Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خدائی ضمانت p. 227
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بگاڑنے اور آپ کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش آپ کے ہم عصر یہودیوں نے شروع کی جو اس وقت عرب میں آباد تھے۔ پھر صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کے مسیحی علماء اور مستشرقین نے صدیوں تک اسے پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا(ديكھيے زيرِ نظر كتاب كا عنوان اسلام مغربي لٹريچر ميں)۔ موجودہ زمانہ میں ہندوستان کے سلمان رشدی اور ان جیسے دوسرے لوگ یہی نازیبا کام جدید ترین ذرائع کو استعمال کرتے ہو ئے انجام دے رہے ہیں۔ p. 227original + quote
اب سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کے لیے کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ غصہ اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کریں ۔ وہ ایسی کتابوں کے خلاف ایجی ٹیشن اور ہنگامہ شروع کردیں ۔ اب تک مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے عملاً بس اسی قسم کا ردّعمل ظاہر کرتے رہے ہیں۔ مگر اس واقعہ کا ایک اور پہلو ہے جو اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اور بدقسمتی سے مسلمان اپنے منفی جوش کی وجہ سے اب تک اس دوسرے پہلو سے آگاہ نہ ہو سکے۔ p. 228
تاریخ بتاتی ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے کعب بن اشرف سے لےکر بیسویںصدی کے سلمان رشدی تک بے شمار لوگ مسلسل اس معاندانہ کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ وہ آپ کی تصویر کو داغدار کریں۔اس مخالفانہ عمل پر جلد ہی ڈیڑھ ہزار سال پورے ہوجائیں گے۔ مگر ان دشمنانِ رسول کو اپنے مقصد میں ایک فی صد کامیابی بھی حاصل نہ ہو سکی۔ ان کی ساری کوششیں عملاً کامل طورپر بے نتیجہ رہیں۔ p. 228
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اسی قسم کی نازیبا کوششیں پچھلے پیغمبروں کے خلاف بھی کی گئیں مگر یہاں نتیجہ بالکل مختلف رہا۔ یہاں ان کے دشمنوں کو اپنے مقصد میں پوری کامیابی حاصل ہو ئی۔ سابق پیغمبروں کے دشمنوں نے ان کی سیرت اور ان کی تعلیمات کو بگاڑنایا معدوم کردینا چاہا۔ اور عملاًبگاڑدیا یا معدوم کر ڈالا۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک ہر پیغمبر کے خلاف انھوں نے اپنی تحریفی کوشش کی اور ہر بار وہ اپنی کوشش میں پوری طرح کامیاب رہے۔ p. 228
انسانی تاریخ کا جومدوّن ریکارڈ ہے، اس میں پچھلے تمام پیغمبروں کو حذف کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مصر کی قدیم تاریخ میں فرعون کا ذکرہے مگر موسیٰ کا اس میں کو ئی ذکر نہیں ۔ فلسطین کی تاریخ سے مسیح کا ذکر حذف ہے، جب کہ آپ کے ہم عصر رومی حکمرانوں کا ذکر اس میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ قرآن کے علاوہ ، پچھلے پیغمبروں کی بابت جاننے کا واحد ذریعہ بائبل ہے اور بائبل کا یہ حال ہے کہ اس میں تمام پیغمبروں کو مسخ شدہ حالت میں پیش کیا گیا ہے۔ p. 228
حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میںبائبل کا بیان ہے کہ نوح کاشتکاری کر نے لگا۔ اس نے ایک انگور کا درخت لگایا ، اور اس نے اس کی مَے پی اور اسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرہ میں برہنہ ہو گیا اور کنعان کے باپ حام نے اپنے باپ کو برہنہ دیکھا(پیدائش، 9:2-21)۔ p. 229other source
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حوالہ بائبل میں ملتا ہے ۔ مگر اس میں آپ کی غیر متعلق خاندانی باتوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ موجود ہے، مگر آپ کی دعوتِ تو حید کا اس میں سرے سے کوئی ذکر نہیں (دیکھیے، بائبل کی کتاب پیدائش، باب 15)۔ p. 229original + quote
حضرت لوط علیہ السلام ایک سچے پیغمبر تھے۔ مگر بائبل میں ان کی تصویر یہ دی گئی ہے کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کومَے پلایا اور رات کے وقت ان کے ساتھ ہم آغوش ہو ئیں ۔ اور پھر لوط کی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہو ئیں(پیدائش، 19:33)۔ p. 229original + quote
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ کی چمک قرآن کے مطابق ایک خدائی نشان تھی (20:22; 27:12)۔ مگر بائبل کا بیان ہے کہ موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑہ سے برف کے مانند سفید تھا(خروج، 4:6)۔ p. 230quoted source
حضرت سلیمان علیہ السلام خدا کے سچّے پیغمبر تھے۔ مگر بائبل ان کی بابت کہتی ہے کہ سلیمان بہت سی اجنبی عورتوں سے محبت کرنے لگا۔ یہ ان قوموں کی تھیںجن کی بابت خداوندنے کہا تھا کہ ان کے بیچ نہ جانا، کیونکہ وہ ضرور تمہارے دلوں کو اپنے دیو تاؤں کی طرف مائل کر لیں گے۔ سلیمان ان ہی کے عشق کا دم بھرنے لگا۔ اس کی بیویوں نے اس کے دل کو پھیر دیا۔ کیونکہ جب سلیمان بڈھا ہو گیا تو اس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیرمعبودوں کی طرف مائل کرلیا اور اس کا دل اپنے خدا کے ساتھ کامل نہ رہا۔ اور سلیمان نے خداوند کے آگے بدی کی اور اس نے خدا وند کی پوری پیروی نہ کی (1۔سلاطین، باب11)۔ p. 230unverified
یہ صرف چند حوالے ہیں جو بطور مثال یہاں درج کیے گئے ہیں، نہ کہ بطور احاطہ۔ تفصیل کے طالب بائبل کا مطالعہ کر کے اسے جان سکتے ہیں۔ p. 230
پیغمبروں کی طویل فہرست میں اس اعتبار سے صرف ایک استثنا ہے، اور وہ پیغمبر آخرالزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ تمام پیغمبروں میں آپ اکیلے پیغمبر ہیںجن کی تصویر بگاڑنے کی ہر کوشش مسلسل ناکام ہو تی چلی جارہی ہے۔ آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات کا ریکارڈ اپنی کامل ترین ابتدائی شکل میں آج بھی پوری طرح محفوظ ہے اور کسی بھی شخص کے لیے ممکن ہے کہ اس کا مطالعہ کر کے اس کو بخوبی طور پر جان سکے۔ p. 230
یہ محض ایک اتفاق کی بات نہیں اور نہ یہ مسلمانوں کی کوششوں کی بنا پر ہے ۔ یہ براہ راست خدا کی مداخلت کے تحت ہے۔ یہ خود خدا ہے جس نے آپ کے معاندین کی معاندانہ کوششوں کو مکمل طور پر ناکام بنا رکھا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان جن شیطانی کتابوں (satanic books)پر انسانی حکومتوں سے پابندی لگانے کا مطالبہ کرر ہے ہیں ، وہ پابندی، پیغمبر ِ اسلام کے معاملہ میں،خود مالک کائنات کی طرف سے زیادہ بڑے پیمانے پر پہلے ہی لگی ہوئی ہے۔ امتحانی آزادی کی بنا پر خدانے کسی دشمن کے حق زبان وقلم کو تو نہیں پکڑا۔ مگر اس کی زبان و قلم کی کاوشوں کے نتیجہ کو یقیناً پکڑ رکھا ہے۔اس نے انہیں عملی طور پر موثر بننے سے روک دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاندین اپنی ساری کوششوں کے باوجود،باعتبار نتیجہ، پیغمبر آخر الزماں کی تصویر کو بگاڑنے کے معاملہ میں وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے جو پچھلے پیغمبروں کے معاملہ میں بلا استثنا انھوں نے حاصل کرلی۔ p. 231