Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سوال و جواب p. 337
سوال p. 337
سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں ذہین لوگوں کے لیے گنجائش نہیں ہے ۔ یہ سوال اس لیے ذہن میں پیدا ہوا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ماضی میں اور حال میں بھی ذہین یا منطقی لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا ۔ مثلاً ما ضی میں سید شہاب سہروردی کو قتل کردیا گیا جب کہ وہ ابھی صرف 37 سال کے تھے ۔ مگر بہت ذہین انسان تھے۔ ابن رشد کو جیل میں ڈالا گیا ۔ راز ی، فارابی اور بوعلی سینا پر کفر کا فتویٰ لگا کر ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ہمارے یہاں سرسید احمد خاں کی تکفیر کی گئی اور انہیں ذلیل کیا گیا ۔ ڈاکٹر اقبال پر بھی کفر کا الزام لگایا گیا ۔ بوعلی سینا نے بھی اپنے ایک فارسی قطعہ میں کہا ہے کہ یہاں اگر رہنا ہے تو گدھا بن کررہو، اگر عقلمند بنوگے تو پھر خیر نہیں۔ p. 337unverified
کیا اسلام میں ایسے ہی لوگوں کی گنجائش ہے جو منطقی نہ ہوں، استد لالی نہ ہوں ، اپنی عقل و فہم کی روشنی میں حیات وکائنات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرتے ہوں۔(احساس آفاقی، کُرلا، ممبئی) p. 338
جواب p. 338
آپ نے چند مثالوں کو لے کر ان کوجنر لائز(generalize)کردیا ہے ۔ حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام میں فکری آزادی کو بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ اس معاملہ کی تفصیل کے لیے آپ میری کتاب دین انسانیت کا باب ’’حریت فکر‘‘ ملاحظہ فرمائیں ۔ انشاء اللہ، آپ کی غلط فہمی دور ہوجائے گی۔ p. 338original + quote
قرآن میں باربار اہلِ عقل کو خطاب کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ خود قرآن کے نزول کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ عقل والے اس پر غور کریں (38:29) ۔ چنانچہ ہر دور میں عقلی غور وفکر کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ آپ نہج البلاغہ کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ حضرت علی کتنا زیادہ عقلی غور و فکر کو پسند کرتے تھے۔ عباسی خلافت اور اسپین کی اموی خلافت کے دور میں عقلی غوروفکر کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی جس کی تفصیل آپ فلپ ہٹی کی کتاب’ہسٹری آف دی عربس‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔ p. 338original + quote
قدیم زمانہ میں فخر الدین رازی کی ضخیم تفسیر اور موجودہ زمانہ میں جوہری طنطاوی کی مفصل تفسیر قرآن کی عقلی تشریح کی مثالیں ہیں ۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘خاص اسی مقصد کے لیے لکھی ۔ خودراقم الحروف نے تقریباً چالیس سال سے اسلام کی عقلی اور سائنسی تشریح کو اپنا موضوع بنایا ہے اور اس پر سو سے زیادہ کتابیں شائع کی ہیں مگر ساری مسلم دنیا میں کسی بھی شخص نے اس پہلو سے میری مخالفت نہیں کی۔ p. 338
تاہم بعد کے زمانہ میں ایک غلط مسئلہ مسلمانوں میں پھیل گیا اور وہ یہ کہ جو شخص رسول کی اہانت کرے یا اسلام کی اہانت کرے اس کو قتل کردیا جائے۔ اس مسئلہ کی بنا پر کچھ لوگوں کا قتل بھی ہوا۔ مگر یہ مسئلہ بذات خود غلط ہے ۔ اس کی کوئی اصل قرآن یا حدیث میں نہیں ۔ اس مسئلہ کی ذمہ داری بعد کے دور کے کچھ مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے ، نہ کہ خود اسلام پر۔ p. 339
سوال p. 339
سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (Satanic Verses)کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟کہا جاتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس کا مصنف ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا سخت ہے ۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ (نکہت کاظمی ، نئی دہلی) p. 339
جواب p. 339
اسلام کی تعلیمات حقیقت پسندی پر مبنی ہیں۔ اس طرح کے معاملات کو اسلام میں جذباتی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ رزلٹ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ اسی لیے قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم باطل معبود وں کو برانہ کہو ورنہ لوگ جہالت کی بنا پر خدا کو برا کہنے لگیں گے ۔(6:108) p. 340original + quote
یہی وجہ ہے کہ قدیم مدینہ کے سب سے بڑے گستاخ عبداللہ بن ابی کو پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت کے باوجود قتل نہیں کرایا ۔ اس کی وجہ آپ نے یہ بتائی کہ اگر میں ایسا کروں تو وہ اسلام کی بدنامی کا باعث ہوگا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4905)۔ چنانچہ عبداللہ بن ابی اپنی طبعی موت مرا اور اس کو قتل نہیں کیا گیا ، حالانکہ اس وقت عبداللہ بن اُبی کو قتل کرنا بالکل آسان تھا ۔ p. 340original + quote
سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ17 فروری 1989کو دیا گیا تھا ۔ اس واقعہ کو تحریر لکھے جانے تک (جولائی 2000 میں) تقریباً 12 سال ہورہے ہیں ۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو اس فتویٰ نے صرف الٹا نتیجہ پیدا کیا ہے ۔ اس کے بعد ساری دنیا میں بڑے پیمانے پر اسلام کی بدنامی ہوئی ۔ اسلام کو نفرت اور تشدد کے مذہب کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا ۔ p. 340
اس کتاب کے خلاف فتویٰ اور شوروغل سے اس کے مصنف کو زبر دست فائدہ حاصل ہوا، یعنی اس کو شہرت ملی، اور’’شیطانی آیات‘‘ نہ صرف انگریزی بلکہ دیگر مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوکر پوری دنیا میں کثیر تعداد میں فروخت ہوئی۔ جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے حصہ میں صرف اس کا نقصان آیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ میڈیا کا دور تھا اور جدید میڈیا کے دور میں یقیناً وہی ہونے والا تھا جو عملاً پیش آیا ۔ p. 340
سلمان رشدی کی مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے ۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب تصنیفی اعتبار سے اس قدر لغواور غیر دلچسپ ہے کہ شاید کوئی بھی شخص اس کو شروع کرکے ختم نہیں کرسکتا ۔(تفصيل كے ليے ديكھيے، زيرِ نظر كتاب كا عنوانسورج پر خاك) p. 340
عام حالت میں وہ ایک ایسی کتاب تھی جو اپنی لغویت کی بنا پر اپنے آپ مرجاتی ۔ اس کو نہ کوئی خریدتا اور نہ اس کو کوئی پڑھتا ۔ مگر مصنف کے قتل کے فتویٰ کے بعد جب میڈیا میں اس کا چرچا ہوا تو فطری طور پر لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس طرح ایک ناقابل مارکیٹ کتاب بھی قابلِ مارکیٹ (marketable) کتاب بن گئی ۔ p. 341
حقیقت یہ ہے کہ اس فتنہ کا صحیح ترین حل یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا جاتااور اس طرح یقینی طور پر وہ اپنے آپ مرجاتا۔ اس طرح کے مسئلہ کا صحیح ترین حل وہ ہے جو اسلام کے خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے ایک قول میں ملتا ہے ۔ انہوں نے کہا إِنَّ للهِ عِبَادًا يُمِيتُونَ البَاطِلَ بِهَجْرِهِ (حلیۃ الاولیاء، جلد1، صفحہ 55)۔ یعنی اللہ کے کچھ بندے ہیں جو باطل کو ہلاک کرتے ہیں اس پر چپ رہ کر ۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہےکہ تم باطل کا خاتمہ کرو اس کو نظر انداز کرکے۔ p. 341original + quote