Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اخباری بیان p. 121
17فروری1989کے اخبارات میں یہ سنسنی خیز خبر تھی کہ ایران کے آیت اللہ خمینی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ’’ شیطانی آیات‘‘ کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کردیں ۔ اسی کے ساتھ ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ قاتل کو اس کے معاوضہ میں بڑا انعام ادا کرے گی۔ قومی آواز (20فروری1989) کے مطابق، مولانا ابوالحسن علی ندوی نے امام خمینی کی تائید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امام خمینی اس اعلان میں حق بجانب ہیں۔ اسلام میں پیغمبر اسلام کی توہین کے مجرم کی سزا یہی ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے۔ p. 121original + quote
سلمان رشدی نے اگر پیغمبر اسلام کی توہین کی تھی تو میرے نزدیک امام خمینی اور مولانا ندوی جیسے لوگ اسلامی قانون کی تو ہین کر رہے ہیں۔ کیوںکہ اس طرح کسی کو قتل کروانا ہر گز اسلام کا طریقہ نہیں۔ p. 121original + quote
اسلام میں ہر قانونی سزاعدالتی معاملہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی شخص اگر ایسا جرم کرتا ہے جو اسلامی شریعت میں قابل سزا ہے تو کسی شخص یا اشخاص کو ہر گز یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود اس پر سزا کا نفاذ کرنے لگے۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مجرم کو پکڑا جائے اور عدالتی کاروائی کے بعد قاضی کے فیصلہ کے مطابق اس کو سزا دی جائے جو شریعت میں ایسے مجرم کے لیے مقرر ہے۔ p. 121
دوسری بات یہ کہ سلمان رشدی برطانیہ کا باشندہ ہے۔ اس پر برطانیہ کے قوانین نافذ ہوتے ہیں، نہ کہ ایران یا پاکستان کے۔ انعام دے کر یا جذباتی اپیل کر کے اس طرح ایک غیر ملکی کو مروانا گویا انٹرنیشنل بدامنی کو جواز فراہم کرنا ہے۔ اسلام بلاشبہ اس سے بَری ہے۔ p. 122
سلمان رشدی کی کتاب نے تو اسلام کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ مگر شیعہ اور سنّی علماء جو کچھ کررہے ہیں وہ بلاشبہ اسلام کو زبردست نقصان پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ اس نے اسلام کے دعوتی امکانات کو ناقابل تلافی حد تک بر باد کر دیا ہے۔ ان حضرات نے اپنی حرکتوں سے دنیا کو یہ بتایا ہے کہ اسلام وحشت و بربریت کا مذہب ہے ۔ اور جس مذہب کی تصویر وحشت و بربریت کی تصویر بنادی جائے، اس کو کون اپنے لیے پسند کر سکتا ہے۔ p. 122
اسلام میں دعوت کی مصلحت ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے۔ دعوت کی مصلحت اہم ترین مصلحت کی حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ بار بار ایسے اقدامات کرتے ہیں جس سے انہیں ذاتی طور پر قیادتی فائدہ تو ضرور ملتا ہے، مگر اسلام کے دعوتی امکانات برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا المیہ ہے جس سے اسلام کی جدید تاریخ دو چار ہے۔ (شائع شدہ ہفت روزہ نئی دنیا، 3-9مارچ1989) p. 122