Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
انسان کے اندر نہایت طاقت ور جذبات بھرے ہوئے ہیں۔ کسی سے بہت زیادہ محبت کرنا۔ کس کو اپنا سب سے بڑا کنسرن سمجھنا، کسی کو اپنا سب کچھ بنالینا، امید اور اندیشے کے تمام جذبات کو کس کے ساتھ وابستہ کردینا، کسی کو اپنا مان کر اس کو اپنا سب کچھ دے دینا۔
جب ایک انسان خدا کو اس کی تمام عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کے یہ جذبات خدا کے لیے خاص ہوجاتے ہیں۔ مگر ہرآدمی خدا کو دریافت نہ کرسکے، وہ اپنے ان جذبات کو کسی اور چیز کے ساتھ وابستہ کردیتا ہے۔ مثلاً مال اولاد اور اقتدار وغیرہ۔ آج کل لوگوں کے لیے ان کے جذبات کا مرکز سب سے زیادہ ان کی اولادہوتی ہے، خاص طور پر بیٹا۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بے اولاد ہو تو شاید وہ خدا کو اپنے ان اعلیٰ جذبات کا مرکز بنا سکے۔ مگر اولاد اور خاص طورپر بیٹا ہونے کے بعد، مجھے یقین نہیں کہ کوئی شخص گہرے معنی میں خدا کو اپنے فطری جذبات کا مرکز بناسکتا ہے۔ الّا ماشاءاللہ اس لیے میں بیٹے کو Little Godکہتاہوں۔
حیددآباد کے حبیب بھائی دہلی آئے۔ تقریباً بیس سال پہلے انہوں نے خواب دیکھا تھا کہ ان کو بہت بڑا سانپ دوڑارہا ہے۔ وہ دوڑتے دوڑتے بالکل تھک جاتے ہیں۔ عین اس وقت وہ مجھ کو اپنے سامنے کھڑاہواپاتے ہیں۔ میرے سامنے آتے ہی سانپ فوراً رک جاتا ہے۔ وہ پوچھتے تہیں کہ اس سانپ سے بچنے کے لیے میں کیا کروں۔ میں جواب دیتا ہوں: دعوت کیجئے (Do Dawa work) یہ خواب وہ مہینے بھر بار بار دیکھتے رہے۔ مگر میرے کہنے کے باوجود وہ بیس سال کچھ نہ کرسکے۔ اب وہ سپریم کورٹ کے ایک کام کے تحت دہلی آئے۔ یہاں انہوں نے ہمارے CPSکے کام کو دیکھا ہمارے کئی ساتھیوں سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد ان کے اندر نیا عزم پیدا ہوگیا۔ حیدرآباد واپس جاتے ہی انہوں نے CPSکے ماڈل پر کام شروع کردیا۔ اور حیدرآباد میں اپنی ایک بڑی بلڈنگ کو اس کام کے لیے وقف کردیا۔
حبیب بھائی نے مذکورہ خواب اپنے والد بابوبھائی کی زندگی میں دیکھاتھا۔ بابوبھائی کا انتقال1987میں حیدرآباد میں ہوا۔
حیدرآباد کے حبیب بھائی کے معاملے کو سن کر مولانا محمد ذکوان ندوی نے ایک بہت اہم بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ’’حیدرآباد میں آپ کے مرکز کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا وہ بظاہر خدائی منصوبے کا ایک حصہ تھا۔ حیدرآباد کا یہ مرکز جو1983میں قائم ہوا، وہ مکمل طور پر مسلم اور ئنیٹڈ سوچ کے تحت بنا تھا۔ اُس وقت آپ کی سرگرمیاں تمام تر مسلمانوں پر مرتکزہوتی تھیں۔ اگر یہ مرکز آپ کی خواہش کے مطابق، خوب پھلتا پھولتا تو آپ ہمیشہ کے لیے مسلم اورینٹیڈ عمل میں مبتلا ہوجاتے۔ حیدرآباد کے مرکز کو ناکام کرکے خدانے آپ کو غیر مسلم لوگوں کی طرف موڑدیا۔ ابCPSکے تحت عجمومی دعوت کا جو کام ہورہا ہے وہ کبھی نہ ہوگا۔
ایک عارف شاعر کا یہ مصرعہ اس معاملے میں پوری طرح صادق آتا ہے: