Diary 2005

12اکتوبر2005

Diary 2005 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (273 chapters)
  1. یکم جنوری2005
  2. 2جنوری 2005
  3. 3جنوری2005
  4. 5جنوری2005
  5. 6جنوری 2005
  6. 7جنوری2005
  7. 8جنوری2005
  8. 9 جنوری2005
  9. 10جنوری 2005
  10. 12 جنوری2005
  11. 13 جنوری 2005
  12. "Give me 100 energetic young men and I shall transform India" P.18
  13. 16جنوری2005
  14. 17جنوری2005
  15. 19جنوری2005
  16. 20جنوری2005
  17. 21 جنوری2005
  18. 22 جنوری2005
  19. 23 جنوری2005
  20. 24 جنوری2005
  21. You have to learn the art of anger mangement
  22. 26 جنوری2005
  23. 27 جنوری2005
  24. 28 جنوری2005
  25. 29 جنوری2005
  26. 30جنوری2005
  27. 31جنوری2005
  28. 2 فروری2005
  29. 3 فروری2005
  30. 4فروری2005
  31. 5فروری2005
  32. ـCutting News Clip
  33. The Time of India, 2 Feb, 2005
  34. 6 فروری2005
  35. I go alongwith the poet Mirza Asadullah Khan Ghalib
  36. ہم کو معلوم ہے خدمت کی حقیقت لیکن دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
  37. اعتراف
  38. Saturday, February 5, 2005
  39. اخبار کٹنگ لگی ہے
  40. 9فروری2005
  41. 1. Polytheistic interpretation
  42. 2. Atheistic interpretation
  43. 3. Monotheistic interpretation
  44. 10فروری2005
  45. 11فروری2005
  46. 1۔ کبھی قرض نہ لیں، خواہ ان کو محنت مزدوری کرنا پڑے۔
  47. 2۔ ہمیشہ آمدنی سے کم خرچ کریں۔
  48. 3۔ کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ ہمیشہ یکطرفہ صبر کی درس اختیار کریں۔
  49. 12فروری2005
  50. 13 فروری 2005
  51. 14فروری2005
  52. 16فروری2005
  53. 17فروری2005
  54. The Times of India
  55. February 13, 2005 (P-1) N. Delhi
  56. Newspaper Clip
  57. 18فروری2005
  58. 19فروری2005
  59. 20فروری2005
  60. The Times of India
  61. Newspaper Clip
  62. 21فروری2005
  63. Time of India
  64. Newspaper clip
  65. 23فروری2005
  66. Newspaper Clip
  67. 24فروری2005
  68. 25فروری2005
  69. ٹائمس آف انڈیا (27فروری2005) میں
  70. you arent wealthin untill you have something money can't buy
  71. 28فروری2005
  72. یکم مارچ2005
  73. 3مارچ2005
  74. He is the world's largest producer of steel
  75. 4مارچ2005
  76. اوروں کی بری بات تو بھاتی نہیں تم کو پر اپنی برائی نظرآتی نہیں تم کو
  77. 6مارچ2005
  78. Newspaper Clip
  79. 8مارچ2005
  80. 9مارچ2005
  81. 10مارچ2005
  82. 11مارچ2005
  83. 12مارچ2005
  84. If this is Islam, then where is the problem
  85. 13مارچ2005
  86. 15مارچ2005
  87. Newspaper Clip
  88. The Asian Age 5 New Delhi, 14 March 2005
  89. 16مارچ2005
  90. 17مارچ2005
  91. 18مارچ2005
  92. 19مارچ2005
  93. 20مارچ2005
  94. 22مارچ2005
  95. 23مارچ2005
  96. 24مارچ2005
  97. Quran has to be rerevealed today
  98. 25مارچ2005
  99. 26مارچ2005
  100. 27مارچ2005
  101. 29مارچ2005
  102. 30مارچ2005
  103. ٹائمس آف انڈیا31مارچ 2005
  104. یکم اپریل2005
  105. 2اپریل2005
  106. 3اپریل2005
  107. 5اپریل2005
  108. Newspaper Clip
  109. 7اپریل2005
  110. 8اپریل2005
  111. 19اپریل2005
  112. 10اپریل2005
  113. 12اپریل2005
  114. 13اپریل2005
  115. 14اپریل2005
  116. 15اپریل2005
  117. 17اپریل2005
  118. LOC as India-Pak Border
  119. 19اپریل2005
  120. 20اپریل2005
  121. 21اپریل2005
  122. 22اپریل2005
  123. ان تا زہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب نہیں ہے
  124. 23 اپریل2005
  125. 24اپریل2005
  126. 26اپریل2005
  127. 27اپریل2005
  128. 28اپریل2005
  129. 29اپریل2005
  130. کہو اشوک کیسے آئے؟
  131. اس سلسلے میں مجھے بہت سے تلخ تجربے ہوئے ہیں۔
  132. The clash of Civilizations and the Remarking of world order
  133. By: Samuel P. Huntiongton
  134. 7مئی2005
  135. 8مئی2005
  136. 10مئی2005
  137. (مؤطاالامام مالک، کتاب انظریارۃ، صفحہ:30)
  138. 11مئی2005
  139. 12مئی2005
  140. 14مئی2005
  141. 17مئی2005
  142. 18مئی2005
  143. ’’اصول کی بنیاد پر چپ ہونا بہادری ہے اور مصلحت کی بنیاد پر چپ ہونا بزدلی‘‘
  144. to promote educational advancement of the muslims of India
  145. 22مئی2005
  146. 24مئی2005
  147. 25مئی2005
  148. 26مئی2005
  149. 27مئی2005
  150. 28مئی2005
  151. 29مئی2005
  152. 31مئی2005
  153. Newspaper Clip
