Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حکمت کا طریقہ p. 109
اس دنیا میں بے نزاع زندگی ممکن نہیں۔ آپ خواہ اپنوں کے درمیان رہتے ہوں یا غیروں کے درمیان، بہرحال آپ کے اور دوسروں کے بیچ میں نزاع کی صورتیں پیدا ہوں گی۔ ان نزاعات کی پیدائش کو آپ روک نہیں سکتے۔ البتہ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ پہلے ہی مرحلہ میں نزاع کو ختم کر کے اس کے برے انجام سے اپنے آپ کو بچا لیں۔ p. 109
کبھی نظر انداز کرنے کی پالیسی ہی نزاع کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ کوئی شخص آپ کے خلاف اشتعال انگیز کلمات کہتا ہے۔ اس کا کامیاب ترین جواب یہ ہے کہ آپ اس کی اشتعال انگیزی پر مشتعل نہ ہوں۔ اس طرح آپ پیدا شدہ نزاع کو پہلے ہی مرحلہ میں کچل دیں گے۔ p. 109
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نزاع پیدا کرنے والا آپ کی عزت کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ وہ آپ کے لیے وقار کا مسئلہ کھڑا کر دیتا ہے۔ یہاں بھی وقار کے تحفظ کی بہترین تدبیر یہ ہے کہ اس کی کوئی تدبیر نہ کی جائے۔ آپ یہ سوچ کر خاموش ہو جائیں کہ عزت کو دینے والا بھی خدا ہے اور عزت کو چھین لینے والا بھی خدا ہے۔ پھراس کے لیے میں ایک انسان سے کیوں الجھوں ۔ آپ کا یہ رویہ نزاع کو ختم کرنے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ p. 110
کبھی نزاع کے ساتھ فائدہ اور نقصان کا پہلو وابستہ ہو جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے اگر صبر و اعتراض کی پالیسی اختیار کی گئی تو وہ مادی نقصان کا سبب بن جائے گی۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ اس طرح کے معاملہ میں اصل انتخاب نقصان اور بے نقصان کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ کم نقصان اور زیادہ نقصان کے درمیان ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں نزاع کو پہلے مرحلہ میں ختم کرنا کم نقصان کا راستہ ہے اورنزاع کو بڑھانا زیادہ نقصان کا راستہ ۔ پھر کیوں نہ آدمی زیادہ نقصان کے راستہ کو چھوڑ کر کم نقصان والے راستہ کو اختیار کرے۔ ہم نزاع کی پیدائش کو روک نہیں سکتے۔ البتہ یہ یقینی طور پر ہمارے اختیار میں ہے کہ اعراض کا طریقہ اختیار کر کے اپنے آپ کو نزاع کے فتنہ سے بچا لیں۔ ہم زیادہ نقصان کے مقابلہ کم نقصان کو گوارا کر لیں۔ p. 110