Diary 2005

Salem wept in car on way from airport

Diary 2005 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (273 chapters)
  1. یکم جنوری2005
  2. 2جنوری 2005
  3. 3جنوری2005
  4. 5جنوری2005
  5. 6جنوری 2005
  6. 7جنوری2005
  7. 8جنوری2005
  8. 9 جنوری2005
  9. 10جنوری 2005
  10. 12 جنوری2005
  11. 13 جنوری 2005
  12. "Give me 100 energetic young men and I shall transform India" P.18
  13. 16جنوری2005
  14. 17جنوری2005
  15. 19جنوری2005
  16. 20جنوری2005
  17. 21 جنوری2005
  18. 22 جنوری2005
  19. 23 جنوری2005
  20. 24 جنوری2005
  21. You have to learn the art of anger mangement
  22. 26 جنوری2005
  23. 27 جنوری2005
  24. 28 جنوری2005
  25. 29 جنوری2005
  26. 30جنوری2005
  27. 31جنوری2005
  28. 2 فروری2005
  29. 3 فروری2005
  30. 4فروری2005
  31. 5فروری2005
  32. ـCutting News Clip
  33. The Time of India, 2 Feb, 2005
  34. 6 فروری2005
  35. I go alongwith the poet Mirza Asadullah Khan Ghalib
  36. ہم کو معلوم ہے خدمت کی حقیقت لیکن دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
  37. اعتراف
  38. Saturday, February 5, 2005
  39. اخبار کٹنگ لگی ہے
  40. 9فروری2005
  41. 1. Polytheistic interpretation
  42. 2. Atheistic interpretation
  43. 3. Monotheistic interpretation
  44. 10فروری2005
  45. 11فروری2005
  46. 1۔ کبھی قرض نہ لیں، خواہ ان کو محنت مزدوری کرنا پڑے۔
  47. 2۔ ہمیشہ آمدنی سے کم خرچ کریں۔
  48. 3۔ کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ ہمیشہ یکطرفہ صبر کی درس اختیار کریں۔
  49. 12فروری2005
  50. 13 فروری 2005
  51. 14فروری2005
  52. 16فروری2005
  53. 17فروری2005
  54. The Times of India
  55. February 13, 2005 (P-1) N. Delhi
  56. Newspaper Clip
  57. 18فروری2005
  58. 19فروری2005
  59. 20فروری2005
  60. The Times of India
  61. Newspaper Clip
  62. 21فروری2005
  63. Time of India
  64. Newspaper clip
  65. 23فروری2005
  66. Newspaper Clip
  67. 24فروری2005
  68. 25فروری2005
  69. ٹائمس آف انڈیا (27فروری2005) میں
  70. you arent wealthin untill you have something money can't buy
  71. 28فروری2005
  72. یکم مارچ2005
  73. 3مارچ2005
  74. He is the world's largest producer of steel
  75. 4مارچ2005
  76. اوروں کی بری بات تو بھاتی نہیں تم کو پر اپنی برائی نظرآتی نہیں تم کو
  77. 6مارچ2005
  78. Newspaper Clip
  79. 8مارچ2005
  80. 9مارچ2005
  81. 10مارچ2005
  82. 11مارچ2005
  83. 12مارچ2005
  84. If this is Islam, then where is the problem
  85. 13مارچ2005
  86. 15مارچ2005
  87. Newspaper Clip
  88. The Asian Age 5 New Delhi, 14 March 2005
  89. 16مارچ2005
  90. 17مارچ2005
  91. 18مارچ2005
  92. 19مارچ2005
  93. 20مارچ2005
  94. 22مارچ2005
  95. 23مارچ2005
  96. 24مارچ2005
  97. Quran has to be rerevealed today
  98. 25مارچ2005
  99. 26مارچ2005
  100. 27مارچ2005
  101. 29مارچ2005
  102. 30مارچ2005
  103. ٹائمس آف انڈیا31مارچ 2005
  104. یکم اپریل2005
  105. 2اپریل2005
  106. 3اپریل2005
  107. 5اپریل2005
  108. Newspaper Clip
  109. 7اپریل2005
  110. 8اپریل2005
  111. 19اپریل2005
  112. 10اپریل2005
  113. 12اپریل2005
  114. 13اپریل2005
  115. 14اپریل2005
  116. 15اپریل2005
  117. 17اپریل2005
  118. LOC as India-Pak Border
  119. 19اپریل2005
  120. 20اپریل2005
  121. 21اپریل2005
  122. 22اپریل2005
  123. ان تا زہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب نہیں ہے
  124. 23 اپریل2005
  125. 24اپریل2005
  126. 26اپریل2005
  127. 27اپریل2005
  128. 28اپریل2005
  129. 29اپریل2005
  130. کہو اشوک کیسے آئے؟
  131. اس سلسلے میں مجھے بہت سے تلخ تجربے ہوئے ہیں۔
  132. The clash of Civilizations and the Remarking of world order
  133. By: Samuel P. Huntiongton
  134. 7مئی2005
  135. 8مئی2005
  136. 10مئی2005
  137. (مؤطاالامام مالک، کتاب انظریارۃ، صفحہ:30)
  138. 11مئی2005
  139. 12مئی2005
  140. 14مئی2005
  141. 17مئی2005
  142. 18مئی2005
  143. ’’اصول کی بنیاد پر چپ ہونا بہادری ہے اور مصلحت کی بنیاد پر چپ ہونا بزدلی‘‘
  144. to promote educational advancement of the muslims of India
  145. 22مئی2005
  146. 24مئی2005
  147. 25مئی2005
  148. 26مئی2005
  149. 27مئی2005
  150. 28مئی2005
  151. 29مئی2005
  152. 31مئی2005
  153. Newspaper Clip
  154. یکم جون2005
  155. 2جون2005
  156. 3جون2005
  157. بادہ ہے نیم رس ابھی ذوق ہے نارسا ابھی رہنے دو غم کے سرپہ تم خشت کمیسیاابھی
  158. 4جون2005
  159. خان الشافی شرار کم قلیل ۔۔۔۔ فانی فی خیارکم دکتیر
  160. 5جون2005
  161. قل الحد للہ سیہ یکم آیاتہ فتعرفونہا (93)
  162. 7جون2005
  163. 8جون2005
  164. 9جون2005
  165. 10جون2005
  166. ومن بتبغ غیر الاسلام دینا فلوہ یقبل مند، وھوفی الآخرۃ من الخاسرین(آل عمران85)
  167. 11جون2005
  168. 12جون2005
  169. 17جون2005
  170. Boss is always wright
  171. 18جون2005
  172. 19جون2005
  173. 21جون2005
  174. 22جون2005
  175. 23جون2005
  176. 25جون2005
  177. و کبّرہ تکبیراً
  178. 26جون2005
  179. 28جون2005
  180. ایں دفتر بے معنی غرق مے ناب اولیٰ
  181. لیبلوکم اُیّکم أحسن عملاً(الملک)
  182. آخرت میں جب جنت بنائی جائے گی تو عالم موجودات کا یہ تضاد ختم ہوجائے گا۔
  183. 9جولائی2005
  184. تاج محل اور مولانا وحید الدین خاں۔
  185. 10جولائی2005
  186. کیا کیا خیال باندھے ناداں نے اپنے دل میں پراونٹ کی سمائی کب ہوچوہے کے بل میں
  187. 13جولائی2005
  188. 14جولائی2005
  189. 15 جولائی2005
  190. 16جولائی2005
  191. 17جولائی2005
  192. Be still! and know I am God
  193. بشندازتے چوں حکایت می کنند از جُدائی ہا شکایت می کند
  194. مذکورہ مضمون بھی اسی طرح بلا دلیل بیانات پر مشتمل ہے۔
  195. 19جولائی2005
  196. 20جولائی2005
