Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ابن ماجہ اور احمد نے ایک حدیث روایت کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
انّ المؤس اذاأذنب کانت نکتہ سوداء فی قلبہ فان تابے ونزع واستغفر متقل قلبہ وان زادزادت حتی یعلو قلبہ۔ وخاک الرین الذی ذکر اللہ عزوجل فی القرآن: کل بل راہ علی قلوبہم ماکانویکسبون۔(مسند احمد جلد دوم صفحہ297)
اس حدیث رسول میں قرآن کی ایک آیت (التطفیف)کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس کی ایک شرح فرمائی گئی ہے۔ مگر یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ قلب پر زنگ لگنے کی بات قرآن میں غیر مؤمنین کے حوالے سے آئی ہے، جب کہ حدیث میں قلب پر زنگ لگنے کا یہ معاملہ مؤمن کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی باتیں جو قرآن میں آئی ہیں وہ بظاہر خواہ مومن یا غیر مومن کے حوالے سے آئی ہوں مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ عالمی ہوتی ہیں۔ ان کا تعلق ہر انسان سے ہوتا ہے خواہ وہ مؤمن ہو یا غیر مومن۔
غیر مسلموں کے ایک اجتماع میں محمد سے پوچھا گیا کہ اسلام میں انفڈلIndInfidelکا کیا تصور ہے؟ میں نے کہا کہ اسلام میں انفڈل کا کوئی تصور نہیں۔ یہ ایک عیسائی اصطلاح ہے نہ کہ کوئی اسلامی اصطلاح۔ انفڈل کا مطلب بددین اور زندیق ہوتا ہے عیسائی تصور کے مطابق ہر وہ آدمی جو عیسائی نہیں ہے وہ بددین ہے، زندیق ہے۔ مگر اسلام میں یہ تصور موجود نہیں۔ اسلام کے مطابق جو مسلمان نہیں وہ انسان ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کو اپنے اختیار کیے ہوئے نام سے پکارے۔ مثلاً ہندو کو ہندو، سکھ کو سکھ، عیسائی کو عیسائی کہیں۔ دنیا میں مسلم اور انفڈل کی تقسیم نہیں ہے بلکہ مسلم اور انسان کی تقسیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار’’انسان‘‘ کا استعمال ہوگا ہے۔
مسلمانوں میں ایک غلط رویہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ جو مسلمان نہیں وہ کافر ہے۔ چنانچہ وہ تمام غیرمسلموں کو کافر سمجھتے ہیں۔ یہ بلا شبہ غلط ہے۔ قرآن میں کافر کا لفظ پیغمبر کے معاصر منکرین کےلیے آیا ہے یعنی لمبی مدت کی دعوتی جدوجہد کے باوجودجو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو ماننے سے انکار کرتے رہے وہ بطور واقعہ منکر ٹھہرائے گئے۔ مگر منکر کا یہ لفظ کسی کا قومی لقب نہیں، نہ صرف ان معاصرین کے لیے ہے جنہوں نے تمام حجت کے باوجود انکار کیا تھا۔ ان کے بعد کی نسلیں یا دوسری قوم کے لوگ کافر(منکر) نہیں کہے جائیں گے بلکہ صرف انسان کہے جائیں گے۔