Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بمبئی کے سفر میں ایک غیر متوقع بات پیش آئی۔ مسٹر خالد ایم۔ ایس سی بمبئی کی جماعت اسلامی کے اعلیٰ ذمہ دار کے بیٹے ہیں۔ وہ میرے ہر پروگرام میں برابر شریک رہے۔ میں ان سے واقف نہ تھا۔ انہوں نے خود اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا میری ویولنتھ والد صاحب کے بجائے آپ سے ملتی ہے۔ 1993میں جب بابری مسجد کے سوال پر آپ کا یہ پروگرام بمبئی میں ہوا تھا، اس وقت میں آپ کا مخالف تھا۔ اور آپ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں شامل تھا۔ مگر بعد کو میں نے آپ کی کتابیں پڑھیں اور ماہنامہ الرسالہ پابندی سے پڑھنے لگا اس کے بعد میرا ذہن بدل گیا۔ اب میں پوری طرح آپ کے اتفاق کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کے مشن میں شامل ہوجاؤں تاہم میں اس وقت ایک بزنس کررہا ہوں، جس کی وجہ سے مجھے کسی اور کام کے لیے وقت نہیں ملتا۔
ایک مسلم نوجوان کی شادی 5سال پہلے ایک مسلم لڑکی سے ہوئی۔ اس لڑکی کا نام عائشہ تھا۔ مسلم نوجوان بہت خوش ہوئے۔ نام کی مناسبت کو لے کر انہوں نے اپنے ذہن میں یہ خیال قائم کرلیا کہ مجھے دوسری عائشہ مل گئی۔ وہ عالم خیال میں یہ نقشہ بنانے لگے کہ انہیں اپنی بیوی عائشہ کو تاریخ کی دوسری عائشہ بنانا ہے۔ مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ مسلمان اکثر نام کی مشابہت سے بڑے بڑے خیالات قائم کرلیتے ہیں۔ حالاں کے حقائق کچھ اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ آدمی کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ اپنی بیوی کو دوسری عائشہ بنانا چاہتا ہے تو خود اس کو دوسرح محمد بننا پڑے گا۔ اس کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔
مولانا محمد ذکوان ندوی(پیدائش1978)نے ایک گفتگو کے دوران بہت بامعنی بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ لکھنؤ میں کچھ مسلمانوں سے ان کی گفتگو ہوئی۔ ان مسلمانوں نے عام مسلم ذوق کے مطابق شعروشاعری کا تذکرہ کیا۔ اس پر انہوں نے کہا:
’’صحابہ نے دورِ شاعری میں شاعری چھوڑدی تھی اور مسلمان دورسائنس میں شاعری کررہے ہیں‘‘
اس معاملے میں مسلمانوں کی بے خبری کا عالم یہ ہے کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت حسان پہلے نعت گو شاعر تھے۔ یہ ایک جھوٹی بات ہے۔ حضرت حسان نعت گوئی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ وہ مخالفین کے پروپیگنڈوں کا جواب دیتے تھے۔ اس زمانے کے مخالفین اپنی مخالفانہ باتیں شاعری کی زبان میں کیا کرتے تھے۔ اس کا جواب حضرت حسان نے بھی شاعری کی زبان میں دیا۔
میں نے ایک بار ایک صوفی سے پوچھا کہ تصوف کا ماخذ قرآن میں کیا ہے، انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی:
کونوا مع انصارقین (سچے لوگوں کا ساتھ اختیار کرو) توبہ ۔ میں نے کہا کہ اس آیت سے تصوف کا مسئلہ نہیں نکلتا۔ اس آیت میں ایک سادہ حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جب کہ تصوف ایک مکمل نظریہ اور ایک پورا فلسفہ ہے۔ تصوف کو قرآن سے ماخوذ بتانے کے لیے کوئی اور آیت درکار ہوگی۔