Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Salem wept in car on way from airport
6دسمبر1992کو ایودھیا میں بابر مسجد ڈھائی گئی۔ اس کے بعد مسلمانوں میں کافی غصہ پیدا ہوا۔ بمبئی میں ہندومسلم فساد ہوا۔1993میں بمبئی کے تجارتی علاقوں میں کئی بم دھماکے ہوئے۔ جن میں بہت سے لوگ مارے گئے ان بم دھماکوں کا ایک اہم فردابوسالم تھا۔ بم دھماکے کے بعد وہ ہندوستان سے بھاگ گیا۔ حال میں وہ پُرتگال میں تھا۔ حکومت ہند نے لمبی گفت و شنید کے بعد اس کو پُرتگال میں گرفتارکیا اور وہ ہندوستان لایا گیا۔ ابوسالم بہت مضبوط اعصاب کا آدمی تھا۔ لیکن جب انڈیا کی پولس اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگاکر انڈیا واپس لائی تو وہ اتنا دل شکستہ ہوا کہ وہ رونے لگا۔ جھوٹی بہادری ہمیشہ بزدلی پر ختم ہوتی ہے۔
کسی انسان کے ساتھ کم سے کم خیرخواہی یہ ہے کہ اس کو آپ اُس سے زیادہ کی امید نہ دلائیں، جتنا کہ فی الواقع آپ اس کے لیے کرسکتے ہیں۔
انسان اگر موت کو یاد کرے تو کوئی دُکھ اس کو دُکھ محسوس نہ ہو، اور کوئی سُکھ اس کے لیے کبھی سکھ نہ رہے۔
اصلاح بہت اچھی چیز ہے، لیکن جب اصلاح ممکن نہ ہو تو معتدل تعلقات کو برقرار رکھنا ہی سب سے اچھی چیز بن جاتی ہے۔
نو مسلموں کے حالات بتاتہیں کہ اکثر لوگ قرآن کو پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب مجھ کو دو تعلیم یافتہ نومسلموں کے تاثرات میں معلوم ہوا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ہم نے مختلف مذاہب کی مقدس کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر قرآن واحد کتاب تھی جس میں ہم کو محسوس ہوا کہ خدا خودمحمد سے کلام کررہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا اسلوب ایک معجزاتی اسلوب ہے۔ جب بھی کوئی شخص خال الذہن ہوکر قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اور خدا کے درمیان پردے ہٹ گئے ہیں اور خدا براہ راست طور پر اس سے خطاب کررہا ہے۔ ہر شخصیت اس کو براہ راست خطاب کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ دوسری تمام کتابیں صیفۂ غائب میں کلام کرتی ہیں اور قرآن صیفۂ متکلم میں۔
جب مجھے یہ حقیقت معلوم ہوئی تو میں نے سوچا کہ فلاحی اسکول کا نظم قرآن کا نظریہ خدائی اسکیم میں مداخلت کے ہم معنی ہے۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ اس کی ہر ایک قاری کو براہ راست خطاب کرتی ہوئی محسوس ہو۔ مگر نظم قرآن کے ذہن کو لے کر جب ایک شخص قرآن پڑھتا ہے تو براہ راست خطاب کا یہ پہلو اس سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ آگے کے مضمون اور پیچھے کے مضمون میں نظم تلاش کرتے ہیں گھویارہتا ہے۔ اس طرح وہ براہ راست خطاب کا تجربہ نہیں کرپاتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو نظم قرآن کا نظریۂ فہم قرآن کے سلسلے میں ایک قسم کے ڈسٹریکشن Destractionکی حیثیت رکھتا ہے۔
