Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے کلیدی اصول کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ کلیدی اصول یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں تمام واقعات تاریخ سمجھا جائے۔ یہ تخلیقی منصوبہ ٹسٹ کے اصول پر مبنی ہے۔ اسی اصول کی بناپر لوگوں کو یہاں کامل آزادی دی گئی ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ایک نورتھے۔ ان کے اس نظریے میں اس بات کی کوئی توجیہہ نہیں کہ رسول اللہ پر جب پتھر مارے گئے تو آپ کے دانت کیوں توڑے۔ کیوں کہ اگر آپ نور تھے تو آپ کے دانت ٹوٹنا نہیں چاہیے۔ اسی طرح ایسا کیوں ہوا کہ رسول اللہ گھوڑے سے گرگئے اور آپ کو سخت چوٹ آئی۔ آپ کی موجودگی میں غزوۂ احد کے موقع پر شکست کیوں ہوئی۔ ان تمام سوالات کا جواب یہ ہے کہ کسی رسول کا آنا، خدا کے تخلیقی منصوبے کو منسوخ نہیں کرتا۔ اس کے باوجود اسباب وعلل کا نظام باقی رہتا ہے۔ اسی طرح یہ سوال کہ صحابہ کے زمانے میں باہمی ٹکراؤ کیوں ہوا۔ علی اور معاویہ کے درمیان خوئیں جنگ کیوں ہوئی۔ اس کو سمجھنے کے لیے بھ۔ی یہی کرنا ہوگا کہ صحابہ کی افضلیت کو معیار بناکر تاریخ کا مطالعہ نہ کیا جائے، بلکہ خدا کے تخلیقی نقشے کو معیار بناکر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے۔
پاکستان کے ڈاکٹر رفیع الدین (وفات:1969) کی ایک مشہور کتاب ہے۔ جس کا نام ہے: ’’قرآن اور علم جدید‘‘ اس کتاب کے دیباچے میں انہوں نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانے کے وہ مسلمان جو جدید تعلیم یافتہ مسلمان کہے جاتے ہیں، وہ ایک قسم کے ذہنی ارتداد میں مبتلا ہیں۔ اس نظریے کو لے کر مولانا ابوالحسن علی ندوی (وفات:1999)نے ایک تقریر کی جو عربی میں ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی۔ اس کا نام تھا:’’رِدّۃ ولاأبابکرلہا‘‘۔(ایک ارتداد ہے لیکن اس کے لیے کوئی ابوبکر نہیں)
میرے نزدیک یہ دونوں بزرگ سخت غلطی میں مبتلا تھے۔ یہ بات بجائے خود درست ہے کہ ماڈرن ایجوکیشن پائے ہوئے مسلمان، اسلام کی صداقت کے بارے میں شک اور شبہے میں مبتلا ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی ذہنی ارتداد نہیں ہے بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان (Intellectual discontent)کا کیس ہے۔مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ڈاکٹر رفیع الدین جیسے لوگ جو اسلام پیش کررہے ہیں وہ روایتی انداز کا اسلام ہے۔ جب کہ یہ مسلمان اسلام کو سائنسی انداز میں مجھنا چاہتے ہیں۔ یہی فرق مذکورہ صورت حال کا اصل سبب ہے۔ اگر اسلام کی تعلیمات کو سائنسی فریم ورک میں واضع کیا جاسکے تو یہ تمام مسلمان اس کو قبول کرلیں گے۔ موجودہ لکھنے اور بولنے والے مسلمان جس طرح اسلام کو پیش کررہے ہیں۔ ان کا مائنڈ اس سے ایڈریس نہیں ہورہا ہے ان کا کیس دعوت اور افہام وتفہیم کا کیس ہے نہ کہ قتال مرتدین کا کیس۔