Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مؤ(یوپی) میں14اکتوبر2005کو ہندومسلم فساد ہوا۔ جو کئی دنوں تک بھیانک صورت میں جاری رہا۔ اس کے بارے میں مسلم اخبارات اور پرچوں میں رپورٹیں چھپتی رہیں۔ مگر حسب معمول ان تمام رپورٹوں میں کہانی کے نصف ثانی کو بتایا گیا ہے اور کہانی کے نصف اول کو حذف کردیا گیا ہے۔ اس قسم کی رپورٹنگ بلا شبہہ غیر اسلامی رپورٹنگ ہے۔
14اکتوبرکو رمضان1426ھ کی8تاریخ تھی۔ مسجد میں مسلمانوں کی تراویح شروع ہوئی۔ اس وقت قریب کے ایک مقام پر ہندوؤں کا بھجن لاؤڈاسپیکر پر ہورہا تھا۔ تین مسلم نوجوان مسجد سے نکل کر وہاں گئے اور ہندوؤں سے کہا کہ تم اپنا لاؤڈاسپیکر بندکرو کیوں کہ ہماری تراویح میں خلل ہورہا ہے۔ ہندوؤںنے کہا کہ ہم نے اس کے لیے باقاعدہ سرکاری اجازت لی ہے۔ ہم اس کو بند نہیں کریں گے۔ اس پر مسلم نوجوانوں نے ہندوؤں کو مارا۔ اس کے بعد پولس آئی اور وہ مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر لے گئی۔مؤ کے مسلمان نوجوانوں کو روکنے کے لیے تو باہرنہیں نکلے تھے۔ لیکن وہ ہجوم کرکے تھانے پہنچے اور مسلم نوجوانوں کو پولس کے زبردستی چھڑاکر واپس لائے۔ اس کے بعد وہاں زبردست فسادہوا۔ مسلمانوں نے بھی ہندوؤں کو کچھ نقصان پہنچایا۔ مگر ہندوؤں نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مسلمانوں کے گھروں اور کارخانوں کو بڑی تعداد میں جلادیا۔ مسلمانوں کے کاروباری نقصان کا اندازہ تقریباً بیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔
اس معاملے میں مسلمانوں کی دہراغلطی ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ واقعہ مسلم ورسزہندوواقعہ تھا۔ بعد کو خود مسلمانوں کی سرکشی کے نتیجے میں یہ واقعہ مسلم ورسز پولیس بن گیا۔ اس طرح ہندو اور پولیس دونوں غصہ ہوگئے اور دونوں نے مل کر مسلمانوں کو اپنے انتقام کا نشانہ بنایا۔
سعد بن عُبادہ مدینے کے ایک سردار تھے۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد ان کا قبیلہ ان کو خلیفہ بناناچاہتا تھا۔ مگر ان کے بجائے ابوبکر صدیق کو خلیفہ بنایاگیا۔ اس پر غالباً وہ ناراض ہوئے اور شام چلے گئے۔ وہاں ،خوران کے مقام پر ان کا635عیسوی میں انتقال ہوگیا۔ اسی طرح خلیفہ عمرنے خالد بن ولید کو سرداری کے عہدے سے معزول کیا۔ غالباً ان کے اندر اس پر ناراضگی ہوئی۔ بعد کو جب وہ مدینہ واپس آئے تو خلیفہ عمر نے ان کو والی بنانا چاہا مگر انہوں نے اس عہدے کو قبول کرنے سے انکارکردیا اور شام چلے گئے۔ (فدعاہ عمر لیولّیہ۔ فأنی الأعلام۔ ومات بحمنص (سوریہ) وہاںحمصی642عیسوی میں ان کی وفات ہوئی۔
کسی آدمی کو مرکزی قیادت سے ناراض ہو تو اس کے لیے دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ناراضگی پر خدا کے یہاں کوئی پکڑ نہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ناراضگی کو لے کر باغی بن جائے۔ وہ مرکزی قیادت کے خلاف معاندائے سرگرمیاں کرنے لگے۔ عبداللہ بن ابی نے مدینے میں یہی کیا۔ یہ دوسری صورت حرام ہے۔ ایسے شخص کو خدا کے یہاں معافی ملنے والی نہیں۔
