Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تعمیر کی طاقت p. 250
مئی1990ء کا واقعہ ہے۔ کراچی کی ایک سڑک پر دونوں طرف سے گولیاں چل رہی ہیں۔ سڑک کے دونوں طرف لوگ زخمی ہو رہے ہیں۔ لاشیں زمین پر پڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ کلاشنکوف (Kalashnikov) کے ذریعہ مہاجروں اور سندھیوں میں فائرنگ کے تبادلے ہو رہے ہیں۔ پولس کے افراد بھی خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ p. 250
اتنے میں سائرن کی آواز آتی ہے۔ جلد ہی ایک ایمبولنس گاڑی سڑک پر دوڑتی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔ جیسے ہی ایمبولنس سامنے آتی ہے، دونوں طرف کے لوگ اپنی اپنی فائرنگ روک دیتے ہیں۔ ایمبولنس کھڑی ہوتی ہے، اس کے آدمی مردہ لاشوں کو اور زخمیوں کو اٹھا کر اپنی گاڑی میں رکھتے ہیں۔ اس پوری کارروائی کے دوران لڑائی بند رہتی ہے۔ جب ایمبولنس چلی جاتی ہے تو دوبارہ وہی لوگ اس طرح لڑنا شروع کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں۔ p. 250
یہ کراچی کے عبدالستار ایدھی(پیدائش1928) ہیں۔ انہوں نے اپنی 30 سال کی بے غرضانہ خدمت سے لوگوں کے اندر اتنا احترام پیدا کیا ہے کہ جہاں وہ پہنچ جائیں، وہاں لوگوں کے سر ان کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، خواہ وہ فسادی اور دہشت گرد کیوں نہ ہوں۔ p. 250
عبدالستار ایدھی کی تعلیم صرف چھٹے درجہ تک ہو سکی تھی۔1947ء میں وہ جونا گڑھ سے نقل وطن کرکے پاکستان چلے گئے۔ وہاں وہ حصول معاش کے لیے معمولی کام کرتے رہے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ پاکستان میں ایمبولنس سروس بہت کمزور ہے۔ ان کے اندر خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہوا۔ انہوں نے قرض اور چندہ کی مدد سے ایک پرانا ٹرک خریدا اور اس کے اوپر پردہ لگا کر اس کو ایمبولنس گاڑی کے طور پر استعمال کرنے لگے۔ p. 250
زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال لے جانا، لاوارث لاش کو قبرستان پہنچانا، اس قسم کے رفاہی کاموں میں سرگرم ہوگئے۔ ان کے خلوص اور محنت کو دیکھ کر لوگوں نے تعاون کرنا شروع کیا۔ انہوں نے مزید ایمبولنس گاڑیاں خریدیں۔ یہاں تک کہ اب ان کے پاس350 گاڑیوں کا دستہ ہے جو سب کی سب سائرن، وائرلیس، گیس سلنڈر وغیرہ سے لیس ہیں۔ ان کے علاوہ انہوں نے دو ہیلی کاپٹر خریدے ہیں تاکہ دور تک کے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر سکیں۔ p. 250
اسی کے ساتھ انہوں نے ہسپتال، زچہ گھر، یتیم خانے اور مختلف قسم کے رفاہی مراکز قائم کر رکھے ہیں، اب انہوں نے گیارہ ایکڑ کی ایک زمین حاصل کی ہے۔ یہاں وہ اپنے تمام شعبے قائم کریں گے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندرہیلی کاپٹر کو ٹھہرانے اور اتارنے کا میدان بھی بنایا جائے گا۔ p. 250
30 سال پہلے عبدالستار ایدھی کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ ان کی ماں بیمار ہوئی تو نہ ان کے پاس دوا لانے کے پیسے تھے اور نہ ماں کو ہسپتال لے جانے کا سادھن۔ ان کی ماں نہایت تکلیف کی حالت میں مر گئی۔ مگر ماں کی موت نے ان کو ایک نئی زندگی دے دی۔ اس سے ان کو سخت جھٹکا لگا۔ انہوں نے سوچا کہ اسی طرح کتنے غریب ہوں گے جو تکلیف میں تڑپتے ہوں گے، مگر کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا۔ p. 250
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خدمت خلق کا ایک ادارہ قائم کریں گے۔30 سال پہلے یہ ادارہ انہوں نے نہایت معمولی حالت سے شروع کیا تھا۔ آج وہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس کا سالانہ بجٹ بارہ کروڑ روپیہ ہے۔ جس شخص کا حال یہ تھا کہ مرض الموت میں مبتلا اپنی ماں کی دوا خریدنے کے لیے اس کے پاس پیسے نہ تھے، وہ آج اپنے مرکز میں7500 آدمیوں کے لیے کھانا اور کپڑا فراہم کر رہا ہے۔ p. 250
عبدالستار ایدھی کو عالمی انعام(Magsaysay Award) دیا گیا ہے۔ امریکہ کے کثیر الاشاعت ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ(جون1989ء) نے ان کے بارہ میں ایک تعریفی مضمون شائع کیا تھا جس کا خلاصہ الرسالہ(فروری1990ء) میں آ چکا ہے۔ نئی دہلی کے انڈیا ٹو ڈے (30 جون1990ء) نے سات صفحہ کی ایک باتصویر رپورٹ شائع کی ہے۔ ان کا عنوان یہ ہے___ پاکستان کا فادر ٹریسا: p. 250
Pakistan`s Father Teresa p. 250
تعمیر کام اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ اگر آپ واقعی معنوں میں کسی تعمیری کام کا نمونہ پیش کر دیں تو تمام لوگ آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، حتی کہ آپ کے کٹر مخالفین بھی۔ p. 250
عبدالستار ایدھی کے لیے ایک نمونہ وہ تھا جو سطحی لیڈروں نے ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ پیش کیا ہے۔ یعنی’’نظام‘‘ کے خلا ف نعرہ اور جھنڈا کی سیاست لے کر کھڑا ہو جانا۔ وہ تیسرے درجہ کا ایک اخبار نکالتے اور موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ عوام کی مصیبت کی داستانیں چھاپنا شروع کر دیتے۔ وہ حکومتی اداروں سے مطالبات کی مہم چلاتے۔ وہ غصہ میں بھرے ہوئے نوجوانوں کی ایک بھیڑ جمع کرتے جو احتجاج کے نام پر بسیں جلاتا اور ہسپتالوں میں آگ لگاتا۔ p. 250
اسی طرح عبدالستار ایدھی کے لیے ایک نمونہ وہ تھا، جو نام نہاد اسلام پسندوں نے پیش کیا ہے۔ وہ ’’اسلامی نظام قائم کرو‘‘ کے نعرہ کے ساتھ سڑکوں پر نکل پڑتے۔ وہ عوام اور حکومت کے درمیان وہی نفرت اور کشاکش کا ماحول بناتے جو موجودہ اسلام پسندوں نے مجرمانہ طور پر ہر جگہ بنا رکھا ہے۔ p. 250
عبدالستار ایدھی اگر اس قسم کے طریقے اختیار کرتے تو وہ اپنے ملک کے مسائل کو حل کرنے کے نام پر صرف اس کے مسائل میں اضافہ کرتے۔ اس کے برعکس، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خود اس مسئلہ کو حل کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ان کا کام خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو، مگر وہ خود اپنے آپ سے عمل کا آغاز کریں گے۔ p. 250
عبدالستار ایدھی کے اس فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ 40 برس بعد انہوں نے پاکستان میں ایک ایسی تعمیری تاریخ بنائی جس کا ہندوستان سے لے کر امریکہ تک اعتراف کیا جا رہا ہے۔ جب کہ اسی مدت میں اسی ملک کے دوسرے رہنما بربادی اور تخریب کے سواکوئی اور تاریخ نہ بنا سکے۔ p. 250
Backcover text p. 250
انسان کے سوا جو کائنات ہے، وہ نہایت محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ کائنات کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ وہ ہمیشہ اسی ضابطے کی پیروی کرتی ہے۔ ہر چیز اس ضابطے پر عمل کرتے ہوئے اپنی تکمیل کے مرحلے تک پہنچتی ہے۔ زیرِ نظر کتاب مختلف پہلوؤں سے اس اصول فطرت کی تشریح ہے۔ p. 250