Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۃ ذات الرقاع p. 120
جمادی الاولیٰ4ھ p. 120
غزوۃ بنو نضیر کے بعد ربیع الاول سے لے کر شروع جمادی الاولیٰ تک آپ مدینہ میں مقیم رہے۔ شروع جمادی الاولیٰ میں آپ کو یہ خبر ملی کہ بنی محارب اور بنی ثعلبہ آپ کے مقابلہ کے لیے لشکر جمع کر رہے ہیں۔ آپ چار سو صحابہ کی جمعیت کے ساتھ نجد کی طرف روانہ ہوئے، جب آپ وہاں پہنچے تو قبیلہ غطفان کے کچھ لوگ ملے، مگر لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صلاۃ الخوف پڑھائی۔ بن سعد کہتے ہیں کہ ذات الرقاع ایک پہاڑ کا نام ہے جہاں آپ نے اس غزوہ میں قیام کیا تھا۔ اس لیے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع پڑ گیا۔ p. 121original + quote
واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سایہ دار درخت کے نیچے آرام کیا اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔ ایک مشرک آیا اور تلوار لے کر کھڑا ہوگیا۔ اور آپ سے پوچھا کہ اے محمد، تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا، اللہ۔ اس کے بعد اس نے تلوار رکھ دی۔ اب آپ نے تلوار لے کر کہا تم کو مجھ سے کون بچائے گا وہ گھبرا گیا۔ آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے کہاکہ اب میں آپ کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہوں گا۔ بعد کو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ p. 121