Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
چند تبصرے p. 135
سعودی عرب کے شاہ فہد بن عبدالعزیز نے (سلمان رشدی کا نام لیے بغیر) اس پر تبصرہ کیا۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دعوت الی اللہ کا کام احسن طریقہ سے کرنا چاہیے۔ ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم دنیا کی دوسری قوموں کو یہ یقین دلائیں کہ اسلام محبت اور امن کا مذہب ہے۔ اسلام تشدد اور دہشت گردی کا مذہب نہیں ’’ أكّد خادِمُ الحَرَمَيْنِ الشَّرِيفَيْنِ على أَهَمِّيَّةِ الدَّعْوَةِ إلى اللهِ بِالحُسْنى. وأنَّ عَلَيْنَا أنْ نُؤَكِّدَ لِلشُّعُوبِ الأُخْرَى أنَّ الإسْلامَ هُوَ دِينُ المَحَبَّةِ والسَّلامِ ولَيْسَ دِينَ العُنْفِ والإرْهَابِ‘‘ ( اخبار العالم الاسلامی، مکہ، 22مئی1989)۔ p. 135other source
امیر کویت الشیخ جابر الاحمد الصباح نے کہا کہ ایک سلمان رشدی کیا، دنیا بھر کے ایسے سارے لوگ بھی اپنی اسلام دشمن تحریروں سے اللہ کے اس سچے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ p. 135other source
یہی بات الہ آباد یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر سوشیل کمار سریواستو نے ان لفظوں میںکہی کہ’’ اسلام اتناکمزور مذہب نہیں ۔ شیطانی آیات جیسی ان گنت کتابیں بھی اس کو ہلا نہیں سکتی۔‘‘ (اخبارنو،17-23امارچ1989)۔ p. 135other source
اسلام کی ہزار سال سے زیادہ لمبی شاندار تاریخ ہے۔ اس تاریخ نے اسلام کو اس سے زیادہ مستحکم بنا دیا ہے کہ کوئی شخص یا کوئی بڑے سے بڑا گروہ اپنی باتوں سے اس کو ادنی نقصان بھی پہنچا سکے۔ چنانچہ یہی بات برطانیہ کی موجودہ خاتون وزیر اعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے ان لفظوں میں کہی p. 136original + quote
''Great religions should be strong enough to withstand such criticisms as were contained in the book.'' p. 136
یعنی عظیم مذاہب کو اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس قسم کی تنقید کے مقابلہ میں ٹھہر نہ سکیں جو کہ رشدی کی کتاب میں پائی جاتی ہیں(دی گارجین ، لندن، 4مارچ1989)۔ p. 136
پاکستان کی خاتون وزیر اعظم نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملہ کو طول دینے سے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ توہینِ عقیدہ کو دہرانا بھی ویسا ہی گناہ ہے جیسا بجائے خود تو ہین کرنا۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کے مدنظر میرے خیال سے بنیاد پرست مذہبی لوگ بھی رشدی کے ناول اور اس کے قابل اعتراض موضوعات کی تشہیر کر کے اسی گناہ کا ارتکاب کررہے ہیں جس کا ارتکاب رشدی نے کیا ہے۔ p. 136original + quote