  154. یکم جون2005
  155. 2جون2005
  156. 3جون2005
  157. بادہ ہے نیم رس ابھی ذوق ہے نارسا ابھی رہنے دو غم کے سرپہ تم خشت کمیسیاابھی
  158. 4جون2005
  159. خان الشافی شرار کم قلیل ۔۔۔۔ فانی فی خیارکم دکتیر
  160. 5جون2005
  161. قل الحد للہ سیہ یکم آیاتہ فتعرفونہا (93)
  162. 7جون2005
  163. 8جون2005
  164. 9جون2005
  165. 10جون2005
  166. ومن بتبغ غیر الاسلام دینا فلوہ یقبل مند، وھوفی الآخرۃ من الخاسرین(آل عمران85)
  167. 11جون2005
  168. 12جون2005
  169. 17جون2005
  170. Boss is always wright
  171. 18جون2005
  172. 19جون2005
  173. 21جون2005
  174. 22جون2005
  175. 23جون2005
  176. 25جون2005
  177. و کبّرہ تکبیراً
  178. 26جون2005
  179. 28جون2005
  180. ایں دفتر بے معنی غرق مے ناب اولیٰ
  181. لیبلوکم اُیّکم أحسن عملاً(الملک)
  182. آخرت میں جب جنت بنائی جائے گی تو عالم موجودات کا یہ تضاد ختم ہوجائے گا۔
  183. 9جولائی2005
  184. تاج محل اور مولانا وحید الدین خاں۔
  185. 10جولائی2005
  186. کیا کیا خیال باندھے ناداں نے اپنے دل میں پراونٹ کی سمائی کب ہوچوہے کے بل میں
  187. 13جولائی2005
  188. 14جولائی2005
  189. 15 جولائی2005
  190. 16جولائی2005
  191. 17جولائی2005
  192. Be still! and know I am God
  193. بشندازتے چوں حکایت می کنند از جُدائی ہا شکایت می کند
  194. مذکورہ مضمون بھی اسی طرح بلا دلیل بیانات پر مشتمل ہے۔
  195. 19جولائی2005
  196. 20جولائی2005
  197. 26جولائی2005
  198. 27جولائی2005
  199. 28جولائی2005
  200. 29جولائی2005
  201. 30جولائی2005
  202. 31جولائی2005
  203. بعد از خدا بزرگ کوئی قصہ مختصر
  204. وہی جو شنوئی عرش تھا خدا ہوکر اُترپڑاہے مدینے میں مفطفیٰ ہوکر
  205. مسلمانوں کے عروج وزوال کا راز
  206. موجودہ زمانے میں ہرمسلم جماعت اس قسم کی بے بنیاد خوش فہمی میں مبتلا ہے۔
  207. People are searching for purpose and meaning in their lives (P-16)
  208. By dying on the cross, Jessus look the sins of the world upon him (P-16)
  209. الحکمۃ ضالۃ المؤمن، حیث وجدھا فہوأ حق بہا
  210. (حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ جہاں اس کو پائے اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے)
  211. 11اگست2005
  212. 12اگست2005
  213. 13اگست2005
  214. 17اگست2005
  215. 18اگست2005
  216. 19اگست2005
  217. لن یصلوااِلیک
  218. 23اگست2005
  219. وحید الدین، نئی دہلی22اگست2005
  220. 28اگست2005
  221. 30اگست2005
  222. 31اگست2005
  223. یکم ستمبر2005
  224. لقد خلقنا الانسان فی أحسن تقویم ثم رددناہ أسفل سافلین
  225. وددت أفی قدرأیتا اخواننا (المؤطا)
  226. 8ستمبر2005
  227. 9ستمبر2005
  228. 14ستمبر2005
  229. 15ستمبر2005
  230. 16ستمبر2005
  231. 17ستمبر2005
  232. 18ستمبر2005
  233. 20ستمبر2005
  234. خداشرّے بَرانگیزد کہ خبرمادراں باشد
  235. 24ستمبر2005
  236. 25ستمبر2005
  237. 27ستمبر2005
  238. 28ستمبر2005
  239. 29ستمبر2005
  240. یکم اکتوبر2005
  241. داتا، ایک رام، بھکاری ساری دنیا رام ایک دیوتا، پجاری ساری دنیا
  242. 4اکتوبر2005
  243. 5اکتوبر2005
  244. 7اکتوبر2005
  245. 8 اکتوبر 2005
  246. 11اکتوبر2005
  247. 12اکتوبر2005
  248. 25اکتوبر2005
  249. 26اکتوبر2005
  250. 27اکتوبر2005
  251. من لم یشکر الناس لم یشکراللہ
  252. (سنن ادبی داؤد: الجرا الرابع، صفحہ:257-256باب فی شکر المعروف)
  253. (مسند الامام احمد بن حنبل، المجلد الرابع، صفحہ278)
  254. 3نومبر2005
  255. بناکر دندخوش رسمےبخاک وخون غلطیدن خدارحمت کندایں عاشقان پاک طفیت را
  256. یہ شہادت بآمہ الفت میں قدم رکھتا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
  257. 15نومبر2005
  258. Salem wept in car on way from airport
  259. ایک خط
  260. مکرمی مولانا یحییٰ نعمانی ندوی، ایڈیٹر ماہنامہ الفرقان لکھنؤ228013-
  261. السلام علیکم ورحمۃ اللہ
  262. حکمت ولی اللہ کی عصری معنویت
  263. وحید الدین،6دسمبر2005
  264. دوسرا خط
  265. برادرِ محترم مولانا یحییٰ نعمانی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
  266. نئی دہلی وحید الدین،7جنوری2006
  267. Dr. Ghislaine Loyre
  268. IRSEA (CNRS)
  269. 1, rue Lavoisier, 75008 Paris France
  270. Tel: 0033-6-8385 3063
  271. IRSEA: Research Institute for Southeasr Asia
  272. CNRS: French Natloual Research Center (Marseille)
  273. Thousands of British Elite Embrance Islam

