Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دونوں یکساں p. 136
مرزا غلام احمد قادیانی(1839-1908)اور مولانا ثناء اللہ امرتسری (1868- 1948)دونوں ہم عصر تھے۔ اس زمانہ میں جن علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تحریری اور تقریری مقابلہ کیا، ان میں ایک مشہور نام مولانا ثناء اللہ امرتسری کا بھی ہے۔ p. 136
تردید قادیانیت پر مولانا ثناء اللہ امرتسری نے بے شمار چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں ۔ ان کے مناظروں اور تحریروں اور تقریروں سے خود مرزا غلام احمد قادیانی تنگ آگئے۔ انھوں نے 15اپریل1907 کو ایک تحریر لکھی۔ اس کا عنوان تھا’’ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘۔ اس تحریر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ ’’مولوی ثناء اللہ نے مجھے بہت بدنام کیا۔ میرے قلعہ کو گرانا چاہا۔ اس لیے میں یہ دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے ، وہ سچے کی زندگی میںمر جائے۔‘‘ p. 137original + quote
اس تحریر کے ایک سال بعد 26مئی 1908کو مرزا غلام احمد قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ دوسری طرف مولانا ثنا ء اللہ امرتسری مزید 40سال تک زندہ رہے اور 15مارچ1948 کو سرگودھا (پاکستان)وفات پائی۔ اس طرح فیصلۂ خدا وندی کے تحت ثابت ہوگیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ جھوٹا تھا، اور مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کے مقابلہ میں سچ پر کھڑے ہو ئے تھے۔ p. 137
یہ واقعہ مجھے 3 جون 1989کو یاد آیا جب کہ ریڈیونے اطلاع دی کہ ایرانی پیشوا آیت اللہ خمینی کا 86سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ آیت اللہ خمینی نے 15فروری1989کو یہ فرمان جاری کیا تھا کہ سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے۔ اس کے فوراً ہی بعد حکومت ایران نے اپنے خزانے اور اپنے سرکاری ذرائع اس فرمان (یا فتویٰ ) کی تعمیل کے لیے وقف کر دیے۔ ا س کے بعد دنیا بھر میں خمینی اور رشدی کا معاملہ سب سے زیادہ سنسنی خیز خبر کی حیثیت سے اخباروں میں چھپتا رہا۔ حکومت ایران نے یہ بھی اعلان کردیا کہ ایک خفیہ دستۂ موت (death squad)اس قاتلانہ مشن پر روانہ کیا جا چکا ہے۔ p. 138original + quote
مگر حکومت ایران کے مکمل تعاون اور دنیا بھر میں بے شمار شیعہ اور سنّی مسلمانوں کی بھر پور تائید کے باوجود آیت اللہ خمینی اس میں کامیاب نہ ہو سکے کہ وہ سلمان رشدی کو قتل کرادیں ۔ یہاں تک کہ اپنے فرمان موت کے تقریباًچار مہینہ بعد خود آیت اللہ خمینی موت کا شکار ہو گئے۔ p. 138
مذکورہ دونوں واقعات میں بعض فرق کے ساتھ ایک مشابہت ہے۔ اول الذکر واقعہ میں یہ ثابت ہوا تھا کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری حق پر ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی باطل پر۔ ثانی الذکر کا واقعہ میں کسی قدر فرق کے ساتھ یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کے دونوں ہی فریق باطل پر ہیں۔ سلمان رشدی بھی، اور اسی کے ساتھ آیت اللہ خمینی بھی۔ p. 138
سلمان رشدی کو تاریخی حقائق باطل ثابت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف آیت اللہ خمینی اس لیے باطل قرار پاتے ہیں کہ انھوں نے جھوٹے زعم کے تحت ایک ایسا فرمان جاری کیا جس کا انہیں خدا نے حق نہیں دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں خدا کی تائید حاصل نہیں ہو ئی۔ وہ اپنی ساری مذہبی ، سیاسی، اقتصادی اور عوامی طاقت کے باوجود سلمان رشدی کو ختم کرنے میں ناکام رہے۔ قتل تو درکنار ، اقدام قتل کے درجہ کا بھی کوئی واقعہ وہ ظہور ميں نہ لاسکے۔ یہاں تک کہ موت نے خود ان کا خاتمہ کر دیا۔ p. 139