Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12اکتوبر2005
میری بیٹی نے مجھ سے کہا کہ اوکھلے کے فلاں شخص نے بتایا کہ فلاں دو آدمی (عورت اور مرد) کے درمیان غلط تعلقات ہیں۔ یہ سن کر میں بہت غصہ ہوا۔ میں نے کہا کہ کیا تم نے تحقیق کی ہے۔ کیا تم نے متعلقہ افراد سے اس معاملے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ کیا تم نے شبہات کے اصول پر اس معاملے کی پوری جانچ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر تم نے محض ایک شخص کے کہنے سے ایسی لغوبات کیوں مان لی۔ انہوں نے کہا کہ کہنے والا آدمی ایک معتبر آدمی (Reliable Person)ہے۔ یہ سن کر میرا غصہ بڑھ گیا۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے سنگین معاملے میں نہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کہنے والا معتبر ہے یا غیر معتبر۔ بلکہ شہادت اور گواہی کے اصول پر اس کی مکمل تحقیق کی جائے گی۔ مگر ان کی زبان سے یہ نہیں نکلا کہ میں نے اپنی بات بیان کرکے سخت غلطی کی۔ مجھے اتنا زیادہ غصہ آیا کہ میں چپ ہوگیا۔ میرا مزاج یہ ہے کہ جب میں کسی معاملے میں بہت زیادہ غصہ ہوتا ہوں تو میں چپ ہوجاتا ہوں۔
عام طور پر لوگ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق نہیں جانتے۔ مثلاً اس طرح کے سنگین معاملے میں یہ جاننا کہ راوی کا صرف معتبر ہونا کافی نہیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ اصل معاملے کی اصولی انداز میں جانچ پڑتال کی جائے۔ میں نے علماء بلکہ اکابر کی تحریروں میں پڑھا ہے کہ ایک معتبر شخص نے کہا یہ حضرات نہیں جانتے کہ سنگین معاملات میں یہ بالکل کافی نہیں۔ کسی کا معتبر ہونا۔ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ مگر جب و کسی اور شخص کے بارے میں ایک قابل اعتراض بیان دیتا ہے تو اس کے ماننے سے پہلے اس کی سخت جانچ پڑتال ضروری ہے۔
8اکتوبر2005کو جو شید زلزلہ آیا اس کا مرکز (اے پی سینٹر) پاکستان تھا۔ اس زلزلے میں پاکستان کے دو شہر بری طرح تباہ ہوگئے۔ پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد، اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی راجدھانی مظفرآباد، دونوں اس طرح تباہ ہوگئے کہ اس کے باشندے سڑکوں پرکھلے میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق اس زلزلے میں پچاس ہزار آدمی ہلاک ہوگئے۔
اس زلزلے کی ایک عجیب بات یہ تھی کہ وہ سلیکٹیو انداز میں آیا۔ اس میں خاص طور پر اسلام آباد اور مظفر آباد تباہ ہوئے۔ اس سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ خدا کے غضب کا اظہار تھا، جو اسلامی جہاد کے نام پر کی جانے والے ٹورازم کے خلاف ہوا۔ اسلامی جہاد کے نام پر جو ٹورازم جاری ہے۔ اس کا ایک سینٹر فلسطین تھا۔ خدانے اس کو اسرائیل کے ہاتھ کچل دیا۔ اس کا دوسرا مرکز پاکستان تھا۔ مظفرآباد میں ایسے جنگجوؤں کی عسکری تربیت ہوتی تھی اور اسلام آباد ان کا سرپرست بناہوا تھا۔ خدانے اسلام آباد اور مظفر آباد کو زلزلے کے ذریعہ تباہ کردیا۔
دہلی کے ایک تعلیم یافتہ ہندو سے بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آواگون کا نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ بتایا کہ ان کے دو رشتے دار ٹائمس آف انڈیا میں تھے۔ وہ ابھی جوانی کی عمر میں تھے حال میں وہ اسپورٹ کی رپورٹنگ کے لیے آسٹریلیا گئے۔ وہاں دونوں ایک کار پر سفر کررہے تھے۔ اچانک حادثہ ہوا، اور دونوں سڑک ہی پر مرگئے۔ گفتگو کے دوران ہندو مذہب کے آواگون کے نظریے پر بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آواگون کا نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعزّاء کے ساتھ رہے۔ لیکن آواگون کے نظریے میں اس کا کوئی امکان نہیں۔ کیوںکہ مرنے کے بعد خاندان کے تمام ممبر ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام کے نظریہ آخرت میں یہ امید موجود ہے کہ خاندان کے افراد اگرصالح عمل کریں تو خدا ان کو ایک جگہ اکھٹا کردے گا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ان کی راہ پر ایمان کے ساتھ چلی۔ ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی جمع کردیں گے۔ اور ان کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے۔ (السطور:21:52)یہی بات قرآن میں ایک دوسری جگہ بھی الفاظ کے تھوڑے فرق کے ساتھ آئی ہے (الرعد:23:13)
8اکتوبر2005کو پاکستان میں بھیانک زلزلہ آیا۔ پاکستانی ٹی وی پر میں نے دیکھا کہ کھنڈروں کے درمیان ایک عورت چیخ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ’’دنیا میں اگر کہیں جہنم ہے تو وہ پاکستان ہے‘‘۔ پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد پوری طرح تباہ ہوگئی ہے۔ وہاں ایک بہت بڑا لگزری ٹاور بنایاگیا تھا۔ وہ گرکر کھنڈربن گیا ہے۔
تاہم اس واقع کا ایک مثبت پہلووہ ہے جس کا تعلق ہندوستان کے مسلمانوں سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمان آج دوسرے تمام ملکوں کے مسلمانوںکے مقابلے میں بہتر حالت میں پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں سب سے بڑی صفت ان کی فخرپسندی تھی۔ اس کو امریکہ کی بم بازی نے تباہ کردیا تھا دوسری بُری چیز وہ تھی جس کو موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے غلط طور پر پھیلائی۔ یہ تھی اسلام کی انٹر نیشنل قومیت۔ اس غلط نظریے کے بناپر ہندوسان کے مسلمانوں کا ذہن پاکستان میں اٹکا رہتا تھا۔ اس زلزلے نے اس کو آخری طور پر ختم کردیا۔ ایک اور بُری چیز جو ہندوستانی مسلمانوں میں1947کے بعد پیدا ہوئی وہ ہندوؤں سے ٹکراؤکا ذہن تھا۔ مگر مسلسل طور پر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے اب اس مزاج کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس طرح اب یہ یقینی ہوگیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان تمام دنیا کے مسلمانوں سے زیادہ ترقی کریں گے۔
دنیا کے تقریباً ریفارمر اور سوشل ایکٹوسٹ اور ہیومن رائٹس کے لیے کام کرنے والے لوگ مشترک طور پر ایک ہی غلطی میں مبتلا رہے ہیں یہ لوگ ہر سسٹم کے خلاف جھنڈا اٹھالیتے ہیں۔ جس کا مشترک سبب یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو نظرآتا ہے کہ کسی سسٹم کے تحت ڈیولپمنٹ کا جو کام ہورہا ہے، اس سے بَروقت ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس بنا پر لوگ ہرسسٹم کو توڑنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ یا تو وہ اس کے خلاف عملی تحریک چلاتے ہیں یا کم از کم تقریر و تحریر کے ذرعیے اس کے خلاف بولتے اور لکھتے رہتے ہیں۔
مگر میرے نزدیک یہ صرف کوتاہ نظری کا نتیجہ ہے۔ یہ تصور بلاشبہ غلط ہے کہ کوئی ڈیولپمنٹ کسی خاص طبقے کی موناپولی (اجارہ داری) بن سکتا ہے۔ خود فطری قانون کے تحت ہر ڈیولپمنٹ کا فائدہ پورے سیاح تک پھیلتا ہے۔ وہ مختلف طریقے سے ہر ایک کے حصے میں آتا ہے۔ البتہ جو چیز پیش آتی ہے وہ یہ کہ ڈیولپمنٹ کا فائدہ حاوی طو پر ہر ایک کو نہیں پہنچتا۔ مگر یہ کوئی عیب کی بات نہیں۔ ایسی صورت حال فطرت کے قانون کی بنا پر ہوتی ہے نہ کہ کسی سسٹم کی بنا پر۔ فطرت کاقانون یہ ہے کہ دولت مستقل طورپرایک جگہ نہ رہے بلکہ وہ پھیلتی رہے۔ اس بنا پر وہ کبھی ایک گروہ کے پاس آتی ہے اور کسی دوسرے گروہ کے پاس۔ مگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وہ تقدیم اور تاخیر کے ساتھ ہر ایک کے پاس پہنچتی رہتی ہے۔
نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت کی ایک خاص کمزوری ہے۔ یہ کمزوری ہر عورت میں پائی جاتی ہے۔ وہ ہے پزیسیونیس (Possessiveness)یعنی ہر چیز کو اپنے قبضے میں رکھنے کا مزاج۔ اسی مزاج کی وجہ سے خاندان میں اکثر نسوانی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ مرد اگر اپنی بیوی کے سواکسی اور عورت سے بات کرلے تو اس کی بیوی اس سے غصہ ہوجاتی ہے۔ اس مزاج کا یہ نتیجہ تھا کہ رسول اللہ کی ازواج کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ نے ایک بیوی کے یہاں شہدکی وجہ سے زیادہ قیام فرمایا تو دوسری خواتین نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ اسی مزاج کی بنا پر خاندانوں میں ساس اور بہو کے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ساس کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شادی کے بعد اس کے محبوب بیٹے پر بہونے قبضہ کرلیا، وغیرہ۔