12اکتوبر2005

میری بیٹی نے مجھ سے کہا کہ اوکھلے کے فلاں شخص نے بتایا کہ فلاں دو آدمی (عورت اور مرد) کے درمیان غلط تعلقات ہیں۔ یہ سن کر میں بہت غصہ ہوا۔ میں نے کہا کہ کیا تم نے تحقیق کی ہے۔ کیا تم نے متعلقہ افراد سے اس معاملے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ کیا تم نے شبہات کے اصول پر اس معاملے کی پوری جانچ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر تم نے محض ایک شخص کے کہنے سے ایسی لغوبات کیوں مان لی۔ انہوں نے کہا کہ کہنے والا آدمی ایک معتبر آدمی (Reliable Person)ہے۔ یہ سن کر میرا غصہ بڑھ گیا۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے سنگین معاملے میں نہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کہنے والا معتبر ہے یا غیر معتبر۔ بلکہ شہادت اور گواہی کے اصول پر اس کی مکمل تحقیق کی جائے گی۔ مگر ان کی زبان سے یہ نہیں نکلا کہ میں نے اپنی بات بیان کرکے سخت غلطی کی۔ مجھے اتنا زیادہ غصہ آیا کہ میں چپ ہوگیا۔ میرا مزاج یہ ہے کہ جب میں کسی معاملے میں بہت زیادہ غصہ ہوتا ہوں تو میں چپ ہوجاتا ہوں۔

