Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
توہینِ رسول p. 304
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذو القعدہ 6 ھ میں مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں پہنچ کر عمرہ کریں۔ آپ کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ بھی تھے۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ، جو اس وقت مشرک تھے، انھوں نے طے کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں ۔ آپ حدیبیہ میں ٹھہر گئے ۔ p. 304
اس کے بعد اہل مکہ سے بات چیت شروع ہوئی۔ اس دوران اہل مکہ طرح طرح کی اشتعال انگیزی کرتے رہے۔ مگر آپ قطعاً اس سے مشتعل نہیں ہوئے اور صبر و برداشت کے ساتھ ان سے بات چیت جاری رکھی۔ آخر کار دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ۔ یہ معاہدہ بھی تقریباً ایک طرفہ تھا۔ اس میں بظاہر وہ تمام باتیں مان لی گئی تھیں جن کا مطالبہ اس وقت اہل مکہ کر رہے تھے ۔ اس معاہدہ کے تحت آپ کو پابند کیا گیا تھا کہ آپ مکہ میں داخل نہ ہوں اور اس سال عمرہ کیے بغیر واپس چلے جائیں ۔ مکہ کا کوئی آدمی مسلمان ہو کر مدینہ جائے تو اس کو دوبارہ مکہ واپس کر دیں۔ معاہدہ میں’’محمد رسول اللہ‘‘کا لفظ مٹائیں اور اس کے بجائے محمد بن عبد اللہ کا لفظ لکھیں ۔وغیرہ ۔ p. 305
اب ایک صورت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوچتے کہ اہل مکہ کی ان باتوں کو ہرگزنہیں ماننا ہے ۔ کیوں کہ اس وقت اگر ان کی بات مان لی گئی تو آئندہ وہ اور زیادہ جری ہو جائیں گے ۔ آج عمرہ کے لیے روک رہے ہیں، کل حج کے لیے روکیں گے ۔ آج مکہ میں داخل ہونے پر پابندی لگا رہے ہیں، کل مدینہ میں داخلہ پر پابندی لگائیں گے ۔ آج نئے مسلمانوں کو واپس کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، کل پرانے مسلمانوں کو واپس کرنے کے لیے کہیں گے ۔ آج رسول اللہ کا لفظ مٹانے کے لیے کہہ رہے ہیں، کل خدا کا لفظ مٹانے کا مطالبہ شروع کر دیں گے۔ وغیرہ، وغیرہ۔ p. 305
مگر اہل مکہ کی ہٹ دھرمی کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نہیں سوچا۔ آپ نے اس قسم کے تمام اندیشوں کو شیطانی وسوسہ قرار دیتے ہوئے انھیں بالکل نظر انداز کر دیا۔ اور اہل مکہ کی تمام شرطوں کو مان کر مدینہ واپس چلے آئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کی یہ’’واپسی‘‘عظیم’’اقدام‘‘کے ہم معنی ٰبن گئی۔ اس کے بعد اللہ کی مدد آئی اور صرف 2سال کے اندر نہ صرف مکہ آپ کے کنٹرول میں آگیا، بلکہ مکہ والے بھی آپ کے سچے ساتھی بن گئے۔ p. 305
موجودہ زمانے میں بھی مسلمانوں کے سامنے اس قسم کے معاملات پیش آرہے ہیں۔ غیر مسلم طبقہ کی طرف سے بعض اوقات ایسے مطالبے کیے جاتے ہیں جو مذکورہ بالا مطالبات کے مشابہ ہیں۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اپنی سنت کی زبان میں مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ میں تمہارے لیے خدائی نمونہ ہوں ۔ تم وہی کرو جو میں نے کیا۔ مگر مسلم ہر بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کہنے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹے لیڈروں کے کہنے پر چل رہے ہیں ،نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر ۔ p. 306
جب بھی مذکورہ نوعیت کا کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو نام نہاد لیڈر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو، ذرا بھی نرم نہ پڑنا۔ اگر تم نرم پڑے تو اغیار اور زیادہ کڑے ہو جائیں گے۔ دیکھو ، ذرا بھی ان لوگوں کے ساتھ رعایت نہ کرنا ۔ اگر تم نے رعایت کا معاملہ کیا تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے اور تمہارے ساتھ مزید سختی کا معاملہ کریں گے۔ ایسے مواقع پر مسلمان اپنے رسول کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنےلیڈروں کے کہے کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ p. 306original + quote
یہ بلا شبہ سب سے بڑی تو ہینِ رسول ہے۔ جب ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پکار رہے ہوں، اور دوسری طرف جھوٹے لیڈر اپنی جھوٹی آوازیں لگا رہے ہوں ، ایسی حالت میں خدا کے رسول کی شان میں اس سے بڑی گستاخی اور کیا ہو سکتی ہے کہ مسلمان خدا کے رسول کی پکار کو نظر انداز کر دیں اور لیڈروں کی پکار کی طرف دوڑ پڑیں ۔ p. 306unverified
یہ تو ہینِ رسول کا سب سے زیادہ بڑا واقعہ ہے جو آج خدا کی زمین پر پیش آرہا ہے۔ اور اس توہینِ رسول کا ارتکاب کرنے والے وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو توہینِ رسول سے روکنے کا جھنڈااٹھائے ہوئے ہیں۔ p. 306
مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ موجودہ حالت میں ان کا یہ فعل غفلت پر سر کشی کا اضافہ ہے۔ اور جو لوگ غفلت پر سرکشی کا اضافہ کریں وہ اللہ کے نزدیک صرف اپنے جرم کو بڑھاتے ہیں، وہ کسی درجہ میں بھی اس کو کم نہیں کرتے ۔ p. 307original + quote