حدیث میں آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جُعلت لی الأرض مسجداً (زمین پوری کی پوری میرے لیے مسجد بنادی گئی، صحیح البخاری، کتاب التیمم) علماء عام طور پر اس کو دین محمد کی فضیلت شمارکرتے ہیں۔ مگر یہ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ پچھلے ادیان میں ایک بگاڑکی تصیح ہے۔ پچھلے ادیان میں جو بگاڑآیا، ان میں سے ایک یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں جب ظواہر کو اصل دین سمجھ لیا گیا تو عبادت ایک ایسی چیز بن گئی جو صرف کسی مخصوص عمارت کے اندراداکی جاسکے۔ یہ ایک زوال کا ظاہرہ تھا۔ اس مزاج کو ختم کرنے کے لیے پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ ’’تمام زمین خدا کی عبادت گاہ ہے‘‘ جس مقام پر عبادت کرو تمہاری عبادت اداہوجائے گی۔
حبیب بھائی نے حیدرآباد میںCPSکے نمونے پر ایک سینٹر قائم کیا ہے۔ انہوں نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی دعوہ ورک میں لگادیں۔
10نومبر2005کو ان کا ٹیلیفون آیا تو میں نے کہا کہ آپ کا یہ فیصلہ بہت مبارک ہے۔ لیکن یاد رکھیے! داعی بننے کے لیے آپ کو داعیانہ کردار اپنانا ہوگا۔ آپ داعی اسی وقت بن سکتے ہیں جب کہ آپ دوسروں کو داعی نظر آئیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے اندر دو عادتیں غیر داعیانہ عادتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ پان، گٹکا وغیرہ کھاتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ آپ فضول خرچی کرتے ہیں۔ مثلاً حال میں آپ نے دہلی سے ایک لاکھ روپے کا جھاڑفانوس خریدا۔ یہ دونوں عادتیں داعی کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر آپ دعوتی کام کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ دونوں عادتیں مکمل طور پر چھوڑنا ہوگا۔ آپ یا تو دعوت کو چھوڑیں یا غلط عادت کو ۔ مزید میں نے کہا کہ آپ کو ابھی اور اسی وقت ترک کا فیصلہ کرنا ہوگا انہوں نے چند سیکنڈ سوچا اور پھر کہا کہ میں نے فیصلہ کرلیا۔ آج سے میں ان دونوں کاموں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑتاہوں۔
ہدایت کاگہرا تعلق دعا سے ہے۔ دعانہیں تو ہدایت بھی نہیں۔ ووجدک ضالاًفہدیٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ سچی دعا ہمیشہ اس گہرے احساس سے نکلتی ہے کہ میں ضلالت میں مبتلاہوں۔ اس گہرے احساس طلب کے ساتھ جو دعا نکلے وہی ہدایت کی دعا ہے۔ اور ایسی ہی دعا انسان کو ہدایت تک پہنچاتی ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ بیش تر یا تقریباً سارے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس احساس میں جیتے ہیں کہ انہیں ہدایت ملی ہوئی ہے۔ انہیں احساس ضلالت کا تجربہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ان سے طلب ہدایت کی سچی دعا بھی نہیں نکلتی، اور جو شخص سچی طلب ہدایت کے لیے دعا نہ کرے اس کو کبھی ہدایت ملنے والی نہیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ المستبان ماقالافعلی البادی مالم یعتد المظلوم۔ یعنی دو گالی دینے والوں کے اوپر وہ ہے جو انہوں نے کہا۔ ذمہ داری یادکی(پہل کرنے والے) کے اوپر ہے۔ جب تک مظلوم جوابی زیادتی نہ کرے۔ (مسنداحمد، جلد،2۔235)
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ 12نومبر2005میں صفحہ10پر ایک رپورٹ ہے جس کا عنوان ہے: