام پڑھنے سے انکار کردیا۔ کیوں کہ اس میں صریح فحش الفاظ درج تھے‘‘۔
احمد دیدات (1918-2005)نوسال کی عمر (اگست1927)میں اپنے والد کے ہمارہ جنوبی افریقہ منتقل ہوگئے۔ وہاں کے زمانۂ قیام میں اکثر ایک عیسائی مشنری ان کے پاس آئے تھے۔ اور ان کو عیسائی مذہب کی دعوت دیتے تھے۔ اسی زمانے کا ایک واقعہ ہے یہاں درج کیا جاتا ہے۔ ’’ردّی کے کاغذات میں انہیں ہندی نژاد عالم مولانا رحمت علی کیرانہ کے متعلق ایک کتاب ٹل۔ جس نے ان کی زندگی بدل دی۔ اس کتاب میں مولانا رحمت علی کیرانوی اور ایک مشہور عیسائی پادری کے درمیان ایک دل چسپ مناظرے کا ذکر تھا۔ پادری صاحب نے مولانا کیرانوی سے پوچھا کہ آپ کے نبی اب کہاں ہیں۔ مولانا نے جواب دیا۔’’اللہ کے پاس ہیں پھر پادری نے پوچھا: اُس وقت کہاں تھے جب میدان کربلا میں ان کے نواسے حسین قتل کیے جارہے تھے۔ مولانا نے جواب دیا کہ فریاد کی تھی مگر اللہ تعالی نے جواب دیا تھا تو تمہارے نواسے (حسین) کو کیسے بچا سکتا ہوں۔ اس کے بعد پادری صاحب مناظرہ گاہ سے چلے گئے‘‘۔
مذکورہ واقعہ دعوت نہیں بلکہ مناظرحب۔ اس طرح کے مناظر ے سے کوئی شخص مبہوت ہوسکتا ہے مگر اس سے آدمی کا دل نہیں بدل سکتا ہے۔ قرآن کے مطابق کسی کو مبہوت کرنے کا بھی ایک درجہ ہے(فبہت الذی کفر۔ البقرہ:258)مگر دعوت کے عمل میں یہ ایک اتفاقی واقعہ ہے۔ دعوت کا مسلسل عمل وہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا : وقل لھم فی أنفسہم قولا بلیتعا (النساء:63)