Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
میرے مطالعے کے مطابق اس دنیا میں ہر مرد اور عورت حالت امتحان میں ہیں، حتی کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر بھی۔ اس امتحان کا سب سے زیادہ مشکل پہلو یہ ہے کہ یہ پورا امتحان اسباب و عقل کے نظام کے تحت ہوتا ہے کسی بھی شخص، حتی کہ پیغمبر کے لیے بھی خدا اسباب ظاہری کے نظام کو منسوخ نہیں کرتا۔ ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسباب ظاہری کے پردے کو پھاڑکر سچائی کو جان سکے۔ اس امتحان میں کسی بھی شخص کا کوئی استثناء نہیں۔
دین اسلام کو سمجھنے کے لیے مطالعے کی صحیح ترتیب یہ ہے پہلے قرآن ، پھر حدیث، پھر فقہ، پھر علماء اور صوفیاء کی تحریریں۔ مگر بعد کے دور میں مسلمانوں میں یہ تربیت بالکل الٹ گئی۔ اب مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ پہلے علماء اور بزرگوں کو پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ فقہ کا مطالعہ کرتے ہیں، اس کے بعد وہ احادیث رسول کو دیکھتے ہیں، اور آخر میںوہ قرآن لیتے ہیں۔ اس ترتیب میں قرآن ماخذدین کی حیثیت سے سب سے آخر میں آتا ہے مگر قرآن تک پہنچتے پہنچتے یہ ہوجاتا ہے کہ قرآن مطالعے اور تدبرکی کتاب نہیں رہتا۔ بلکہ وہ صرف تلاوت کی کتاب کی حیثیت سے باقی رہ جاتا ہے۔ ان لوگوں کو ’’دین‘‘ پہلے ہی مل چکا ہوتا ہے۔ اس لیے نفسیاتی اعتبار سے ان کا مزاج یہ بن جاتا ہے کہ قرآن سمجھے بغیر تلاوت کے طور پر پڑھو اور ثواب حاصل کرتے رہو۔
قرآن کی سورہ نمبر93میں آیا ہے: والضحیٰ واللیل اذاسجیٰ یعنی گواہے روشن دن اور گواہ ہے تاریک رات۔ میرا قیاس ہے کہ واللہ اعلم کہ یہاں ادبی ضرورت کے تحت ضحی کو لیل پر مقدم کردیا گیا ہے۔ اس آیت میں ایک فطری واقعے کی مثال لیتے ہوئے انسانی زندگی کا ایک راز بتایاگیا ہے۔ وہ یہ کہ حالات سے انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ جس طرح عالم طبعی میں رات کی تاریکی آتی ہے اور پھر روشن صبح طلوع ہوجاتی ہے۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ باربارمشکلات آتی ہیں مگر خود فطرت کے قانون کے تحت حالات بدلتے ہیں اور اپنے بہتر حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہاں خاص طور پر حق کے داعی کو یہ پیغام دیاگیا ہے کہ مدعو کی طرف سے اگر منفی حالات پیش آئیں تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو یقین رکھنا چاہیے کہ حالات بدلیں گے اور داعی کے موافق مثبت حالات سامنے آجائیں گے۔
میرا یہ قیاس قرآن کی سورہ نمبر92پر مبنی ہے۔ جو سورہ الضحیٰ سے پہلے آئی ہے۔ اس سورہ میں یہی بات اپنی طبیعی تربیت کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے۔ چناں چہ فرمایا: واللیل اذا یغشیٰ والنہار اذاتجلّیٰ (گواہ ہے تاریک رات اور گواہ ہے روشن دن)
میں آل انڈیا ریڈیوسن رہا تھا۔ اس میں ایک ہندو کوی ہندوستان کی تعریف میں اپنی کویتاسنارہا تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈیا بلیدان کی دھرتی ہے یہی تمام قوموں کا مزاج ہے۔ ہر قوم میں جان کی قربانی کو بہت اعلیٰ درجہ دیا جاتا ہے۔ یہی حال مسلمانوں کا ہے۔ دو مسلم شاعر کا شعریہ ہے: