Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کا ایک ضمیمہ ہوتا ہے جس کا نام دہلی ٹائمزDelhi Timesہوتا ہے۔ اس کے شمارہ 15جولائی2005کے صفحہ اول پر مائیکل جیکسنMichael Jackson'sکا قصہ ہے۔ مائیکل جیکسن ایک امریکی باکسر ہے۔ اس نے اپنے فن میں زبردست ترقی کی:
Michael was one of the biggest success stories on the 1980s.
اس کے بعد مائیکل جیکسن سے ایک غلطی ہوئی۔ اس نے ایک لڑکے کے ساتھ جبراً جنسی فعل کیا۔ یہ واقعہ میڈیا میں آیا۔ اور اس پر بہت ہنگامہ کھڑا ہوا۔ پھر یہ کیس عدالت میں گیا۔ اس زمانے میں مائیکل جیکسن بہت پریشان تھا۔ اس نے بنارس کے ایک ہندو گرو دیو کی نندن شاستری سے ربط قائم کیا۔ یہ ہندو گرو علم نجوم (Astrology)کا ماہر سمجھا جاتا ہے گرو نے اپنے فن کے مطابق حساب لگاکر بتایا کہ قسمت کا ستارہ تمہارے ساتھ ہے اور تم کو کچھ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ چند سال تک یہ کیس عدالت میں چلا، اور14جولائی کو عدالت نے ایک فیصلے میں مائیکل جیکسن کو بری کردیا۔ اب مائیکل جیکسن بہت خوش ہے اس وقت حاکم بحرین کے بیٹے شیخ عبداللہ بن حمد الخلیفہ کے حضرت مہابی کے طور پر بحرین میں ہے۔
مائیکل جیکسن کی عدالتی جیت کو لوگوں نے ہندو گرو کا کارنامہ سمجھا ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مائیکل جیکسن کی جیت اس لیے ہوئی کہ قسمت کا ستارہ ان کی تائید میں تھا۔ وہ اس کو ہندو گرو کی نجومی مہارت کا کرشمہ سمجھتے ہیں۔
مگر مائیکل جیکسن کی اس کامیابی کا تعلق علم نجوم سے نہیں۔ مائیکل جیکسن نے اپنے کیس کی پیروی کے لیے امریکہ کے ایک ماہر قانون کی خدمات حاصل کیا ۔ آج کل کی عدالتوں میں ٹیکنکل گراؤنڈ پر فیصلے ہوتے ہیں۔ اس ماہر قانون نے کیس میں ایک ٹکنیکل گراؤنڈ کی دریافت کی۔ اس طرح جج مجبور ہوگیا کہ وہ جیکسن کے موافق فیصلہ دیا۔ ٹیکنکل گراؤنڈ پر عدالتی فیصلہ لینے کا یہ کام آج کل بہت عام ہے۔ ہر ملک میں بڑے بڑے مجرمین اس کا سہارا لے کر چھوٹ جاتے ہیں۔ اس کام کو امریکہ میں لوپ ہول انڈسٹری (Loop-hole Industry)کہا جاتا ہے۔ مائیکل جیکسن اگر ماہر قانون کی خدمات حاصل نہ کرتا اور کیس کو قانونی پیروی کے بغیر چھوڑدیتا تب کسی کو یہ کہنے کا موقع تھا۔ یہ فیصلہ علم نجوم کے تحت ہوا۔