  197. 26جولائی2005
  198. 27جولائی2005
  199. 28جولائی2005
  200. 29جولائی2005
  201. 30جولائی2005
  202. 31جولائی2005
  203. بعد از خدا بزرگ کوئی قصہ مختصر
  204. وہی جو شنوئی عرش تھا خدا ہوکر اُترپڑاہے مدینے میں مفطفیٰ ہوکر
  205. مسلمانوں کے عروج وزوال کا راز
  206. موجودہ زمانے میں ہرمسلم جماعت اس قسم کی بے بنیاد خوش فہمی میں مبتلا ہے۔
  207. People are searching for purpose and meaning in their lives (P-16)
  208. By dying on the cross, Jessus look the sins of the world upon him (P-16)
  209. الحکمۃ ضالۃ المؤمن، حیث وجدھا فہوأ حق بہا
  210. (حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ جہاں اس کو پائے اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے)
  211. 11اگست2005
  212. 12اگست2005
  213. 13اگست2005
  214. 17اگست2005
  215. 18اگست2005
  216. 19اگست2005
  217. لن یصلوااِلیک
  218. 23اگست2005
  219. وحید الدین، نئی دہلی22اگست2005
  220. 28اگست2005
  221. 30اگست2005
  222. 31اگست2005
  223. یکم ستمبر2005
  224. لقد خلقنا الانسان فی أحسن تقویم ثم رددناہ أسفل سافلین
  225. وددت أفی قدرأیتا اخواننا (المؤطا)
  226. 8ستمبر2005
  227. 9ستمبر2005
  228. 14ستمبر2005
  229. 15ستمبر2005
  230. 16ستمبر2005
  231. 17ستمبر2005
  232. 18ستمبر2005
  233. 20ستمبر2005
  234. خداشرّے بَرانگیزد کہ خبرمادراں باشد
  235. 24ستمبر2005
  236. 25ستمبر2005
  237. 27ستمبر2005
  238. 28ستمبر2005
  239. 29ستمبر2005
  240. یکم اکتوبر2005
  241. داتا، ایک رام، بھکاری ساری دنیا رام ایک دیوتا، پجاری ساری دنیا
  242. 4اکتوبر2005
  243. 5اکتوبر2005
  244. 7اکتوبر2005
  245. 8 اکتوبر 2005
  246. 11اکتوبر2005
  247. 12اکتوبر2005
  248. 25اکتوبر2005
  249. 26اکتوبر2005
  250. 27اکتوبر2005
  251. من لم یشکر الناس لم یشکراللہ
  252. (سنن ادبی داؤد: الجرا الرابع، صفحہ:257-256باب فی شکر المعروف)
  253. (مسند الامام احمد بن حنبل، المجلد الرابع، صفحہ278)
  254. 3نومبر2005
  255. بناکر دندخوش رسمےبخاک وخون غلطیدن خدارحمت کندایں عاشقان پاک طفیت را
  256. یہ شہادت بآمہ الفت میں قدم رکھتا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
  257. 15نومبر2005
  258. Salem wept in car on way from airport
  259. ایک خط
  260. مکرمی مولانا یحییٰ نعمانی ندوی، ایڈیٹر ماہنامہ الفرقان لکھنؤ228013-
  261. السلام علیکم ورحمۃ اللہ
  262. حکمت ولی اللہ کی عصری معنویت
  263. وحید الدین،6دسمبر2005
  264. دوسرا خط
  265. برادرِ محترم مولانا یحییٰ نعمانی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
  266. نئی دہلی وحید الدین،7جنوری2006
  267. Dr. Ghislaine Loyre
  268. IRSEA (CNRS)
  269. 1, rue Lavoisier, 75008 Paris France
  270. Tel: 0033-6-8385 3063
  271. IRSEA: Research Institute for Southeasr Asia
  272. CNRS: French Natloual Research Center (Marseille)
  273. Thousands of British Elite Embrance Islam

