Shatm-e-Rasool Ka Masla

جذباتی ہنگامہ ارائی

Shatm-e-Rasool Ka Masla — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (111 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. اسلام مغربی لٹریچر میں
  3. عرض مترجم
  4. شتم رسول کا مسئلہ
  5. امت کا فکری زوال
  6. قرانی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن
  7. مقصد تخلیق
  8. یہ اسلام نہیں
  9. جہاد یا سر کشی
  10. جذبات کا اعتبار نہیں
  11. دوسرا باب رشدی کی کہانی
  12. جوابی انعام
  13. اسلام کی تصویر بگاڑنا
  14. ریاض کانفرنس کا فیصلہ
  15. ایک مغالطہ
  16. مضحکہ خیز ردعمل
  17. سورج پر خاک
  18. سطحی کتاب
  19. کتاب کا مضمون
  20. مسلمہ عظمت
  21. فرضی افسانہ
  22. غلط بیانی
  23. ایک مثال
  24. اطاعت یا سر کشی
  25. چند مثالیں
  26. تعمیل حکم یا سر کشی
  27. حکمت اعراض
  28. حضرت عمر کا قول
  29. پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا
  30. دور ازادی
  31. زیادہ بڑی سزا
  32. تیسرا باب شتم و ارتداد
  33. فقہی مسئلہ، شرعی مسئلہ
  34. قول بلا فعل
  35. سامان تضحیک
  36. متفرقات
  37. اخباری بیان
  38. ایک ملاقات
  39. غلط ترجمانی
  40. اشتعال انگیزی نہیں
  41. ملاحظات
  42. جلوس کی سیاست
  43. چند تبصرے
  44. دونوں یکساں
  45. ناقابل فہم
  46. قلم کا جواب قلم
  47. شاتم رسول کی سزا
  48. ابن تیمیہ کی کتاب
  49. ذاتی حق کامعاملہ نہیں
  50. دفاع نہ کہ حد
  51. قیاسی مسئلہ
  52. قران سے استدلال
  53. حدیث سے استدلال
  54. فقہ سے استدلال
  55. پیغمبر اور مستہزئین
  56. زیادہ بڑا مجرم
  57. چوتھا باب مصلحت دعوت
  58. حالات سے بلند ہو کر
  59. پیغمبر کا نمونہ
  60. دعوتی تصویر
  61. بدنامی سے بچت
  62. مزید مثالیں
  63. زیادہ قابل لحاظ
  64. اغیار کو موقع نہ دینا
  65. دو اقتباس
  66. دور اول کی مثال
  67. مستقبل پر نظر
  68. اگلی نسلوں کا انتظار
  69. اج کا دشمن کل کا دوست
  70. اسلام قبول کرنے کے بعد
  71. خدائی ضمانت
  72. خدائی حفاظت
  73. اصل ذمہ داری سے غفلت
  74. پہلا کام اتمام حجت
  75. شتم رسول کا مسئلہ
  76. ڈائری سے انتخاب
  77. پانچواں باب جدید ذہن اور اسلام
  78. ہجر جمیل
  79. غیر فطری رد عمل
  80. دعوت کے حدود
  81. کارٹون
  82. پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش
  83. اعراض کی ضرورت
  84. کارٹون کا مسئلہ
  85. بے فائدہ عمل
  86. جذباتی ہنگامہ ارائی
  87. دو اپشن
  88. قصاص کا اصول
  89. پرامن احتجاج
  90. حبل اللہ، حبل الناس
  91. سماجی جرم، اعتقادی جرم
  92. سزا کا تعلق خدا سے
  93. عفوودرگزر کا حکم
  94. شتم اور ارتداد
  95. تاریخ کا سبق
  96. قومی توہین
  97. توہین رسول
  98. دلیل یا سزا
  99. اختلاف رائے کا کیس
  100. تحفظ نبوت، تحفظ کار نبوت
  101. مثبت جواب
  102. نبی رحمت کا طریقہ
  103. خاتمہ سوچنے کی بات
  104. اصل مسئلہ
  105. جدید اسلامی لٹریچر
  106. مثبت طریق کار
  107. قابل تقلید نمونہ
  108. خاموشی کی طاقت
  109. اصل کام
  110. سوال و جواب
  111. خاتمہ کلام