دھیروبھائی امبانی گجرات میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ لیکن جب وہ مرے تو وہ ہندوستان کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن چکے تھے۔ ان کی اس غیر معمولی ترقی کا راز کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک نہایت اہم بات حبیب بھائی (حیدرآباد) سے معلوم ہوئی۔21نومبر2005کو انہوں نے ٹیلیفون پر بتایا کہ ایک بار میں نے کسی کام سے دھیروبھائی امبانی کا ٹیلی فون پر اپائنٹمنٹ لینا چاہا۔ انہوں نے کہا آفس میں تومیرے پاس وقت نہیں ہے۔ لیکن میں بذریعہ کار فلاں جگہ جارہا ہوں تم میرے ساتھ کار میں آجاؤ۔ اور سفر کے دوران بات ہوجائے گی۔ اس طرح سفر کے دوان ڈیڑھ گھنٹہ حبیب بھائی کو دھیروبھائی امبانی کی معیت حاصل رہی، جب بھائی نے بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹے کی پوری ملاقات میں دھیروبھائی امبانی نے کچھ بھی اپنی بڑائی کا اظہار نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ مسلسل طور پر مجھے یہ تاثر دیتے رہے کہ تم زیادہ بڑے آدمی ہو۔
یہ بات سن کر میں نے کہا کہ یہی کسی آدمی کی عظمت کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ حقیقی عظمت یہ ہے کہ آدمی کے اندر کامل تواضع پیدا ہوجائے، وہ دوسروں کو یہ یقین دلائے کہ تمہارے اندر غیرمعمولی امکانات ہیں۔تم ایک غیر معمولی انسان ہو۔ تم ہر قسم کی ترقی کرسکتے ہو۔
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدنیا کلّہا متاع، وخیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ (صحیح مسلم) یعنی دنیا کی ہر چیز سامان ہے اور دنیا کا سب سے اچھا سامان نیک عورت ہے۔
میرے نزدیک اس حدیث میں ایک مفہوم وہ ہے جو اس کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مفہوم ہے جو اس کے اندر اپنے آپ شامل ہے۔ یہ دوسرا مفہوم بلاغت کے اصول کے مطابق صنعت تقابلی سے معلوم ہوتا ہے۔ اس دوسرے مفہوم کو لے کر اگر کہا جائے تو غالباً پوری بات اس طرح ہوگی۔ خیر متاع الدنیا للمراء المراۃ) الصالحۃ وخیر متاع الدنیا للمرأۃ المرء الصالح۔
قرآن کی سورہ الصف میں حضرت مسیح کے حواربین کے حوالے سے نصرت طلب کی گئی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس نصرت کے لیے حوارین کا حوالہ کیوں دیا گیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نصرت کی نوعیت کے اعتبار سے ہے۔ حضرت مسیح کے حواریوں نے آپ کی جو نصرت کی تھی وہ پُرامن دعوت کے اعتبار سے تھی۔ غالباً اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مسیح کے حواریین نے پُرامن دعوت کے لیے مسیح کا ساتھ دیا تھا۔ اسی طرح اے ا تل مدینہ! تم لوگ پُرامن دعوت کے کام کے لیے پیغمبر اسلام کی مدد کرو۔
سورہ الصف میں اہل ایمان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسیح کے پیرووں کی طرح خدا کے مددگار بنو۔ میرے ذہن میں بہت عرصے سے یہ سوال تھا کہ یہاں مسیح کے حواریوں کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے۔ اب سے تقریباً65سال پہلے جب کہ میں مدرسہ میں پڑھتاتھا۔ اس وقت میں نے اس آیت کے بارے میں وہاں کے سینئر استاد مولانا اختراحسن اصلاحی سے سوال کیا تھا۔ مگر اس وقت سے لے کر اب تک طویل غوروفکر کے باوجود مجھے اس آیت کے مفہوم پر اطمینان حاصل نہیں ہوسکا تھا۔21نومبر2005کو اس سوال کا جواب اچانک میرے دماغ میں آیا۔