Salem wept in car on way from airport

6دسمبر1992کو ایودھیا میں بابر مسجد ڈھائی گئی۔ اس کے بعد مسلمانوں میں کافی غصہ پیدا ہوا۔ بمبئی میں ہندومسلم فساد ہوا۔1993میں بمبئی کے تجارتی علاقوں میں کئی بم دھماکے ہوئے۔ جن میں بہت سے لوگ مارے گئے ان بم دھماکوں کا ایک اہم فردابوسالم تھا۔ بم دھماکے کے بعد وہ ہندوستان سے بھاگ گیا۔ حال میں وہ پُرتگال میں تھا۔ حکومت ہند نے لمبی گفت و شنید کے بعد اس کو پُرتگال میں گرفتارکیا اور وہ ہندوستان لایا گیا۔ ابوسالم بہت مضبوط اعصاب کا آدمی تھا۔ لیکن جب انڈیا کی پولس اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگاکر انڈیا واپس لائی تو وہ اتنا دل شکستہ ہوا کہ وہ رونے لگا۔ جھوٹی بہادری ہمیشہ بزدلی پر ختم ہوتی ہے۔

کسی انسان کے ساتھ کم سے کم خیرخواہی یہ ہے کہ اس کو آپ اُس سے زیادہ کی امید نہ دلائیں، جتنا کہ فی الواقع آپ اس کے لیے کرسکتے ہیں۔

انسان اگر موت کو یاد کرے تو کوئی دُکھ اس کو دُکھ محسوس نہ ہو، اور کوئی سُکھ اس کے لیے کبھی سکھ نہ رہے۔

اصلاح بہت اچھی چیز ہے، لیکن جب اصلاح ممکن نہ ہو تو معتدل تعلقات کو برقرار رکھنا ہی سب سے اچھی چیز بن جاتی ہے۔

نو مسلموں کے حالات بتاتہیں کہ اکثر لوگ قرآن کو پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب مجھ کو دو تعلیم یافتہ نومسلموں کے تاثرات میں معلوم ہوا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ہم نے مختلف مذاہب کی مقدس کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر قرآن واحد کتاب تھی جس میں ہم کو محسوس ہوا کہ خدا خودمحمد سے کلام کررہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا اسلوب ایک معجزاتی اسلوب ہے۔ جب بھی کوئی شخص خال الذہن ہوکر قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اور خدا کے درمیان پردے ہٹ گئے ہیں اور خدا براہ راست طور پر اس سے خطاب کررہا ہے۔ ہر شخصیت اس کو براہ راست خطاب کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ دوسری تمام کتابیں صیفۂ غائب میں کلام کرتی ہیں اور قرآن صیفۂ متکلم میں۔

جب مجھے یہ حقیقت معلوم ہوئی تو میں نے سوچا کہ فلاحی اسکول کا نظم قرآن کا نظریہ خدائی اسکیم میں مداخلت کے ہم معنی ہے۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ اس کی ہر ایک قاری کو براہ راست خطاب کرتی ہوئی محسوس ہو۔ مگر نظم قرآن کے ذہن کو لے کر جب ایک شخص قرآن پڑھتا ہے تو براہ راست خطاب کا یہ پہلو اس سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ آگے کے مضمون اور پیچھے کے مضمون میں نظم تلاش کرتے ہیں گھویارہتا ہے۔ اس طرح وہ براہ راست خطاب کا تجربہ نہیں کرپاتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو نظم قرآن کا نظریۂ فہم قرآن کے سلسلے میں ایک قسم کے ڈسٹریکشن Destractionکی حیثیت رکھتا ہے۔

دھیروبھائی امبانی گجرات میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ لیکن جب وہ مرے تو وہ ہندوستان کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن چکے تھے۔ ان کی اس غیر معمولی ترقی کا راز کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک نہایت اہم بات حبیب بھائی (حیدرآباد) سے معلوم ہوئی۔21نومبر2005کو انہوں نے ٹیلیفون پر بتایا کہ ایک بار میں نے کسی کام سے دھیروبھائی امبانی کا ٹیلی فون پر اپائنٹمنٹ لینا چاہا۔ انہوں نے کہا آفس میں تومیرے پاس وقت نہیں ہے۔ لیکن میں بذریعہ کار فلاں جگہ جارہا ہوں تم میرے ساتھ کار میں آجاؤ۔ اور سفر کے دوران بات ہوجائے گی۔ اس طرح سفر کے دوان ڈیڑھ گھنٹہ حبیب بھائی کو دھیروبھائی امبانی کی معیت حاصل رہی، جب بھائی نے بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹے کی پوری ملاقات میں دھیروبھائی امبانی نے کچھ بھی اپنی بڑائی کا اظہار نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ مسلسل طور پر مجھے یہ تاثر دیتے رہے کہ تم زیادہ بڑے آدمی ہو۔

