Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ان دونوں روایتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو اس کا یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ ختم نبوت کے بعد کے زمانے میں بھی ایسے افراد پیدا ہوں گے جو پیغمبر کے مانند ہوں گے۔ پہلی روایت میں آپ نے پچھلے پیغمبروں کو اپنا سوتیلابھائی کہا اور بعد کے زمانے کے افراد کو آپ نے اپنا بھائی (اخواننا) فرمایا۔
پیغمبر کا بھائی ہونے سے کیا مرادہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد بھی امت میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو خدا کی خصوصی توفیق ہے پیغمبر والی معرفت کا ادراک کریں گے۔ ایک ہے درجۂ نبوت، اور دوسرا ہے معرفت نبوت۔ ختم نبوت کے بعد کوئی شخص نبوت کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا، لیکن نبوت والی معرفت بعد کے دور میں بھی کسی کو مل سکتی ہے۔
قرآن میں آیا ہے کہ: علّم أدم الأ سماء کلّہا (البقرہ:31)یعنی خدا نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھادئے۔ یہ علم اشیاء انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے سے یہ معلوم ہواہے انسان کے دماغ میں ایک سو ملیں بلین پارٹکل ہیں۔ یہ پارٹکل کیا ہیں۔ یہ سینڈ پارٹکلSand particalنہیں ہیں بلکہ وہ انفارمیشن پارٹکل ہیں۔ کمپیوٹر میں ریت کے ذرے بھرےجائیں تو ایسا کمپیوٹر بے فائدہ ہوگا۔ موجودہ کمپیوٹر کامیاب اس لیے ہے کہ اس میں انفارمیشن بھری جاتی ہیں۔ کمپیوٹر انہیں انفارمیشن کو پراسس کرکے ہمارے سامنے لاتا ہے۔ مثلاً کمپیوٹر میں یہ انفارمیشن ڈالی ہوئی ہے کہ واشنگٹن امریکہ کی راجدھانی ہے اور پیرس فرانس کی راجدھانی ہے۔ جب ہم کمپیوٹر سے پوچھتے ہیں تو وہ ہمیں فوراً اس کے بارے میں بتادیتا ہے۔ لیکن اگر یہ انفارمیشن پہلے سے کمپیوٹر کے اندر موجود نہ ہو تو وہ کچھ نہیں بتا سکے گا۔ اس طرح انسان کے دماغ میں ہر قسم کی تمام معلومات بھری ہوئی ہیں۔ اور یہ معلومات انفارمیشن پارٹکل پر مرتسم ہیں۔
سائنس دانوں نے جو ڈس کوری کی ہے وہ دراصل انسانی دماغ کی اَن فولڈنگUnfoldingہے۔ یہ دراصل ڈسکوری یا ایجاد نہیں ہے۔ بلکہ برین کے انفارمیشن پارٹکل میں فیڈھ کی ہوئی معلومات کو اندر سے نکال کر باہر لاتا ہے۔
قرآن کی سورہ النمل کی آخری آیت یہ ہے:
قل الحمد للہ الذی سیریکم انہ فتحرفونہا (کہو! کہ حمد صرف اللہ کے لیے ہے۔ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا۔ پھر تم ان کو پہچان لوگے)اس آیت میں آیات سے مراد دلائل ہیں۔ قرآن کی دوسری آیت (حم السجدہ53)کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کا مطلب ہے آیات کائنات۔ دونوں آیتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ ان میں مستقبل میں پیش آنے والے سائنسی دورکی پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دور آئے گا جب کہ انسان آیات کائنات کے ذریعہ خدا کی معرفت حاصل کرسکے گا۔ معرفت خداوندی، اصل ذریعہ قرآن ہے۔ اور سائنسی تحقیقی کے ذریعہ دریافت ہونے والی آیات کائنات، اس معرفت میں وسیلے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ گویا کہ معرفت کے دو دور ہیں۔ پہلے دور میں معرفت بذریعہ قرآن اور دوسرے دور میں قرآن کے ساتھ معرفت بذریعہ آیات کائنات یا دلائل کائنات۔
کائنات میں نشانیاں پہلے سے موجود تھیں مگر سائنس نے ان نشانیوں کو قابل رویت بنادیا۔ سائنس دور سے پہلے آدمی ان نشانیوں کو دیکھنے کے قابل نہیں بنا تھا:
Signs wer4e there, but in pre-scientific era, man was not able to see these signs.