وہ جواب یہ تھا کہ یہ انداز دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ خدا کی ہدایت میں تسلسل ہے۔ ہرنبی کو خدا کی طرف سے ایک ہی دین کی ہدایت دی گئی۔ اور اسی دین کی ہدایت پیغمبر اسلام کو بھی دی گئی۔ ہدایت خداوندی میں تسلسل کی بات قرآن کی بہت سے آیتوں سے نکلتی ہے۔ مثلاً روزے کا حکم دیتے ہوئے یہ کہنا کہ :کما کتب علی الذین عن تبلکم(التوبہ:183)دین کی اقامت کا حکم دیتے ہوئے یہ کہا کہ: شرع لکم من الدین ماوصیٰ بہ نوحاً الخ (الشوری:13) مختلف انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد پیغمبر اسلام سے یہ کہنا کہ :اولئک الذین ھدی اللہ خیرمداھم اقتدہ (الانعام:90)وغیرہ۔
یہ تصور غلط ہے کہ یہ پچھلے نبیوں کو ناقص دین ملا تھا، اور پیغمبر اسلام کو کامل دین دیاگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہرپیغمبر کو خدا کی طرف سے ایک ہی دین کی ہدایت ملی۔ یہ ہدایت اساسی حکام کے بارے میں تھی۔ جہاں تک تفصیلی احکام کا تعلق ہے کسی بھی پیغمبر کو نہیں دیے گئے۔ حتیٰ کہ خود پیغمبر اسلام کو بھی نہیں، یہ کوئی کمی کی بات نہیں بلکہ یہ فطری تقاضے کی بات ہے۔ اسی فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے دین کے مصاد قرآن و سنت کے بعدتیسرے مأخذ کے طور پر اجتہاد کو شامل کیا گیا ہے۔ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں۔ قیاس اور اجماع۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اہل ایمان کو صرف خداسے حب شدید ہوتا ہے۔(والذین آسفوا أشد جتالہ ، البقرہ:165) جہاں یہ سوال ہے کہ مومن کے اندر یہ حب شدید کیسے پیدا ہو۔ صوفیاء نے اس کی تدبیر یہ بتائی کہ حجرے کی تنہائی میں بیٹھ کر آپ ہزاروں، لاکھوں بار اللہ اللہ کرے۔ میرے نزدیک حجرے میں اللہ اللہ کرنے سے ہرگز حب شدید کسی کے اندر پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس قسم کے تکرار الفاظ سے ایک قسم کا وجد (cestacy)تو پیدا ہوسکتا ہے۔ مگر اس سے خدا کے ساتھ حب شدید نہیں پیدا ہوسکتا۔ حب شدید کے حصول کا ذریعہ لفکیرہے نہ کہ تکرارالفاظ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں زمین و آسمان پر غورکرنے کو اس کے حصول کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ (آل عمران:191)
حب کثیرکا ذریعہ صرف عرفان کثیر ہوسکتا ہے۔ یعنی خدا کو اس کی بے پایاں عظمت اور قدرت کے ساتھ دریافت کرنا۔ اس قسم کی معرفت کبھی حجرے کے اندر تکرار الفاظ سے نہیں ہوسکتی۔ اس معرفت کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ آدمی آفاق کی اتھاہ وسعتوں میں خداکو دریافت کرے۔
برصغیر ہند میں پچھلے تقریباً سو سال سے مسلمانوں کی ایک ہی سوچ رہی ہے۔1947سے پہلے بھی اور1947کے بعد بھی۔ وہ یہ کہ انڈیا میں دو مختلف سیاسی گروہ ہے۔ سیکولر اور فرقہ پرست۔ تمام مسلمان اسی پولیٹیکل ڈائکائمی (Political diactomy) میں جی رہے ہیں۔ ہر الیکشن میں مسلمانوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے الفاظ میں فرقہ پرست طاقتوں کو ہراؤ، اور سیکولر طاقتوں کو جتاؤ۔
