Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
زیادہ قابلِ لحاظ p. 206
ان واقعات سے معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کی اور آپ کے خلاف سب و شتم والے افعال کیے۔ حتیٰ کہ صحابۂ کرام کو وہ قابل قتل نظر آنے لگے۔ انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اجازت دیں تو وہ انہیں قتل کر دیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کی اجازت نہ دی۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اگر میںان کو قتل کر دوں تو لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اس کو اسلام کو بد نام کر نے کے لیے استعمال کریں گے۔ p. 206
اس سے معلوم ہو ا کہ کوئی چیز ہے جو ’’ قتل شاتم‘ ‘سے بھی زیادہ قابل ِ لحاظ ہے۔ اور وہ اسلام کی دین رحمت کی تصویر ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں دعوتی تصویر بھی کہا جاسکتا ہے۔ اسلام کی دعوتی تصویر بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک شخص کے کھلے ہوئے سب وشتم اور اس کی شدید ایذارسانی کے باوجود اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کو نظر انداز کر کے چھوڑ دیا جائے گا۔ p. 206
اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز دعوتی مصلحت ہے۔ دعوتی مصلحت اسلام میں سپریم حیثیت کا درجہ رکھتی ہے۔ دعوتی مصلحت کی خاطر ہر دوسری چیز کو نظر اندازکر دیا جائے گا، خواہ وہ بجائے خود کتنی ہی سنگین نظر آتی ہو۔ مسلمانوں کے دلوں کا مجروح ہونا خدا اور رسول کی نظر میں اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ دعوتی مصلحت کا مجروح ہونا۔ اگر کسی معاملہ میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو تے ہوں تو انہیں اپنے جذبات کو دبانا چاہیے، نہ کہ وہ جذبات کا بے جا اظہار کریں اور دعوت کے قیمتی مصالح کو برباد کر کے رکھ دیں۔ p. 207