یہ بات سن کر میں نے کہا کہ یہی کسی آدمی کی عظمت کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ حقیقی عظمت یہ ہے کہ آدمی کے اندر کامل تواضع پیدا ہوجائے، وہ دوسروں کو یہ یقین دلائے کہ تمہارے اندر غیرمعمولی امکانات ہیں۔تم ایک غیر معمولی انسان ہو۔ تم ہر قسم کی ترقی کرسکتے ہو۔

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدنیا کلّہا متاع، وخیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ (صحیح مسلم) یعنی دنیا کی ہر چیز سامان ہے اور دنیا کا سب سے اچھا سامان نیک عورت ہے۔

میرے نزدیک اس حدیث میں ایک مفہوم وہ ہے جو اس کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مفہوم ہے جو اس کے اندر اپنے آپ شامل ہے۔ یہ دوسرا مفہوم بلاغت کے اصول کے مطابق صنعت تقابلی سے معلوم ہوتا ہے۔ اس دوسرے مفہوم کو لے کر اگر کہا جائے تو غالباً پوری بات اس طرح ہوگی۔ خیر متاع الدنیا للمراء المراۃ) الصالحۃ وخیر متاع الدنیا للمرأۃ المرء الصالح۔

قرآن کی سورہ الصف میں حضرت مسیح کے حواربین کے حوالے سے نصرت طلب کی گئی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس نصرت کے لیے حوارین کا حوالہ کیوں دیا گیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نصرت کی نوعیت کے اعتبار سے ہے۔ حضرت مسیح کے حواریوں نے آپ کی جو نصرت کی تھی وہ پُرامن دعوت کے اعتبار سے تھی۔ غالباً اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مسیح کے حواریین نے پُرامن دعوت کے لیے مسیح کا ساتھ دیا تھا۔ اسی طرح اے ا تل مدینہ! تم لوگ پُرامن دعوت کے کام کے لیے پیغمبر اسلام کی مدد کرو۔

سورہ الصف میں اہل ایمان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسیح کے پیرووں کی طرح خدا کے مددگار بنو۔ میرے ذہن میں بہت عرصے سے یہ سوال تھا کہ یہاں مسیح کے حواریوں کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے۔ اب سے تقریباً65سال پہلے جب کہ میں مدرسہ میں پڑھتاتھا۔ اس وقت میں نے اس آیت کے بارے میں وہاں کے سینئر استاد مولانا اختراحسن اصلاحی سے سوال کیا تھا۔ مگر اس وقت سے لے کر اب تک طویل غوروفکر کے باوجود مجھے اس آیت کے مفہوم پر اطمینان حاصل نہیں ہوسکا تھا۔21نومبر2005کو اس سوال کا جواب اچانک میرے دماغ میں آیا۔

وہ جواب یہ تھا کہ یہ انداز دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ خدا کی ہدایت میں تسلسل ہے۔ ہرنبی کو خدا کی طرف سے ایک ہی دین کی ہدایت دی گئی۔ اور اسی دین کی ہدایت پیغمبر اسلام کو بھی دی گئی۔ ہدایت خداوندی میں تسلسل کی بات قرآن کی بہت سے آیتوں سے نکلتی ہے۔ مثلاً روزے کا حکم دیتے ہوئے یہ کہنا کہ :کما کتب علی الذین عن تبلکم(التوبہ:183)دین کی اقامت کا حکم دیتے ہوئے یہ کہا کہ: شرع لکم من الدین ماوصیٰ بہ نوحاً الخ (الشوری:13) مختلف انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد پیغمبر اسلام سے یہ کہنا کہ :اولئک الذین ھدی اللہ خیرمداھم اقتدہ (الانعام:90)وغیرہ۔

