Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۂ حنین، اوطاس اور طائف p. 152
یوم شنبہ6شوال8ھ p. 152
حُنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے۔ جہاں ہوازن و ثقیف آباد تھے۔ یہاں کے لوگ نہایت جنگ جو اور تیر انداز تھے۔ فتح مکہ کے بعد انہیں اپنے بارے میں خوف پیدا ہوا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کرکے یہ طے کیا کہ قبل اس کے کہ مسلمان ان پر حملہ کریں، ہمیں خود ان پر حملہ کر دینا چاہیے۔ چنانچہ ان کا سردار مالک بن عوف نضری بیس ہزار کا لشکر لے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے چلا۔ p. 152
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے تحقیق حال کے لیے عبداللہ بن ابی حدر اسلمی کو روانہ فرمایا۔ انہوں نے آپ کو ان کی جنگی تیاریوں کی اطلاع دی۔ آپ نے بھی مقابلہ کا سامان شروع کیا۔ p. 153
8 شوال8ھ کو بارہ ہزار آدمیوں کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے اور حنین کا قصد کیا۔ بارہ ہزار کا یہ لشکر جب حنین کی طرف بڑھ رہا تھا تو کسی صحابی کی زبان سے کثرت تعداد کے پیش نظر پُر فخر جملہ نکل گیالَنْ نُغْلَبَ الْيَوْمَ مِنْ قِلَّةٍ(تعداد کی قلت کی وجہ سے ہم آج ہر گز مغلوب نہ ہوں گے)سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 444۔ اس جملہ میں فخر و ناز کا جذبہ شامل تھا جو اللہ کو ناپسند ہے۔ چنانچہ تیسرے دن جب لشکر اسلام وادی حنین میں پہنچا تو دشمنوں نے بیس ہزار تلواروں سے ایک دم حملہ کر دیا۔ جس سے مسلمانوں میں حواس باختگی اور سراسیمگی پھیل گئی۔ صرف بارہ جاں نثار آپ کے پہلو میں رہ گئے۔ p. 153original + quote
جو لوگ مکہ سے آئے تھے وہ اچانک ہزیمت سے آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ ابو سفیان نے کہا کہ اب یہ ہزیمت دریا سے پہلے نہیں تھمتی۔ اور کلدہ بن حنبل نے خوشی سے چلا کر کہاالابطل السحر الیوم(آج سحر کا خاتمہ ہوا)۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے اور بلند آواز سے کہہ رہے تھے p. 153original + quote
أنَا النّبى لا كَذِبْ … أنَا ابنُ عَبْد المُطّلبْ p. 153
یعنی میں نبی ہوں اور اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ p. 153
حضرت عباس نے آپ کے حکم سے مہاجرین و انصار کو آواز لگائی۔ p. 153
يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ (الطبقات الکبریٰ، جلد2، صفحہ 115)۔ یعنی، اے گروہ انصار!، اے کیکر کےدرخت کے نیچے بیعت کرنے والو! p. 154other source
اس آواز کو سن کر تمام لوگ پھر آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ آپ نے دوبارہ حملہ کا حکم دیا۔ چنانچہ لشکر اسلام نے دوبارہ پوری ہمت و قوت کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں دشمنوں کے پائوں اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ کچھ لوگوں نے بھاگ کر مقام اوطاس میں اور کچھ نے مقام نخلہ میں پناہ لی۔ p. 154
اس طرح مسلمانوں کو فتح ہوئی اوروہ لوگ مغلوب ہوگئے۔ قبیلۂ ہوازن کے قیدیوں کی تعداد تقریباً6 ہزار تھی۔ رسول اللہ نے ان کو چھوڑ دیا۔ بعد کو وہ لوگ ایمان لے لائے۔ p. 154