یہ تقسیم بلا شبہہ غلط اور بے بنیاد ہے۔ صحیح تقسیم یہ ہے کہ انڈیا میں اور ساری دنیا میں دو گروہ بستے ہیں۔ ایک، داعی اور دوسرے مدعو۔ مسلمان داعی ہیں اور دوسرے تمام لوگ مدعو۔ یہی صحیح تقسیم ہے اس کے بجائے مذکورہ تقسیم میرے نزدیک نہ صرف غلط ہے، بلکہ حرام ہے۔ میں اس کو حرام اس لیے سمجھتا ہوں کہ اسی سوچ کے تحت بیک وقت دو غلط ذہن بنتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں قوم پرستانہ ذہن اور غیر مسلموں کے بارے میں رقیبانہ ذہن۔ مسلمانوں کو اپنا سمجھنا اور دوسروں کو غیر سمجھنا۔ مسلمانوں کے بارے میں اکرام مسلم کا ذہن اور دوسروں کے بارے میں تحقیر غیرمسلم کا ذہن۔ مسلمانوں کے بارے میں خیرخواہی کا ذہن اور غیر مسلموں کے بارے میں نفرت کا ذہن۔ مسلمانوں کے بارے اپنا پن کا ذہن اور غیرمسلموں کے بارے میں دوری کا ذہن۔ اس قسم کے ذہن کے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ مسلمانوں میں ہر جگہ آفاقیت اور انسان دوستی کا ذہن ختم ہوگیا ہے یہ ذہن میرے نزدیک دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے خودکشی کے ہم معنی ہے۔
دہلی کی ایک مسجد کے امام صاحب نے بتایا کہ ان کی مسجد میں کچھ تعمیرات ہورہی تھی۔ اس کو لے کر ہندومسلمان میں جھگڑاکھڑاہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ آ رایس ایس کے ایک مقامی لیڈر سے ملے۔ لیڈرنے کہا کہ آپ لوگ اس معاملے میں چپ رہے۔ ہم اس کام کو کرائیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے ہندوؤں سے لڑبھڑکرمسجد تعمیر کرادی۔
اس واقعے کو سن کر ایک صاحب نے کہا کہ آر ایس ایس کے لیڈر نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے ایسا کیا۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے مفاد ہی کے لیے کچھ کرتا ہے۔ جس کہ علماء بھی۔ میں نے کہا کہ آپ کو مفاد اور تخریب کاری میں فرق کرنا چاہیے۔ مفادسدپے کرتے ہیں کوئی حرج نہیں۔ البتہ بدخواہی بری چیز ہے۔ مثلاً سیاسی مفاد کے لیے مسجد بنانا بامشکل درست ہے۔ البتہ سیاسی مفاد کے لیے مسجد کو توڑنا ایک غلط کام ہے۔ میں نے کہا کہ مفاد پسندی فطرت کا ایک قانون ہے۔ انسان کے اندر اگر مفادپسندی نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں ختم ہوجائیں۔ زندگی کی سرگرمیاں میں مفاد پسندی ایک محرک کا کام کرتاہے۔
سویکا گوسوامی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو خاتون ہیں۔ ہندوازم سے غیر مطمئن ہوکر وہ بدھسٹ بن گئیں۔ اپنی اعلیٰ صلاحیت کی بنا پر انہیں دہلی کے بدھسٹ حلقے میں لیڈر کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ وہ چند بار ملاقات کے لیے آئیں۔ ایک بار انہوں نے ہمارے اسپریچیول کلاس میں بھی شرکت کی۔
29نومبر2005کی شام کو وہ مسٹر خالدانصاری کے ساتھ ہمارے دفتر میں آئیں ان کا ٹیلی فون نمبریہ ہے:9873166215
دو گھنٹے کی گفتگو میں میںنے بہت سی باتیں کہیں۔ مثال کے طور پر سائیکل آف برتھ کے نظریے پر میں نے کہا کہ یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اگر میں سائیکل میں ہوں تو مجھے خود اس کی خبرہونی چاہیے نہ کہ کوئی دوسرا شخص مجھےاس سے باخبر کرے۔ بُدّھا کے بارے میں میں نے کہا کہ میں نے کئی مضامین اور کتابیں بدّھا کے بارے میں پڑھی ہیں۔ آپ لوگ جس بدّھا کو مانتے ہیں وہ بدھا تاریخ سے ثابت نہیں۔ یہ آپ کا اپنا ایجاد کیا ہوا (Invented)بدھا ہے نہ کہ تاریخی طو پر وافقی بدھا۔ آخرمیں وہ مطمئن ہوگئیں اور یہ کہہ کر واپس گئیں کہ آج سے میں بدھسٹ خیالات کو الگ رکھدوں گی اور اب آپ کی گائڈنس میں چلو ں گی۔