عام طور پر لوگ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق نہیں جانتے۔ مثلاً اس طرح کے سنگین معاملے میں یہ جاننا کہ راوی کا صرف معتبر ہونا کافی نہیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ اصل معاملے کی اصولی انداز میں جانچ پڑتال کی جائے۔ میں نے علماء بلکہ اکابر کی تحریروں میں پڑھا ہے کہ ایک معتبر شخص نے کہا یہ حضرات نہیں جانتے کہ سنگین معاملات میں یہ بالکل کافی نہیں۔ کسی کا معتبر ہونا۔ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ مگر جب و کسی اور شخص کے بارے میں ایک قابل اعتراض بیان دیتا ہے تو اس کے ماننے سے پہلے اس کی سخت جانچ پڑتال ضروری ہے۔

8اکتوبر2005کو جو شید زلزلہ آیا اس کا مرکز (اے پی سینٹر) پاکستان تھا۔ اس زلزلے میں پاکستان کے دو شہر بری طرح تباہ ہوگئے۔ پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد، اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی راجدھانی مظفرآباد، دونوں اس طرح تباہ ہوگئے کہ اس کے باشندے سڑکوں پرکھلے میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق اس زلزلے میں پچاس ہزار آدمی ہلاک ہوگئے۔

اس زلزلے کی ایک عجیب بات یہ تھی کہ وہ سلیکٹیو انداز میں آیا۔ اس میں خاص طور پر اسلام آباد اور مظفر آباد تباہ ہوئے۔ اس سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ خدا کے غضب کا اظہار تھا، جو اسلامی جہاد کے نام پر کی جانے والے ٹورازم کے خلاف ہوا۔ اسلامی جہاد کے نام پر جو ٹورازم جاری ہے۔ اس کا ایک سینٹر فلسطین تھا۔ خدانے اس کو اسرائیل کے ہاتھ کچل دیا۔ اس کا دوسرا مرکز پاکستان تھا۔ مظفرآباد میں ایسے جنگجوؤں کی عسکری تربیت ہوتی تھی اور اسلام آباد ان کا سرپرست بناہوا تھا۔ خدانے اسلام آباد اور مظفر آباد کو زلزلے کے ذریعہ تباہ کردیا۔

دہلی کے ایک تعلیم یافتہ ہندو سے بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آواگون کا نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ بتایا کہ ان کے دو رشتے دار ٹائمس آف انڈیا میں تھے۔ وہ ابھی جوانی کی عمر میں تھے حال میں وہ اسپورٹ کی رپورٹنگ کے لیے آسٹریلیا گئے۔ وہاں دونوں ایک کار پر سفر کررہے تھے۔ اچانک حادثہ ہوا، اور دونوں سڑک ہی پر مرگئے۔ گفتگو کے دوران ہندو مذہب کے آواگون کے نظریے پر بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آواگون کا نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعزّاء کے ساتھ رہے۔ لیکن آواگون کے نظریے میں اس کا کوئی امکان نہیں۔ کیوںکہ مرنے کے بعد خاندان کے تمام ممبر ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام کے نظریہ آخرت میں یہ امید موجود ہے کہ خاندان کے افراد اگرصالح عمل کریں تو خدا ان کو ایک جگہ اکھٹا کردے گا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ان کی راہ پر ایمان کے ساتھ چلی۔ ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی جمع کردیں گے۔ اور ان کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے۔ (السطور:21:52)یہی بات قرآن میں ایک دوسری جگہ بھی الفاظ کے تھوڑے فرق کے ساتھ آئی ہے (الرعد:23:13)

8اکتوبر2005کو پاکستان میں بھیانک زلزلہ آیا۔ پاکستانی ٹی وی پر میں نے دیکھا کہ کھنڈروں کے درمیان ایک عورت چیخ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ’’دنیا میں اگر کہیں جہنم ہے تو وہ پاکستان ہے‘‘۔ پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد پوری طرح تباہ ہوگئی ہے۔ وہاں ایک بہت بڑا لگزری ٹاور بنایاگیا تھا۔ وہ گرکر کھنڈربن گیا ہے۔