لکھنؤ کے ایک صاحب جن کا نام محمد طلحہ ندوی ہے۔ اس وقت وہ سعودی عرب (ریاض)میں رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان کی شادی ہوئی اور ان کی بیوی مشترک خاندان میں آئیں تو ان کو اپنی ساس کی طرف سے مسائل پیدا ہونے لگے۔ خاتون نے اپنے شوہر سے شکایت کی۔ شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ڈائری دی اور کہا کہ روزانہ تم کو ماں کی طرف سے جو تلخ تجربہ ہو اس کو ایک ڈائری میں لکھ لیا کرو تاکہ یہ تلخ واقعات تم کو یاد رہیں اور جب تم خود ساس بنو تو تم اپنی بہو کے ساتھ ایسا نہ کرو۔
میں نے کہا کہ یہ غیر فطری طریقہ ہے۔ اس طرح معاملے کی اصلاح ممکن نہیں۔ اس طریقے کے مطابق تو طلحہ صاحب کی بیوی کا دماغ شکایتوں کا کارخانہ بن جائے گا۔ وہ منفی سوچ میں مبتلا ہوجائیں گی۔ طلحہ صاحب کو یا تو یہ کرنا چاہیے تھا وہ مشترک خاندان کو چھوڑدیں اور اپنی بیوی کو الگ گھر میں رکھیںیا بیوی کو سمجھائیں کہ تم شکایتوں کو ڈفیوز کرنا سیکھو، تم منفی تجربےکو مثبت سبق میں ڈھالنے کی کوشش کرو۔
14اکتوبر2005کو کراچی سے عبداللطیف صاحب کا ٹیلیفون آیا وہ وہاں کے ایک معروف آدمی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے حالیہ زلزلے کے بارے میں میری رائے پوچھی۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ زلزلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ میں بہت دن سے یہ کہہ رہا تھا کہ پاکستان ایک ایسی برائی کررہا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مبغوض ہوتی ہے۔ پاکستان، اسلامی جہاد کے نام پر ٹورازم کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ چوں کہ یہ کام اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے۔ اس لیے اسلام ساری دنیا میں بدنام ہورہا ہے۔ پاکستان کا یہ تشددانہ عمل اسلام کے دعوتی مواقع کو قتل کررہا ہے۔ اگر پاکستان نے اس چھوٹے جہاد کو نہ چھوڑا تو ضرور اس پر خدا کا عذاب آئے گا۔ میں نے کہا کہ 8اکتوبر کا زلزلہ یہی خدائی عذاب تھا۔ آپ دیکھے کہ پاکستان میں بہت سے شہر ہیں، مثلاً کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور اور بھاول پور وغیرہ۔ مگر اس خوفناک زلزلے کی زد میں دو مقامات آئے۔ اسلام آباد اور مظفر آباد۔ میں نے کہا کہ اسلام آباد اس اسلامی ٹورازم کا سیاسی قائد بناہوا تھا، اور مظفرآباد میں وہ کیمپ پھیلے ہوئے تھے جن میں ٹورازم کی ٹریننگ کی جاتی تھی۔ اور یہی دونوں مقامات سب سے زیادہ زلزلے کی زد میں آئے۔
عبداللطیف صاحب میری بات کی تردید نہ کرسکے، بلکہ انہوں نے اس نقطۂ نظر کی پوری تائید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس یہ ہے کہ سارے پاکستان میں کوئی ایک شخص بھی اس حقیقت کو سمجھنے والا نہیں۔ یہاں کا ہر آدمی صرف ریلیف ورک کی بات کرتا ہے۔ اس معاملے کا جو خدائی پہلو ہے اس کی بات کوئی نہیں کرتا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خداشرک کو نہیں بخشے گا، البتہ دوسرے گناہوں میں جس کو چاہے گا بخش دے گا (النساء:48)
