آخرت میں جب جنت بنائی جائے گی تو عالم موجودات کا یہ تضاد ختم ہوجائے گا۔
Diary 2005 — Maulana Wahiduddin Khan
Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آخرت میں جب جنت بنائی جائے گی تو عالم موجودات کا یہ تضاد ختم ہوجائے گا۔
اکثر ندی اور احمد بن حنبل نے ایک روایت نقل کی ہے مسند احمد میں یہ روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ چھ جگہ آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
عباد یسوابأبنیاء ولا شہداء یغبطہم البنیتون والشہداء لقعد ھم وقربہم من اللہ یوم القیامۃ (مسند احمد ج۔5صفحہ341)
اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ شہید ہوں گے مگر اللہ سے ان کے قرب کی بنا پر پیغمبر اورشہید بھی قیامت کے دن ان پر رشک کریں گے۔
غور کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اس حدیث میں دراصل دو دوروں کے اہل ایمان کا ذکر ہے۔ سائنس سے پہلے کے اہل ایمان اور سائنس کے بعد کے اہل ایمان سائنس سے پہلے کے دور میں اہل ایمان کو روایتی معلومات کے دائرے میں معرفت حاصل کرنا ہوتا تھا جب کہ سائنس کے بعد کے دور میں زیادہ وسیع معلومات کی روشنی میں معرفت کا دروازہ کھل گیا ہے۔ اس بناپر یہ ممکن ہوگیا کہ بعد کے دور میں زیادہ گہری معرفت رکھنے والے اہل ایمان پیداہوں۔ جو اپنی اعلیٰ معرفت کی بنا پر بڑے بڑے لوگوں کے لیے قابلِ رشک بن جائیں۔
حضرت ابراہیم چارہزار سال پہلے آئے۔ اس زمانے کی حالت کے بارے میں ان کی زبان سے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:
ربّ اِنّہنّ اُضلَلُقَ کثیراً من الناس (ابراہیم36)دوسری طرف قرآن کی سوہ نمبر102میں انسان کی زرپرستی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: الہاکم التکاثر حتیٰ زُرتم المقابر (التکاثر)
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں تاریخ بشری کے دو فتنوں کا ذکر ہے۔ قدیم زمانے کا فتنہ مظاہر فطرت کی پرستش تھا، اور جدید زمانے کا فتنہ دولت کی پرستش ہے۔ قدیم زمانے کا انسان سورج اور چاند وغیرہ کو دیکھتا تھا تو وہ اپنی کم علمی کی بناپر یہ سمجھ لیتا تھا کہ یہی خدا ہے۔ یہ سمجھ کر وہ ان کے آگے جھک جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی دریافتوں نے ان فتنوں کی عظمت ختم کردی، لیکن سائنس کے ذریعہ وجود میں آنے والی ٹکنالوجی نے ایک عظیم تر فتنہ پیدا کردیا۔ وہ تھا خوبصورت مادّی دنیا کی تعمیر اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ دولت کا آنا۔
میں سمجھتا ہوں کہ قدیم فتنے کے مقابلے میں یہ حدید فتنہ زیادہ خطرناک ہے۔ اگر یہ ٹکنالوجی پہلے دریافت ہوجاتی تو شاید پیغمبروں کے سوا کوئی بھی مومن نہ ہوتا۔ انسانی تاریخ اور اس کے ساتھ اُخروی جنت دونوں سچے مومنین سے خالی رہتے۔ شاید پیغمبروں کے سوا خداکو کوئی اورنہ ملتا جس کو وہ جنت میں داخل کرتا۔