تاہم اس واقع کا ایک مثبت پہلووہ ہے جس کا تعلق ہندوستان کے مسلمانوں سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمان آج دوسرے تمام ملکوں کے مسلمانوںکے مقابلے میں بہتر حالت میں پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں سب سے بڑی صفت ان کی فخرپسندی تھی۔ اس کو امریکہ کی بم بازی نے تباہ کردیا تھا دوسری بُری چیز وہ تھی جس کو موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے غلط طور پر پھیلائی۔ یہ تھی اسلام کی انٹر نیشنل قومیت۔ اس غلط نظریے کے بناپر ہندوسان کے مسلمانوں کا ذہن پاکستان میں اٹکا رہتا تھا۔ اس زلزلے نے اس کو آخری طور پر ختم کردیا۔ ایک اور بُری چیز جو ہندوستانی مسلمانوں میں1947کے بعد پیدا ہوئی وہ ہندوؤں سے ٹکراؤکا ذہن تھا۔ مگر مسلسل طور پر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے اب اس مزاج کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس طرح اب یہ یقینی ہوگیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان تمام دنیا کے مسلمانوں سے زیادہ ترقی کریں گے۔

دنیا کے تقریباً ریفارمر اور سوشل ایکٹوسٹ اور ہیومن رائٹس کے لیے کام کرنے والے لوگ مشترک طور پر ایک ہی غلطی میں مبتلا رہے ہیں یہ لوگ ہر سسٹم کے خلاف جھنڈا اٹھالیتے ہیں۔ جس کا مشترک سبب یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو نظرآتا ہے کہ کسی سسٹم کے تحت ڈیولپمنٹ کا جو کام ہورہا ہے، اس سے بَروقت ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس بنا پر لوگ ہرسسٹم کو توڑنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ یا تو وہ اس کے خلاف عملی تحریک چلاتے ہیں یا کم از کم تقریر و تحریر کے ذرعیے اس کے خلاف بولتے اور لکھتے رہتے ہیں۔

مگر میرے نزدیک یہ صرف کوتاہ نظری کا نتیجہ ہے۔ یہ تصور بلاشبہ غلط ہے کہ کوئی ڈیولپمنٹ کسی خاص طبقے کی موناپولی (اجارہ داری) بن سکتا ہے۔ خود فطری قانون کے تحت ہر ڈیولپمنٹ کا فائدہ پورے سیاح تک پھیلتا ہے۔ وہ مختلف طریقے سے ہر ایک کے حصے میں آتا ہے۔ البتہ جو چیز پیش آتی ہے وہ یہ کہ ڈیولپمنٹ کا فائدہ حاوی طو پر ہر ایک کو نہیں پہنچتا۔ مگر یہ کوئی عیب کی بات نہیں۔ ایسی صورت حال فطرت کے قانون کی بنا پر ہوتی ہے نہ کہ کسی سسٹم کی بنا پر۔ فطرت کاقانون یہ ہے کہ دولت مستقل طورپرایک جگہ نہ رہے بلکہ وہ پھیلتی رہے۔ اس بنا پر وہ کبھی ایک گروہ کے پاس آتی ہے اور کسی دوسرے گروہ کے پاس۔ مگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وہ تقدیم اور تاخیر کے ساتھ ہر ایک کے پاس پہنچتی رہتی ہے۔

نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت کی ایک خاص کمزوری ہے۔ یہ کمزوری ہر عورت میں پائی جاتی ہے۔ وہ ہے پزیسیونیس (Possessiveness)یعنی ہر چیز کو اپنے قبضے میں رکھنے کا مزاج۔ اسی مزاج کی وجہ سے خاندان میں اکثر نسوانی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ مرد اگر اپنی بیوی کے سواکسی اور عورت سے بات کرلے تو اس کی بیوی اس سے غصہ ہوجاتی ہے۔ اس مزاج کا یہ نتیجہ تھا کہ رسول اللہ کی ازواج کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ نے ایک بیوی کے یہاں شہدکی وجہ سے زیادہ قیام فرمایا تو دوسری خواتین نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ اسی مزاج کی بنا پر خاندانوں میں ساس اور بہو کے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ساس کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شادی کے بعد اس کے محبوب بیٹے پر بہونے قبضہ کرلیا، وغیرہ۔

لکھنؤ کے ایک صاحب جن کا نام محمد طلحہ ندوی ہے۔ اس وقت وہ سعودی عرب (ریاض)میں رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان کی شادی ہوئی اور ان کی بیوی مشترک خاندان میں آئیں تو ان کو اپنی ساس کی طرف سے مسائل پیدا ہونے لگے۔ خاتون نے اپنے شوہر سے شکایت کی۔ شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ڈائری دی اور کہا کہ روزانہ تم کو ماں کی طرف سے جو تلخ تجربہ ہو اس کو ایک ڈائری میں لکھ لیا کرو تاکہ یہ تلخ واقعات تم کو یاد رہیں اور جب تم خود ساس بنو تو تم اپنی بہو کے ساتھ ایسا نہ کرو۔

میں نے کہا کہ یہ غیر فطری طریقہ ہے۔ اس طرح معاملے کی اصلاح ممکن نہیں۔ اس طریقے کے مطابق تو طلحہ صاحب کی بیوی کا دماغ شکایتوں کا کارخانہ بن جائے گا۔ وہ منفی سوچ میں مبتلا ہوجائیں گی۔ طلحہ صاحب کو یا تو یہ کرنا چاہیے تھا وہ مشترک خاندان کو چھوڑدیں اور اپنی بیوی کو الگ گھر میں رکھیںیا بیوی کو سمجھائیں کہ تم شکایتوں کو ڈفیوز کرنا سیکھو، تم منفی تجربےکو مثبت سبق میں ڈھالنے کی کوشش کرو۔

14اکتوبر2005کو کراچی سے عبداللطیف صاحب کا ٹیلیفون آیا وہ وہاں کے ایک معروف آدمی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے حالیہ زلزلے کے بارے میں میری رائے پوچھی۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ زلزلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ میں بہت دن سے یہ کہہ رہا تھا کہ پاکستان ایک ایسی برائی کررہا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مبغوض ہوتی ہے۔ پاکستان، اسلامی جہاد کے نام پر ٹورازم کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ چوں کہ یہ کام اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے۔ اس لیے اسلام ساری دنیا میں بدنام ہورہا ہے۔ پاکستان کا یہ تشددانہ عمل اسلام کے دعوتی مواقع کو قتل کررہا ہے۔ اگر پاکستان نے اس چھوٹے جہاد کو نہ چھوڑا تو ضرور اس پر خدا کا عذاب آئے گا۔ میں نے کہا کہ 8اکتوبر کا زلزلہ یہی خدائی عذاب تھا۔ آپ دیکھے کہ پاکستان میں بہت سے شہر ہیں، مثلاً کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور اور بھاول پور وغیرہ۔ مگر اس خوفناک زلزلے کی زد میں دو مقامات آئے۔ اسلام آباد اور مظفر آباد۔ میں نے کہا کہ اسلام آباد اس اسلامی ٹورازم کا سیاسی قائد بناہوا تھا، اور مظفرآباد میں وہ کیمپ پھیلے ہوئے تھے جن میں ٹورازم کی ٹریننگ کی جاتی تھی۔ اور یہی دونوں مقامات سب سے زیادہ زلزلے کی زد میں آئے۔

عبداللطیف صاحب میری بات کی تردید نہ کرسکے، بلکہ انہوں نے اس نقطۂ نظر کی پوری تائید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس یہ ہے کہ سارے پاکستان میں کوئی ایک شخص بھی اس حقیقت کو سمجھنے والا نہیں۔ یہاں کا ہر آدمی صرف ریلیف ورک کی بات کرتا ہے۔ اس معاملے کا جو خدائی پہلو ہے اس کی بات کوئی نہیں کرتا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خداشرک کو نہیں بخشے گا، البتہ دوسرے گناہوں میں جس کو چاہے گا بخش دے گا (النساء:48)

ایک مسلمان پولس کمشنر نے سوال کیا کہ شرک میں کیا ایسی بات ہے کہ خدا اس کو نہیں بخشے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم یافتہ لوگوں میں یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ وہ کچھ مظاہر کر شرک سمجھتے ہیں۔ اور علماء نے اس نظریے کی نمائندگی کی ہے۔ تعلیم یافتہ آدمی سمجھ نہیں پاتا کہ ان مظاہر میں کیوں اتنی زیادہ شناعت ہے کہ شرک ناقابل مغفرت ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ شرک کا ناقابل مغفرت ہونا۔ اپنے مظاہر کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ شرک یہ ہے کہ کسی کو خداکے برابر سمجھاجائے۔ یعنی کسی کو خدا کا نِدّ ٹھہرانا (البقرہ:165)یعنی کسی کو خدا کی قدرت میش شریک کرنا۔ یہ شرکت خداکے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: جس نے یہ جانا کہ میں صاحب قدرت ہوں، گناہوں کو معاف کرسکتا ہوں تو میں ان کے گناہوں کو معاف کردوں گا اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ جب تک وہ میرے ساتھ کوئی شرک نہ کرے۔(عن علم أنی ذو قدرۃ علی مغفرۃ الذنوب غفرتُ ولا أبالی مالم یشرک بی شیئاً، الطبرانی)

