Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دفاع نہ کہ حد p. 158
اس معاملہ میں ابن تیمیہ اوران کے جیسے دوسرے لوگوں کی رائے قائم کرنے میں جو غلطی کی ہے، اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انھوں نے شتم رسول کے مسئلہ کو صرف حد یا نفاذ حد کا مسئلہ سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ دفاع کا مسئلہ ہے۔ شاتم دراصل اپنی شتم کے ذریعہ اسلام کی صداقت پر ایک قسم کا فکری حملہ کرتا ہے۔ اور جو حملہ فکری نوعیت رکھتا ہو، اس کا توڑ جوابی فکری یلغار ہی کے ذریعہ کیاجاسکتا ہے۔ تلوار کے ذریعہ شاتم کی گردن کاٹ دینے سے اس کادفعیہ نہیں ہوتا۔ p. 158
جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا، ابن تیمیہ نے خود اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مشرکین جب پیغمبر اسلام پر ہجو کرتے تھے تو حسّان بن ثابت الانصاری جوابی ہجو کے ذریعہ آپ کی طرف سے اس کا دفاع کرتے تھے(كان صلى الله عليه وسلم يقول لحسان بن ثابت ’’اغْزُهُمْ وَغَازِهِمْ‘‘، وكان يُنْصَبُ له مِنبَرٌ في المسجد يُنافِحُ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بشِعْرِه وهجائه للمشركين. وقال النبي صلى الله عليه وسلم’’اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ القُدُسِ‘‘.وقال’’إِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ مَا دُمْتَ تُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘.وقال’’هي أَنْكَى فِيهِمْ مِنَ النَّبْلِ‘‘) صفحہ 206، مطبوعہ الریاض۔ p. 159
مذکورہ الفاظ خود بتارہے ہیں کہ سب و شتم کا معاملہ اسلام پر ایک نظریاتی حملہ کا معاملہ ہے۔ اس کا صحیح اور کارگر توڑ یہی ہے کہ جوابی نظریہ سے اس کو غلط اور بے بنیاد ثابت کردیا جائے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے منافحت یا مدافعت کا مسئلہ ہے ، نہ کہ عام معنوں میں سزائے شرعی کے نفا ذکا مسئلہ۔ p. 159
یہ حقیقت ہے کہ طعن ِ اسلام اور شتم رسول عام معنوں میں ایک قانونی جرم کا معاملہ نہیں ہے کہ مجرم کو ہلاک کر دینے سے اس کا ازالہ ہو جائے شتم رسول، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسلام پر ایک فکری اور نظریاتی وار ہے۔ اور ایک نظریاتی وار کو جوابی نظریاتی وار کے ذریعہ ہی رد کیا جا سکتا ہے۔ p. 159
فکری اور نظریاتی فتنہ کو اس طرح ختم نہیں کیا جاسکتا کہ بندوق ہاتھ میں لی جائے اور متعلقہ شخص کو گولی مار کر اس کا خاتمہ کردیا جائے۔ قاتل کو قتل کر کے قتل کا ازالہ ہو جاتا ہے مگر شاتم کے قتل سے شتم کا ازالہ نہیں ہوتا۔ p. 159
شتم ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاتم کے قتل کے بعد بھی بدستور باقی رہتا ہے۔ اور جب اصل مسئلہ بدستور باقی رہے تو ایک شخص کو قتل کر دینے سے کیا حاصل ۔ p. 160