یہ تصور غلط ہے کہ یہ پچھلے نبیوں کو ناقص دین ملا تھا، اور پیغمبر اسلام کو کامل دین دیاگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہرپیغمبر کو خدا کی طرف سے ایک ہی دین کی ہدایت ملی۔ یہ ہدایت اساسی حکام کے بارے میں تھی۔ جہاں تک تفصیلی احکام کا تعلق ہے کسی بھی پیغمبر کو نہیں دیے گئے۔ حتیٰ کہ خود پیغمبر اسلام کو بھی نہیں، یہ کوئی کمی کی بات نہیں بلکہ یہ فطری تقاضے کی بات ہے۔ اسی فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے دین کے مصاد قرآن و سنت کے بعدتیسرے مأخذ کے طور پر اجتہاد کو شامل کیا گیا ہے۔ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں۔ قیاس اور اجماع۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اہل ایمان کو صرف خداسے حب شدید ہوتا ہے۔(والذین آسفوا أشد جتالہ ، البقرہ:165) جہاں یہ سوال ہے کہ مومن کے اندر یہ حب شدید کیسے پیدا ہو۔ صوفیاء نے اس کی تدبیر یہ بتائی کہ حجرے کی تنہائی میں بیٹھ کر آپ ہزاروں، لاکھوں بار اللہ اللہ کرے۔ میرے نزدیک حجرے میں اللہ اللہ کرنے سے ہرگز حب شدید کسی کے اندر پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس قسم کے تکرار الفاظ سے ایک قسم کا وجد (cestacy)تو پیدا ہوسکتا ہے۔ مگر اس سے خدا کے ساتھ حب شدید نہیں پیدا ہوسکتا۔ حب شدید کے حصول کا ذریعہ لفکیرہے نہ کہ تکرارالفاظ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں زمین و آسمان پر غورکرنے کو اس کے حصول کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ (آل عمران:191)

حب کثیرکا ذریعہ صرف عرفان کثیر ہوسکتا ہے۔ یعنی خدا کو اس کی بے پایاں عظمت اور قدرت کے ساتھ دریافت کرنا۔ اس قسم کی معرفت کبھی حجرے کے اندر تکرار الفاظ سے نہیں ہوسکتی۔ اس معرفت کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ آدمی آفاق کی اتھاہ وسعتوں میں خداکو دریافت کرے۔

برصغیر ہند میں پچھلے تقریباً سو سال سے مسلمانوں کی ایک ہی سوچ رہی ہے۔1947سے پہلے بھی اور1947کے بعد بھی۔ وہ یہ کہ انڈیا میں دو مختلف سیاسی گروہ ہے۔ سیکولر اور فرقہ پرست۔ تمام مسلمان اسی پولیٹیکل ڈائکائمی (Political diactomy) میں جی رہے ہیں۔ ہر الیکشن میں مسلمانوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے الفاظ میں فرقہ پرست طاقتوں کو ہراؤ، اور سیکولر طاقتوں کو جتاؤ۔

یہ تقسیم بلا شبہہ غلط اور بے بنیاد ہے۔ صحیح تقسیم یہ ہے کہ انڈیا میں اور ساری دنیا میں دو گروہ بستے ہیں۔ ایک، داعی اور دوسرے مدعو۔ مسلمان داعی ہیں اور دوسرے تمام لوگ مدعو۔ یہی صحیح تقسیم ہے اس کے بجائے مذکورہ تقسیم میرے نزدیک نہ صرف غلط ہے، بلکہ حرام ہے۔ میں اس کو حرام اس لیے سمجھتا ہوں کہ اسی سوچ کے تحت بیک وقت دو غلط ذہن بنتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں قوم پرستانہ ذہن اور غیر مسلموں کے بارے میں رقیبانہ ذہن۔ مسلمانوں کو اپنا سمجھنا اور دوسروں کو غیر سمجھنا۔ مسلمانوں کے بارے میں اکرام مسلم کا ذہن اور دوسروں کے بارے میں تحقیر غیرمسلم کا ذہن۔ مسلمانوں کے بارے میں خیرخواہی کا ذہن اور غیر مسلموں کے بارے میں نفرت کا ذہن۔ مسلمانوں کے بارے اپنا پن کا ذہن اور غیرمسلموں کے بارے میں دوری کا ذہن۔ اس قسم کے ذہن کے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ مسلمانوں میں ہر جگہ آفاقیت اور انسان دوستی کا ذہن ختم ہوگیا ہے یہ ذہن میرے نزدیک دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے خودکشی کے ہم معنی ہے۔