اگر کوئی شخص اخلاقی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کی ایک ذاتی کمزوری ہے۔ خدا ایسی کمزوری کو نظرانداز کردے گا، بشرطیکہ وہ استغفار کررہاہو۔ لیکن شرک کی حیثیت مختلف ہے۔ شرک دراصل خدا کی حیثیت خداوندی کا عدم اعتراف ہے۔ وہ خداکے قادرِ مطلق ہونے پر شک کرنا ہے۔ اس قسم کے تصور کی زدبراہ راست خدا کی ذات پر پڑتی ہے۔ اس لیے وہ کسی بھی حال میں قابلِ معافی نہیں۔

دہلی کے ایک مسلمان پولیس کمشنر مسٹر کاظمی نے کہا کہ قرآن میں شرک کو ناقابل معافی جرم بتایاگیا ہے۔ مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ یہ سوال اکثر جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہن میں پیداہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس سوال کے اصل ذمہ دار، مسلم علماء ہیں۔ہندوستانی علماء نے شرک کے خلاف بہت زبردست مہم چلائی۔ مگر یہ ساری مہم صرف مظاہر شرک کے خلاف تھی۔ مثلاً مورتی، تصویر، قبر اور تعویذ گنڈے وغیرہ۔ ایک تعلیم یافتہ آدمی سمجھ نہیں پاتا کہ ان مظاہر میں اتنی زیادہ شناعت کیوں ہے۔

شرک کا ناقابل مغفرت ہونا، مظاہر کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ حقیقت کے اعتبار سے ہے۔ اصل یہ ہے کہ شرک ، حیثیت خداوندی میں کسی اور کو نِدّیا پارٹنر بنانا ہے۔ مثلاً کسی اور کو یہ سمجھا جائے کہ وہ کام کو بنانے والا ہے یا کام کو بگاڑنے والا ہے۔ یا یہ کہ کوئی اور ہے جو کائنات کا نظام چلانے میں خدا کا حصے دار ہے۔ یا کوئی اور ہے جو انسان کو جنت یا دوزخ اختیار حاصل ہے۔ اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی اختیار مطلق کو چیلنج کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس لیے ایسا عقیدہ خدا کے نزدیک ناقابل معافی ہے:

Shirk amounts to questioning the absolute authority of God Almighty.

کسی بادشاہ کی سلطنت میں ایک شخص اخلاقی جرم کرے تو بادشاہ اس کو نظرانداز کرسکتا ہے۔ لیکن جو شخص بادشاہ کے اقتدار کو چیلنج کرے تو بادشاہ کبھی ایسے شخص کو معاف نہیں کرے گا۔ وہ ایسے شخص کو پوری طاقت سے مٹا دے گا۔ یہی بات زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کے معاملے میں ہے۔ شرک یعنی کسی اور کو کسی اعتبار سے خداکا ہم سرسمجھنا گویا خدا کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کرنا ہے۔ ایسا جرم خدا کے نزدیک کبھی قابل معافی نہیں ہوسکتا۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فلا تزکّوا أنفسکم (النجم:32)اس آیت میں جس چیز سے روکا گیا ہے وہ خود تزکیہ نہیں ہے، بلکہ اظہار تزکیہ یا اعلان تزکیہ ہے۔ اس بات کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یقولن أحد کم صمت رمضان کلّ ولا قُمتَہ کلّ، قال قتادہ اللہ أعلم، اخاف علیٰ اقتہ التزکیۃ اولا بدّمن راقدأوغافل(مسند احمد، جلد:5۔صفحہ:40)یعنی تم میں سے کوئی شخص ہرگز یہ نہ کہے کہ (الحمد للہ) میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے۔ اور نہ یہ کہ کہ (الحمد للہ) میں پورے رمضان میں قیام لیل کیا۔ قتادہ تابعی نے کہا کہ میں امت محمدی پر ڈرتاہوں کہ اس کے اندر احساس تزکیہ پیدا ہوجائے۔ ضروری ہے کہ وہ سوئیں اور غافل ہوں۔