یکم دسمبر کی صبح سویرے ایک بات سمجھ میں آئی۔ میرے کمرے کی لائٹ بھجی ہوئی تھی۔ میں نے اس کی سوئچ دبائی تو اچانک بلب روشن ہوگیا۔ اس نظر کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ روشنی کا سرچشمہ پاور ہاؤس ہے۔ بلب کی حیثیت صرف روشنی کے آخذ (Recepient) کی ہے۔ پھر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ بجلی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی حقیقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ معرفت خداکی حقیقت کیا ہے۔ تقریباً5ہزار سال سے انسان یہ سمجھتا رہا کہ معرفت کا خزانہ انسان کے خوداپنے اندر ہے۔ چناں چہ سارے لوگ خود اپنے اندر معرفت کو تلاش کرتے رہے۔ اسی نقطۂ نظر پر اچاریہ رجنیش نے ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا ٹائٹل یہ ہے:کُذڑلنی اندربسے
مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص بلب کو بجھا ہوادیکھے تو یہ فرض کرلے کہ روشنی خودبلب کے اندر ہے اور روشنی کے حصول کے لیے ساری محنت خودبلب کے اوپر کرنے لگے۔ اس طرح کی کوشش ہزاروں سال سے کی جائے تب بھی خود بلب سے روشنی حاصل نہیں ہوگی۔ کیوں کہ روشنی ماخذ (Source)بلب سے باہر پاور ہاؤس کے اندر ہے۔
یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ اس معاملے میں انسان کی حیثیت طالب معرفت کی ہے اور خدا کی حیثیت معطئی معرفت کی۔ معرفت خدا سے تعلق کے ذریعے حاصل ہوگی نہ کہ خود اپنے آپ میں مفروضہ محنت سے۔
اس غلط نقطۂ نظر کا نتیجہ یہ ہوا کہ تلاش معرفت کا مرکز خود انسان بن گیا، حالاںکہ صحیح یہ ہے کہ تلاش معرفت کا مرکز خدا کو بنایا جائے۔
یکم دسمبر2005کو پروفیسر عبدالاحد (73سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ بنگلور سے اپنی اہلیہ کے ساتھ تبلیغی مرکز میں آئے۔ یہاں ایک مہینے ٹھہرے۔ میں نے پوچھا کہ آپ دونوں کے آنے جانے پر کتنا خرچ ہوا انہوں نے کہا کہ تقریباً تین ہزار روپیہ۔
میں نے کہا کہ آپ ایک مہینے تک تبلیغی مرکز میں رہے اور اس سفر پر تین ہزار روپے خرچ کئے۔ مجھے بتائیے کہ اس مدت میں آپ نے یہاں کیا سیکھا۔ وہ کوئی خاص بات نہ بتاسکے۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ امت کی زبوں حال کو جانا۔ میں نے کہا کہ میں معمولی بات نہیں پوچھ رہا ہوں بلکہ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ آپ نے خود ذاتی طور پر کیا نئی بات سیکھی۔ جس کو لے کر آپ بنگلور جارہے ہیں وہ کوئی ایک بات بھی نہ بتاسکے۔ میں نے کہا کہ پھر آپ شاید یہاں زیارت کے لیے آئے تھے۔ حالاں کہ زیارت اسلام میں کوئی چیز نہیں۔ آپ خوداپنے بزرگ کی کتاب حیاۃ الصحابہ پڑھیے اور مجھے بتائیے کہ کیا صحابہ زیارت کے لیے سفر کیا کرتے تھے۔
صحابی رسول عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے:
انّ الذیی یفتی الناس فی کل مایستفتون فیہ مجنون (یعنی جو شخص لوگوں کے ہر ایک سوال کا جواب دیتا ہو وہ پاگل ہے) مجمع الزوائدصفحہ183
اسی طرح عبداللہ بن مسعود کا ایک قول اس طرح آیا ہے: ماأنت بحمدت قوماً حدیثاً لا تبلغہ عقر لہم الا کان لبعضہم فتنہ ، مقدمہ مسلم، جلد1۔ صفحہ9(یعنی جب تم لوگوں کے سامنے ایسی بات بیان کرو جو ان کی عقل کی پکڑ میں نہ آتی ہو تو ایسی بات لازماً ان کے لیے فتنے کا باعث بن جائے گی)