ایک مسلمان پولس کمشنر نے سوال کیا کہ شرک میں کیا ایسی بات ہے کہ خدا اس کو نہیں بخشے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم یافتہ لوگوں میں یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ وہ کچھ مظاہر کر شرک سمجھتے ہیں۔ اور علماء نے اس نظریے کی نمائندگی کی ہے۔ تعلیم یافتہ آدمی سمجھ نہیں پاتا کہ ان مظاہر میں کیوں اتنی زیادہ شناعت ہے کہ شرک ناقابل مغفرت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ شرک کا ناقابل مغفرت ہونا۔ اپنے مظاہر کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ شرک یہ ہے کہ کسی کو خداکے برابر سمجھاجائے۔ یعنی کسی کو خدا کا نِدّ ٹھہرانا (البقرہ:165)یعنی کسی کو خدا کی قدرت میش شریک کرنا۔ یہ شرکت خداکے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: جس نے یہ جانا کہ میں صاحب قدرت ہوں، گناہوں کو معاف کرسکتا ہوں تو میں ان کے گناہوں کو معاف کردوں گا اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ جب تک وہ میرے ساتھ کوئی شرک نہ کرے۔(عن علم أنی ذو قدرۃ علی مغفرۃ الذنوب غفرتُ ولا أبالی مالم یشرک بی شیئاً، الطبرانی)
اگر کوئی شخص اخلاقی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کی ایک ذاتی کمزوری ہے۔ خدا ایسی کمزوری کو نظرانداز کردے گا، بشرطیکہ وہ استغفار کررہاہو۔ لیکن شرک کی حیثیت مختلف ہے۔ شرک دراصل خدا کی حیثیت خداوندی کا عدم اعتراف ہے۔ وہ خداکے قادرِ مطلق ہونے پر شک کرنا ہے۔ اس قسم کے تصور کی زدبراہ راست خدا کی ذات پر پڑتی ہے۔ اس لیے وہ کسی بھی حال میں قابلِ معافی نہیں۔
دہلی کے ایک مسلمان پولیس کمشنر مسٹر کاظمی نے کہا کہ قرآن میں شرک کو ناقابل معافی جرم بتایاگیا ہے۔ مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ یہ سوال اکثر جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہن میں پیداہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس سوال کے اصل ذمہ دار، مسلم علماء ہیں۔ہندوستانی علماء نے شرک کے خلاف بہت زبردست مہم چلائی۔ مگر یہ ساری مہم صرف مظاہر شرک کے خلاف تھی۔ مثلاً مورتی، تصویر، قبر اور تعویذ گنڈے وغیرہ۔ ایک تعلیم یافتہ آدمی سمجھ نہیں پاتا کہ ان مظاہر میں اتنی زیادہ شناعت کیوں ہے۔
شرک کا ناقابل مغفرت ہونا، مظاہر کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ حقیقت کے اعتبار سے ہے۔ اصل یہ ہے کہ شرک ، حیثیت خداوندی میں کسی اور کو نِدّیا پارٹنر بنانا ہے۔ مثلاً کسی اور کو یہ سمجھا جائے کہ وہ کام کو بنانے والا ہے یا کام کو بگاڑنے والا ہے۔ یا یہ کہ کوئی اور ہے جو کائنات کا نظام چلانے میں خدا کا حصے دار ہے۔ یا کوئی اور ہے جو انسان کو جنت یا دوزخ اختیار حاصل ہے۔ اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی اختیار مطلق کو چیلنج کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس لیے ایسا عقیدہ خدا کے نزدیک ناقابل معافی ہے:
Shirk amounts to questioning the absolute authority of God Almighty.
کسی بادشاہ کی سلطنت میں ایک شخص اخلاقی جرم کرے تو بادشاہ اس کو نظرانداز کرسکتا ہے۔ لیکن جو شخص بادشاہ کے اقتدار کو چیلنج کرے تو بادشاہ کبھی ایسے شخص کو معاف نہیں کرے گا۔ وہ ایسے شخص کو پوری طاقت سے مٹا دے گا۔ یہی بات زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کے معاملے میں ہے۔ شرک یعنی کسی اور کو کسی اعتبار سے خداکا ہم سرسمجھنا گویا خدا کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کرنا ہے۔ ایسا جرم خدا کے نزدیک کبھی قابل معافی نہیں ہوسکتا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فلا تزکّوا أنفسکم (النجم:32)اس آیت میں جس چیز سے روکا گیا ہے وہ خود تزکیہ نہیں ہے، بلکہ اظہار تزکیہ یا اعلان تزکیہ ہے۔ اس بات کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یقولن أحد کم صمت رمضان کلّ ولا قُمتَہ کلّ، قال قتادہ اللہ أعلم، اخاف علیٰ اقتہ التزکیۃ اولا بدّمن راقدأوغافل(مسند احمد، جلد:5۔صفحہ:40)یعنی تم میں سے کوئی شخص ہرگز یہ نہ کہے کہ (الحمد للہ) میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے۔ اور نہ یہ کہ کہ (الحمد للہ) میں پورے رمضان میں قیام لیل کیا۔ قتادہ تابعی نے کہا کہ میں امت محمدی پر ڈرتاہوں کہ اس کے اندر احساس تزکیہ پیدا ہوجائے۔ ضروری ہے کہ وہ سوئیں اور غافل ہوں۔