Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خسرو پرویز کے نام خط p. 140
قیصر روم کی طرح رسول اللہ نے کسریٰ شاہ فارس کے نام بھی اپنا دعوتی خط’عظیم فارس‘ کے لقب کے ساتھ روانہ فرمایا۔ اس خط کو پہنچانے والے عبداللہ بن حذافہ سہمی تھے۔ p. 140
ہر قل کے برعکس خسرو پرویز نے انتہائی مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا۔ غصہ میں آ کر اس نے خط کو چاک کر ڈالا اور کہا کہ یہ شخص مجھ کو خط لکھتا ہے حالانکہ یہ میرا غلام ہے۔نیز غصے سے خط کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ چند دنوں کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ خسرو کواس کی بیٹے شیرویہ نے قتل کر ڈالا۔ p. 140
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درجنوں بادشاہوں اور امیروں کے نام خطوط لکھے جن میں سے بعض نے آپ کے خط کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور بعض نے عناد کا رویہ اپنایا۔ بعضوں نے (مثلاً مقوقس) اقرار کیا کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں لیکن ایمان قبول نہیں کیا۔ جب کہ بعض وہ تھے جنہوں نے آپ کے خط کو پاکر مسرت کا اظہار کیا اور ایمان لائے(مثلاً نجاشی شاہ حبشہ)۔ p. 140
جن مشاہیر کے نام آپ نے خطوط روانہ فرمائے ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں p. 140
بادشاہ p. 140
ملک p. 141
ہرقل p. 141
شاہ روم p. 141
خسرو پرویز p. 141
شاہ فارس p. 141
نجاشی p. 141
شاہ حبشہ p. 142
مقوقس p. 142
شاہ مصر p. 142
منذرابن ساویٰ p. 142
شاہ بحرین p. 142
عبدوجیفر p. 142
شاہان عمان p. 143
ہوذہ بن عل p. 143
رئیس یمامہ p. 143
حارث غسانی p. 143
امیر دمشق p. 143
غزوۂ خیبر p. 143
محرم7ھ p. 144
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ آئے۔ اس سے پہلے مدینہ کے یہود مکہ کے قریش سے مل کر سازشیں کرتے رہتے تھے۔ مدینہ کے یہود ہی کی ترغیب پر قریش نے مدینہ کے خلاف وہ حملہ کیا تھا جس کو غزوۂ احزاب کہا جاتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد قریش اس کے پابند ہوگئے کہ وہ رسول اللہ کے خلاف نہ خود کوئی جنگی اقدام کریں اور نہ کسی جنگی اقدام کرنے والے کی مدد کریں۔ اس طرح معاہدہ حدیبیہ نے قریش کو یہود سے کاٹ دیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصوبہ بنایا کہ یہود کی طاقت کو توڑ دیں تاکہ وہ مسلمانوں کے خلاف صف آرا نہ ہو سکیں اور دعوت اسلام کی راہ میں ان کی مزاحمت کا خاتمہ ہو جائے۔ p. 144original + quote
چنانچہ رسول اللہ علیہ وسلم نے محرم7ھ میں خیبر کے یہود کی طرف رخ کیا۔ اس وقت آپ کے ساتھ چودہ سو پیادہ اور ایک سو سوار تھے۔ راستہ میں جب ایک بلند مقام پر پہنچے تو کچھ صحابہ نے نعرۃ تکبیر بلند کیا۔ رسول اللہ نے کہا اپنے اوپر رحم کرو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ تم اس خدا کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور تمہارے قریب ہے۔ p. 144original + quote
آپ کو یہ معلوم ہوگیا تھاکہ غطفان نے یہود خیبر کی امداد کے لیے لشکر جمع کیا ہے اس لیے آپ نے مدینہ سے متصل رجیع میں پڑائو کیا جو خیبر اور غطفان کے درمیان ہے تاکہ یہودِ غطفان مرعوب ہو جائیں اور یہود خیبر کی مدد کونہ پہنچیں۔ چنانچہ غطفان کے یہودکو جب یہ معلوم ہوا تو وہ واپس ہوگئے۔ p. 144
خیبر کے قریب پہنچ کر آپ نے ایک لمبی دعا فرمائی۔ اس کا آخری جزء یہ تھافَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا(سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 329)۔ یعنی، اے اللہ ہم اس بستی، اس کے باشندے، اور اس میں موجود تمام چیزوں کی خیر و بھلائی کے طلب گار ہیں اور ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ چاہتے ہیں۔ p. 144original + quote
خیبر میں یہود کے متعدد قلعے تھے۔ آپ کو دیکھ کر یہود قلعہ بند ہوگئے۔ آپ نے ان کے قلعوں پر حملہ شروع کیا اور ایک کے بعد ایک ان قلعوں کو فتح کر لیا۔ p. 144
قلعہ قموص پر چڑھائی کے لیے آپ نے حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔ آپ نے ان کو یہ نصیحت کی کہ جنگ سے پہلے یہود کو اسلام کی دعوت دینا۔ خدا کی قسم اگر ایک شخص کو اللہ تمہارے ذریعہ ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے۔ p. 144original + quote
جب تمام قلعے فتح ہوگئے تو آخر میں مسلمانوں نے وطیح اور سلالم کا محاصرہ کیا۔ چودہ دن کے محاصرہ کے بعدان لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہم کو امان دے دی جائے۔ ہم خیبر کو چھوڑ کر نکل جائیں گے آپ نے اس کو منظور فرمایا۔ p. 145