جذباتي هنگامه آرائي p. 286

ستمبر 2012 میں امریکا میں ایک فلم بنائی گئی۔ اِس فلم کا نام تھا — مسلمانوں کی معصومیت (Innocence of Muslims)۔ اِس فلم میں ایسے مناظر دکھائے گئے تھے جو مسلمانوں کی نظر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ’’گستاخی‘‘کے ہم معنی تھے۔ اِس کے بعد دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے۔ شرق سے غرب تک، ہر جگہ اس کے خلاف پرشور احتجاج ہونے لگا۔ ہر جگہ دھوم کے ساتھ جذباتی مظاہرے اور تقریریں کی گئیں۔ اِن مواقع پر مسلمان جگہ جگہ اپنے مظاہروں کے دوران جو پلے کارڈ (placard) بلند کیے ہوئے تھے، اُن کی نوعیت کا اندازہ اُن پر لکھے ہوئے حسب ذیل الفاظ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے p. 286

"Obama, Obama, we like Osama! p. 286

Behead all those who insult the Prophet! p. 286

Insulting the Prophet is insulting 1.5 billion Muslims! p. 287

The Prophet is dearer to us than our lives!" p. 287

اِس سلسلے میں دنیا کے مختلف ملکوں میں جو پرشور مظاہرے کیے گئے، اُن میں سےایک پاکستان کا وہ مظاہرہ تھا جو 28 ستمبر 2012 کو ’’یومِ عشقِ رسول‘‘ کے طور پر منایا گیا۔ اِس واقعے کی رپورٹ لاہور کے ہفت روزہ سنڈے میگزین نوائے وقت (30 ستمبر 2012) میں شائع ہوئی ہے۔ اِس رپورٹ کے کچھ حصے یہاں نقل کیے جاتے ہیں ’’پاکستانی قوم نے جمعہ کو یومِ عشقِ رسول منایا۔ گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف ’’یومِ عشقِ رسول‘‘ پر عوامی رد عمل کے دوران غیر معمولی توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات ہوئے۔اِن پر تشدد واقعات میں صرف جمعہ کو 32 افراد جاں بحق ہوئے اور 200سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ کراچی میں 5 سینما گھر، تین بینک اور لاتعداددکانیں لوٹنے کے بعد جلا دی گئیں، گاڑیوں کو توڑا گیا، لوگوں پر ڈنڈے برسائے گئے، 4پولیس موبائلیں اور بکتر بند گاڑیاں بھی جلا دی گئیں۔ اس دوران اسپتالوں پر بھی حملے کیے گئے اور اربوں روپیے کی املاک دھوئیں کی نذر ہوگئیں‘‘۔ (صفحہ 4) p. 287unverified

’’گستاخی ِ رسول‘‘کے سوال پر اِس طرح کے پرتشدد واقعات مسلمانوں کی طرف سے ہر جگہ ہورہے ہیں، پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی۔ اِن واقعات کی رپورٹ برابر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں آرہی ہے۔ اِس صورتِ حال کو دیکھ کر ساری دنیا میں ایک سوال کیا جارہا ہے، وہ یہ کہ — پُر امن گستاخی کے جواب میں مسلمان خود پرتشدد گستاخ کیوں بن جاتے ہیں۔ رسول کی شان میں ’’گستاخی‘‘ کرنے والا صرف یہ کرتا ہے کہ وہ اِس قسم کی ایک کتاب شائع کرتا ہے، یا اخبار میں ایک کارٹون چھاپ دیتاہے، یا ایک فلم بنا کر اس کو انٹرنیٹ پر ڈال دیتا ہے۔ یہ اگر گستاخی ہے تو وہ یقینی طور پر ایک پرامن گستاخی ہے، لیکن اس کے جواب میں مسلمان جو کچھ کرتے ہیں، وہ مبیّنہ طورپر ایک پرتشدد رد عمل یا پرتشدد گستاخی کا معاملہ ہے۔ p. 287unverified

پیغمبر ِآخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلامی شریعت دی ہے، اُس میں واضح طورپر اِس طرح کے معاملات میں ایک اصول بتایا گیا ہے ، وہ قِصاص(2:178) کا اصول ہے، یعنی برابر کا بدلہ (Equal Retribution)۔ قصاص کی تعریف قرآن میں اِن الفاظ میں دی گئی ہے p. 287original + quote

وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ (16:126)۔ تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا کہ تمھارے ساتھ کیا گیا ہے۔ p. 288Qur'an

اِس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں p. 288

وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ(42:40) یعنی برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی، پھر جس نے معاف کردیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ p. 288original + quote