Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
میرے مدرسے کے ساتھ انوراعظمی اصلاحی اعظم گڑھ کے گاؤں مہوارہ کے رہنے والے تھے۔ ان کو برما (رنگون) سے کچھ سیدھے سادے آدمیوں نے خط لکھا کہ رنگون میں کافی مسلمان ہیں۔ یہاں اسلامی نظام قائم کرنے کے کافی مواقع ہیں۔ آپ یہاں آجائیے۔ چناں چہ انہوں نے رنگون جانے کا ارادہ کرلیا۔ مجھ کو معلوم ہوا تو میں ابوالفرقان صاحب کو لے کر مہوارہ گیا۔ یہ سفر میں نے بائیسکل پر کیا تھا ۔ میں نے انوراعظمی کو بہت سمجھایا کہ آپ اپنے وطن میں رہ کر کام کیجئے، رنگون نہ جائیے۔ مگر وہ نہ مانے اور پانی کے جہاز پر سفر کرکے رنگون پہنچ گئے۔ مگر وہاں وہ کامیاب نہ ہوسکے اور مایوسی کے عالم میں ان کا انتقال ہوگیا۔
جس زمانے میں میں ندوہ (لکھنؤ) میں تھا، وہاں کے ایک سینئر استاد مولانا اسحاق سندیلوی میرے کمرے میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ خبریں ملی ہیں کہ برما کے سرحدی علاقہ اراکان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ وہاں اسلامی حکومت قائم کرنے کے مواقع ہیں۔ آپ میرے ساتھ وہاں چلے۔ ہم دونوں مل کر وہاں اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کریں گے۔ میں نے اس سے سخت اختلاف کیا اور اراکان جانے سے معذوری ظاہر کی۔ بعد کے واقعات یہ ہیں کہ اراکان کے مسلمانوں نے اراکان کو برما سے الگ کرکے اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رنگون کی مرکزی حکومت نے اراکان کے مسلمانوں کے خلاف سختی شروع کی اور یہاں کے مسلمانوں کو کچل دیا۔ تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ اب اراکان میں مسلمان ایک مجبور اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔
دہلی کے ایک اعلیٰ ہندو خاندان کی ایک لڑکی میگھا کپور اپنے باپ کو مسٹر گوتم کو اور اپنے چچامسٹر نودیپ کپور کے ساتھ ملاقات کے لیے آئی میگھا کی شادی امریکہ میں مقیم ایک شخص سے طے ہوچکی ہے اور جلد ہی ہونے والی ہے آج کل میگھا کی شادی کی زوروشور سے تیاریاں ہورہی ہیں۔ میگھا نے پوچھا کہ کامیاب شادی کا فارمولا کیا ہے۔ میگھا کے ساس اس کی دوست پریا ملِک بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ پریا ملک سے میں نے یہ فارمولا لکھوایا:
Every marriage is doomed to failure except when you have learnt the art of failure management.
آج کل ساری دنیا میں Love marriageہورہی ہے۔ اور تقریباً ہر میریج ناکام ہوجاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس میں فطرت کا شعور شامل نہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ شادی کے بعد شروع کے چند دن صنفِ مخالف کی کوشش کام کرتی ہے۔ اس کے بعد جلد ہی دونوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ دونوں میں یکسانیت نہیں۔ دونوں کی سوچ وپسند الگ الگ ہے۔ یہاں سے دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ دونوں کو یہ بتایا جائے کہ شادی شدہ زندگی لُطف اندوزی کے لیے نہیں ہے بلکہ شادی شدہ زندگی ایک سماجی ذمہ داری ہے اور یہ سماجی زندگی صحیح طور پر اس وقت اداہوتی ہے جب کہ دونوں اختلاف کے باوجود ایڈجسٹمنٹ پر راضی ہوجائیں۔
قرآن کی سورہ الروم آیت21میں آیا ہے کہ:
خلق لکم من أنفکم أزواجاً لتسکنوا الیہا۔ اس آیت میں سکون سے مراد جنسی سکون نہیں ہے۔ جنسی سکون بھی اس کا ایک جز ہوسکتا ہے مگر یہاں سکون سے مراد زیادہ برترسکون ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ زندگی کا رول اداکرنے کے لیے ایک پرسکون اور پارٹنر حاصل کرنا:
To find a peaqceful partner for playing a greater role in life.
حضرت ابوہریہ کی ایک روایت حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے:
لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الرجل یلبس لُبتہ المراۃ ، والمرأۃ تلبس لُبسہ الرجل (مسنن ابی داؤد، کتاب التباس حدیث نمبر:4098
یعنی’’ رسول اللہ نے اس مرد پر لعنت کی ہے جو عورت کا لباس پہنے، اور اس عورت پر لعنت کی ہے جو مرد کا لباس پہنے‘‘۔
اس لعنت کا تعلق صرف ظاہری لباس سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اس مزاج سے ہے جس کے تحت عورت اور مرد دونوں مصنوعی طور پراس قسم کا لباس پہنتے ہیں۔ وہ مزاج یہ ہے کہ دونوں اپنے فطری رول کو ادانہ کریں۔ بلکہ دونوں مصنوعی طور پر ایک دوسرے کی نقل کرنے لگیں۔
یہ بات ایک اور روایت میں ان الفاظ میں آئی ہے:
لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المتشہین مس الرجال بالنساء والمشتبہات من النساء بالرجال (صحیح بخاری کتاب الباس حدیث نمبر:5885)
یعنی ’’رسول اللہ نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اورمردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے‘‘۔
مسٹر فراز سے میں نے کہا کہ بائبل میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے آپ کو غلط مان لو:
Blaim the self!
انہوں نے کہا کہ اس سے تو آدمی کے اندر احساس کمتری پیدا ہوجائے گا ، وہ ہمیشہ اپنے آپ کو گلٹی محسوس کرتا رہے گا۔ میں نے کہا کہ نزاعات کے موقع پر اپنی غلطی مان لینا اس لیے ہوتا ہے کہ اپنے سینے کو منفی جذبات سے بچایا جائے۔ اس کا تعلق احساس جرم سے نہیں۔