دہلی کی ایک مسجد کے امام صاحب نے بتایا کہ ان کی مسجد میں کچھ تعمیرات ہورہی تھی۔ اس کو لے کر ہندومسلمان میں جھگڑاکھڑاہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ آ رایس ایس کے ایک مقامی لیڈر سے ملے۔ لیڈرنے کہا کہ آپ لوگ اس معاملے میں چپ رہے۔ ہم اس کام کو کرائیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے ہندوؤں سے لڑبھڑکرمسجد تعمیر کرادی۔

اس واقعے کو سن کر ایک صاحب نے کہا کہ آر ایس ایس کے لیڈر نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے ایسا کیا۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے مفاد ہی کے لیے کچھ کرتا ہے۔ جس کہ علماء بھی۔ میں نے کہا کہ آپ کو مفاد اور تخریب کاری میں فرق کرنا چاہیے۔ مفادسدپے کرتے ہیں کوئی حرج نہیں۔ البتہ بدخواہی بری چیز ہے۔ مثلاً سیاسی مفاد کے لیے مسجد بنانا بامشکل درست ہے۔ البتہ سیاسی مفاد کے لیے مسجد کو توڑنا ایک غلط کام ہے۔ میں نے کہا کہ مفاد پسندی فطرت کا ایک قانون ہے۔ انسان کے اندر اگر مفادپسندی نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں ختم ہوجائیں۔ زندگی کی سرگرمیاں میں مفاد پسندی ایک محرک کا کام کرتاہے۔

سویکا گوسوامی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو خاتون ہیں۔ ہندوازم سے غیر مطمئن ہوکر وہ بدھسٹ بن گئیں۔ اپنی اعلیٰ صلاحیت کی بنا پر انہیں دہلی کے بدھسٹ حلقے میں لیڈر کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ وہ چند بار ملاقات کے لیے آئیں۔ ایک بار انہوں نے ہمارے اسپریچیول کلاس میں بھی شرکت کی۔

29نومبر2005کی شام کو وہ مسٹر خالدانصاری کے ساتھ ہمارے دفتر میں آئیں ان کا ٹیلی فون نمبریہ ہے:9873166215

دو گھنٹے کی گفتگو میں میںنے بہت سی باتیں کہیں۔ مثال کے طور پر سائیکل آف برتھ کے نظریے پر میں نے کہا کہ یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اگر میں سائیکل میں ہوں تو مجھے خود اس کی خبرہونی چاہیے نہ کہ کوئی دوسرا شخص مجھےاس سے باخبر کرے۔ بُدّھا کے بارے میں میں نے کہا کہ میں نے کئی مضامین اور کتابیں بدّھا کے بارے میں پڑھی ہیں۔ آپ لوگ جس بدّھا کو مانتے ہیں وہ بدھا تاریخ سے ثابت نہیں۔ یہ آپ کا اپنا ایجاد کیا ہوا (Invented)بدھا ہے نہ کہ تاریخی طو پر وافقی بدھا۔ آخرمیں وہ مطمئن ہوگئیں اور یہ کہہ کر واپس گئیں کہ آج سے میں بدھسٹ خیالات کو الگ رکھدوں گی اور اب آپ کی گائڈنس میں چلو ں گی۔

