Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مثبت جواب p. 315
ہجرتِ رسول کے تیسرے سال مدینہ میں قریش اور اہلِ اسلام کے درمیان ایک جنگ ہوئی جو غزوہ احد کے نام سے مشہور ہے۔ اِس میں بعض اسباب سے اہلِ ایمان کو شکست ہوئی۔ تقریباً 70 مسلمان مارے گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم شامل تھے۔ جنگ کے خاتمے پر قریش کے سردار نے فخر کے ساتھ اپنی فتح کا کریڈٹ اپنے بت عزی کو دیتے ہوئے کہا لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ (ہمارے پاس عزی ہے، اور تمھارے پاس کوئی عزی نہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر صحابہ نے اِن الفاظ میں اِس کا جواب دیا اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ(صحیح البخاری، رقم الحدیث4043)۔ اللہ ہمارا مولا ہے، اور تمھارا کوئی مولا نہیں۔ p. 315original + quote
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ و ہ زندگی کا ایک عمومی اصول ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریقِ ثانی کوئی اشتعال انگیز بات کہے تو تم اس کے جواب میں خود مشتعل نہ ہو، بلکہ مثبت انداز میں اس کا جواب دو۔ فریقِ ثانی کی طرف سے خواہ کچھ بھی کیا جائے، تمھارا طریقہ مثبت رد عمل کا طریقہ ہونا چاہئے، نہ کہ منفی رد عمل کا طریقہ۔ p. 316
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صحابہ نے فریقِ ثانی کو جو جواب دیا، اُس میں بہ یک وقت دو فائدے تھے— ایک، یہ کہ صحابہ نے اپنے آپ کو منفی رد عمل کی نفسیات سے بچالیا، اور منفی رد عمل سے بچانا ہی تزکیہ نفس کااصل ذریعہ ہے۔ منفی رد عمل آدمی کے نفس کو آلودہ کرتا ہے اور مثبت رد عمل آدمی کے نفس کو پاک کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ p. 316original + quote
اِس طرح مثبت جواب دینے کا دوسرا فائدہ یہ تھا کہ قول محض قول نہ رہا، وہ ایک دعوت کا قول بن گیا۔ اِس کے ذریعے صحابہ نے فریقِ ثانی کو یہ پیغام دیا کہ شرک کا عقیدہ ایک بے بنیاد عقیدہ ہے۔ صحیح اور درست عقیدہ یہ ہے کہ آدمی اللہ واحد کو مانے اور اُسی سے ہر قسم کے خیر کی امید رکھے۔ ساری طاقت کا مالک اللہ ہے۔کسی کو جو کچھ ملتاہے، وہ صرف اللہ سے ملتا ہے، نہ کہ کسی اور سے۔ p. 317