Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک ملاقات p. 122
25فروری 1989کودو امریکی پروفیسر(ایک مرد، ایک عورت) اسلامی مرکز میں آئے انھوں نے اسلامی مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات حاصل کیں اور راقم الحروف سے اسلام کے بارے میں تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے p. 122
Dr. Peggy Starkey, Dr. Archie L. Nations p. 122
12228, Old Creedmoor Road, Raleigh, North Carolina 27613, Telephone: (919)846-8377 (U.S.A) p. 122other source
اس ملاقات کے آخر میں انھوں نے رشدی ۔ خمینی معاملہ میں بھی راقم الحروف کی رائے دریافت کی۔ میں نے کہا کہ سلمان رشدی كے قتل کا ’’فتویٰ‘‘ اگرچہ شیعہ امام آیت اللہ خمینی نے دیا ہے۔ مگر سنّی علماء بھی اس میں شریک ہیں۔ کچھ علماء (مولانا ابوالحسن علی ندوی) نے براہ راست اخباری بیان کے ذریعہ اس سے اتفاق کیا ہے۔ دوسرے علماء جو خاموش ہیں، وہ بھی عملاً اس فتوی میں شریک قرار دیے جائیں گے۔ کیونکہ اس طرح کے معاملات میں خاموشی بالواسطہ تائید کے ہم معنی ہو تی ہیں۔ p. 123
میں نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اس فتوی سے صد فی صد اختلاف ہے۔ میں اس کو بالکل ناجائز اور غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔ اس سلسلہ میں میَں نے ان سے جو باتیں کہیں ، ان کا اردو ترجمہ خلاصہ یہاں درج کیاجاتا ہے۔ p. 123
آیت اللہ خمینی نے کہا ہے کہ سیٹینگ ورسز کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے۔ بہت سے سنی علماء نے بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی تائید کی ہے۔ مگر اسلامی نقطہ ٔ نظر سے یہ صد فی صد غلط ہے۔ p. 123original + quote
1۔سلمان رشدی کیوں اس قابل ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے۔ عام طور پر اس کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ وہ توہین رسول یا توہین اسلام کے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب میں کچھ ’’واقعات‘‘ کو افسانہ کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’تِلْكَ الغَرَانِيقُ العُلَىٰ‘‘کا قصہ، یا حضرت عائشہ (زوجہ رسول) کو صفوان بن معطل کے ساتھ ملوث کرنے کا قصہ۔ یہ سب قصے پرانے ہیں ۔ سلمان رشدی ان کا خالق نہیں ہے۔ سلمان رشدی نے ان واقعات كو دوبارہ ناول کے پیرایہ میں بیان کر دیا ہے۔ پھر جن قصوں کے مصنف اول کو قتل کی سزا نہیں دی گئی، ان کے مصنف ثانی کو کیوں قتل کی سزا دی جائے گی۔ p. 123
2۔ اسلام میں کسی جرم کی جو سزا مقرر ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اٹھے اور بطور خود اس کو لوگوں کے اوپر نافذ کر نا شروع کر دے۔ اسلام میں سزا کا نفاذعدالتی کاروائی کے ذریعہ کیا جاتا ہے(تفصیل کے لیےدیکھیے زیرِ نظر کتاب کا موضوع جہاد یا سرکشی)۔ اگر سلمان رشدی نے ایسا جرم کیا ہو جو اسلامی شریعت میں موجب قتل ہے، تب بھی اس کا نفاذ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص بندوق لے کر اس کے پاس جائے اور خود اپنے فیصلہ کے تحت اس کو گولی مار دے۔ شرعی جرم کے ارتکاب کے بعد بھی ضروری عدالتی کاروائی کرنا لازمی ہے۔ ضروری عدالتی کاروائی کا بغیر کسی شخص کو قتل کرنا سراسر ناجائز اور غیر اسلامی فعل ہو گا۔ p. 123
3۔اسلام میں مختلف جرموں کی جو سزائیں مقرر ہیں، ان کا نفاذ صرف مملکت اسلامی میں کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اسلام میں چوری کرنے والے کے لیے ایک سزا مقررکی گئی ہے۔ مگر عملی نفاذ کے اعتبار سے اس کاتعلق صرف اسلامی حکومت کے دائرہ سے ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مسلمان دوسرے ملکوں میں جائیں اور وہاں جس کو چور سمجھیں اور اس پر بطور خود اسلامی سزا کا نفاذ شروع کردیں۔ اب چونکہ سلمان رشدی ایک غیر مسلم ملک (برطانیہ) کا شہری ہے، وہ اسلامی سزا کے دائرہ سے باہر ہے۔ یہ سرا سر غیر اسلامی فعل ہوگا کہ کوئی شخص ایران یا پاکستان سے برطانیہ جائے اور وہاں سلمان رشدی کو گولی مار کر یہ کہے کہ اس نے اس کے اوپر اسلامی قانون کا نفاذ کیاہے اس قسم کا ہر فعل سر کشی ہے ، نہ کہ اسلامی قانون کا نفاذ۔ p. 123
4۔سلمان رشدی کے خلاف مسلمان اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کو لازماً پُر امن دائرہ تک محدود رہنا چاہیے۔ مثلاً مضمون یا کتاب کی صورت میں اس کی تردید کرنا۔ مسلم ملکوں میں اس کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی لگانا۔ دوسری حکومتوں سے پر امن قانونی دائرہ میں مطالبہ کرنا ، وغیرہ۔ اس سے آگے کسی بھی قسم کی جارحیت اسلامی اعتبار سے جائز نہیں ۔ اس معاملہ میں مسلمان اگر جارحانہ انداز اختیار کریں تو یقینی طور پر وہ خدا کے غضب کو دعوت دینے کے ہم معنی ہو گا۔ p. 123
اگلے صفحه پر اس خط کی نقل دی جارہی ہے، جو مذکورہ امریکی پروفیسرنے اپنے وطن واپس پہنچنے کے بعد راقم الحروف کے نام روانہ کیا تھا p. 124other source
Dr. Peggy Starkey p. 124
Dr. Archie L. Nations p. 124
12228 Old Creedmoor Road p. 124
Raleigh, N.C. 27613 p. 124
March 27, 1989 p. 124
To: p. 124
Wahiduddin Khan, p. 124
President The Islamic Centre, p. 125
C-29, Nizamuddin West, p. 125
New Delhi-110 013, India p. 125
Dear Mr. Khan, p. 125
When we think of our time in Delhi, our minds immediately reflect on our visit with you and your son, Dr. Khan, who so graciously assisted us while we were there. We are profoundly indebted to you for granting us time to talk with you and to learn about the Muslim faith in India. p. 125
Most of all, we are encouraged by the fact that there are Muslim religious leaders like you whose wise counsel needs to be taken very seriously, not only by the Muslim people but also by persons of other religious traditions as well. We think that the hope for intercultural and international understanding and peace lies in the directions charted by such wisdom. We are, therefore, most grateful for the opportunity to meet you and to talk with you. You have strengthened our resolve to continue our efforts in Muslim-Christian Dialogue in the U.S. with a view toward the dissemination of an accurate knowledge of Islam and better relations with Muslims. p. 125other source
We appreciate your sharing with us your thoughts concerning the Rushdie controversy, and we thank you for giving us the articles and pamphlets which you have written. If there is some way that we might receive information about your future publications and how we might obtain them, we would be most grateful. p. 125
Sincerely Yours, p. 126
Peggy Starkey p. 126
Archie L. Nations p. 126