Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نبیِ رحمت کا طریقہ p. 317
فتحِ مکہ کے بعد مکہ کی بہت سی عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اسلام قبول کیا۔ انہیں میں سے ایک ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ بن ربیعہ تھی ۔ یہ وہی عورت ہے جس نے احد کی جنگ میں حضرت حمزہ کی لاش کی بے حرمتی کی تھی۔ وہ کئی عورتوں کے ساتھ آئی۔ اس نے کہا کہ اگر میں نے محمدؐ کے سامنے کلام کیا تو وہ پہچان لیں گے، اور اگر انھوں نے پہچان لیا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے (فَقَالَتْ إِنِّي إِنْ أَتَكَلَّمْ يَعْرِفْنِي، وَإِنْ عَرَفَنِي قَتَلَنِي )تفسیر الطبری، جلد23، صفحہ 341۔ p. 317original + quote
چنانچہ بیعت کے وقت ہند نے نقاب سے اپنا چہرہ چھپالیا۔ مگر وہ اونچے خاندان کی عورت تھی، اس لیے وہ اپنی بڑائی کے احساس سے چپ نہ رہ سکی۔ بیعت کے الفاظ ادا کراتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا کہ یوں کہو کہ ہم اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے (وَلا نَقْتُلَ أَوْلادَنَا( تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 18871 ۔ p. 318original + quote
اس وقت ہند نے بے برداشت ہو کر گستاخی کے الفاظ کہے۔ اس کے الفاظ مختلف روایتوں میں اس طرح نقل کیے گئے ہیں قَالَتْ هِنْدٌ أَنْتَ قَتَلْتَهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَأَنْتَ وَهُمْ أَبْصَرُ رَبَّيْنَاهُمْ صِغَارًا، فَقَتَلْتُمُوهُمْ كِبَارًا تَقْتُلُ آبَاءَهُمْ وَتُوصِينَا بِأَوْلادِهِمْ (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 18872،(18874۔ہند نے کہا کہ آپ نے ان کو بدر کے دن قتل کر دیا اس لیے آپ جانیں اور وہ جانیں ۔ ہم نے چھوٹے پر انھیں پالا اور بڑے پر آپ نے انھیں قتل کر دیا ۔ آپ خود تو ان کے باپوں کو قتل کرتے ہیں اور ہم کو ان کی اولاد کے بارےمیں نصیحت کر رہے ہیں۔ p. 318quoted source
ہند نے اس سے پہلے بھی بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔ مذکورہ واقعے میں تو اس نےروبرو توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ موجودہ زمانے کے نام نہاد مسلم رہنماؤں نے جو خود ساختہ اسلام وضع کر رکھا ہے، یہی اسلام اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہوتا تو آپ فوراً ہند کو قتل کرا دیتے۔ مگر آپ نے بیعت لے کر ہند کو اسلام میں داخل کر لیا۔ p. 319original + quote
آج مسلمانوں سے سب سے بڑی چیز جو کھوئی گئی ہے وہ نبی ِرحمت کا یہی طریقہ ہے۔ p. 319
خاتمه p. 320