Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اصل ذمہ داری سے غفلت p. 234
مذکورہ آیت (الحجر،15:94) اوراس طرح کی دوسری قرآنی آیتوں سے واضح ہے کہ مسلمانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پیغمبر کی لا ئی ہوئی تعلیمات کو لوگوں کے سامنے پیش کریں ،نہ یہ کہ پیغمبر کے خلاف گستاخی کرنے والوں سے لڑائی لڑتے رہیں۔ پہلا کام اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ذمہ کیا ہے، اور دوسرا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جس کام کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ موثر طور پر خود اپنے ذمہ لے رکھا ہے، اس کے لیے وہ بے فائده طور پر شور وغل كرتے هيں۔ اور جس كام كو الله نے خود ان كے ذمه كيا هے اس كے ليے وه متحرک نہیں ہو تے۔ اس نوعیت کی سرگرمی خدا کے مقابلہ میں سر کشی ہے ، نہ کہ خدا کے حکم کی تعمیل ۔ p. 234original + quote
موجودہ زمانہ کے مسلمان پیغمبر اسلام کے دین کی اشاعت کے لیے تو کچھ نہیں کرتے، البتہ اگر کوئی معاند ایک لغو بیان دے یا ایک مخالفانہ تحریر چھاپے تو اس کے خلاف شور و غل کرنے میں وہ نہایت تیزی دکھاتے ہیں ۔ یہ واقعہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی کوتاہی کو بتا رہا ہے۔ اس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں ، یہ ہے کہ مسلمان وہ کام کرنے کے لیے تو بہت بے قرار ہیں جس کا اہتمام خدا نے خود اپنی طرف سے رکھا ہے۔ مگر اس کام کو کرنے کے لیے ان کے اندر کو ئی تڑپ موجود نہیں جو شریعت کے مطابق انہیں اپنی کوششوں کے ذریعہ انجام دینا ہے۔ p. 235
قرآن کے مطابق مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی نصرت کریں ۔ مگر نصرت سے مراد دعوت ہے ، نہ کہ دوسروں کے خلاف شور و غل ۔ مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ پیغمبر آخرالزماں پر طعن کرنے والوں کے خلاف شور وغل کر کے انھیں پیغمبر آخرالزماں کی نصرت کا کریڈٹ نہیں مِل سکتا۔ یہ کریڈٹ انھیں صرف اس وقت ملے گا جب کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کے پیغام کی اشاعت کے لیے اٹھیں اور اس کو اس کے تمام ضروری آداب و شرائط کے ساتھ ساری قوموں کے سامنے انجام دیں۔ p. 235original + quote
مسلمانوں کی موجودہ روش کیوں ہے ، اس کا نہایت گہرا نفسیاتی سبب ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان، مختلف اسباب سے، دوسری قوموں کے بارے میںنفرت کی نفسیات میں مبتلا ہیں ۔ ان کے بارے میںوہ محبت اور خیر خواہی کا جذبہ نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری قوموں کے خلاف بھڑکنے کا موقع ہو تو وہ فوراً بھڑک اٹھتے ہیں ۔ اس کے برعکس دوسری قوموں کے ساتھ ہمدردی وخیر خواہی کی بات ہو تو اس کے لیے وہ متحرک نہیں ہو تے۔ p. 235
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی‘‘ کے مسئلہ پر اٹھنے کے لیے صرف نفرت کا جذبہ کافی ہے، جو مسلمانوں کے اندر کافی مقدار میں موجود ہے۔ اس کے بر عکس ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی اشاعت ‘‘ کے لیے محبت کا جذبہ درکار ہے جو آج کے مسلمانوں کے اندر موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے سوال پر تیزی سے حرکت میں آجاتے ہیں اور دوسرے سوالوں پر وہ حرکت میں نہیں آتے، خواہ اس کے لیے انھیں کتنا ہی زیادہ پکارا جائے۔ یہ صورت حال حد درجہ تشویشناک ہے۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اس روش پر نظر ثانی کریں ، یہ روش یقینی طور پر خدا کے نقشہ کے مطابق نہیں ۔ p. 236