یکم دسمبر کی صبح سویرے ایک بات سمجھ میں آئی۔ میرے کمرے کی لائٹ بھجی ہوئی تھی۔ میں نے اس کی سوئچ دبائی تو اچانک بلب روشن ہوگیا۔ اس نظر کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ روشنی کا سرچشمہ پاور ہاؤس ہے۔ بلب کی حیثیت صرف روشنی کے آخذ (Recepient) کی ہے۔ پھر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ بجلی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی حقیقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ معرفت خداکی حقیقت کیا ہے۔ تقریباً5ہزار سال سے انسان یہ سمجھتا رہا کہ معرفت کا خزانہ انسان کے خوداپنے اندر ہے۔ چناں چہ سارے لوگ خود اپنے اندر معرفت کو تلاش کرتے رہے۔ اسی نقطۂ نظر پر اچاریہ رجنیش نے ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا ٹائٹل یہ ہے:کُذڑلنی اندربسے

مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص بلب کو بجھا ہوادیکھے تو یہ فرض کرلے کہ روشنی خودبلب کے اندر ہے اور روشنی کے حصول کے لیے ساری محنت خودبلب کے اوپر کرنے لگے۔ اس طرح کی کوشش ہزاروں سال سے کی جائے تب بھی خود بلب سے روشنی حاصل نہیں ہوگی۔ کیوں کہ روشنی ماخذ (Source)بلب سے باہر پاور ہاؤس کے اندر ہے۔

یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ اس معاملے میں انسان کی حیثیت طالب معرفت کی ہے اور خدا کی حیثیت معطئی معرفت کی۔ معرفت خدا سے تعلق کے ذریعے حاصل ہوگی نہ کہ خود اپنے آپ میں مفروضہ محنت سے۔

اس غلط نقطۂ نظر کا نتیجہ یہ ہوا کہ تلاش معرفت کا مرکز خود انسان بن گیا، حالاںکہ صحیح یہ ہے کہ تلاش معرفت کا مرکز خدا کو بنایا جائے۔

یکم دسمبر2005کو پروفیسر عبدالاحد (73سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ بنگلور سے اپنی اہلیہ کے ساتھ تبلیغی مرکز میں آئے۔ یہاں ایک مہینے ٹھہرے۔ میں نے پوچھا کہ آپ دونوں کے آنے جانے پر کتنا خرچ ہوا انہوں نے کہا کہ تقریباً تین ہزار روپیہ۔

میں نے کہا کہ آپ ایک مہینے تک تبلیغی مرکز میں رہے اور اس سفر پر تین ہزار روپے خرچ کئے۔ مجھے بتائیے کہ اس مدت میں آپ نے یہاں کیا سیکھا۔ وہ کوئی خاص بات نہ بتاسکے۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ امت کی زبوں حال کو جانا۔ میں نے کہا کہ میں معمولی بات نہیں پوچھ رہا ہوں بلکہ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ آپ نے خود ذاتی طور پر کیا نئی بات سیکھی۔ جس کو لے کر آپ بنگلور جارہے ہیں وہ کوئی ایک بات بھی نہ بتاسکے۔ میں نے کہا کہ پھر آپ شاید یہاں زیارت کے لیے آئے تھے۔ حالاں کہ زیارت اسلام میں کوئی چیز نہیں۔ آپ خوداپنے بزرگ کی کتاب حیاۃ الصحابہ پڑھیے اور مجھے بتائیے کہ کیا صحابہ زیارت کے لیے سفر کیا کرتے تھے۔

صحابی رسول عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے:

انّ الذیی یفتی الناس فی کل مایستفتون فیہ مجنون (یعنی جو شخص لوگوں کے ہر ایک سوال کا جواب دیتا ہو وہ پاگل ہے) مجمع الزوائدصفحہ183

اسی طرح عبداللہ بن مسعود کا ایک قول اس طرح آیا ہے: ماأنت بحمدت قوماً حدیثاً لا تبلغہ عقر لہم الا کان لبعضہم فتنہ ، مقدمہ مسلم، جلد1۔ صفحہ9(یعنی جب تم لوگوں کے سامنے ایسی بات بیان کرو جو ان کی عقل کی پکڑ میں نہ آتی ہو تو ایسی بات لازماً ان کے لیے فتنے کا باعث بن جائے گی)