Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مقصد کا تقاضا p. 120
ٹائمس آف انڈیا(26 مارچ 1987)کے ساتھ ایک ضمیمہ (The Times Offspring) شائع ہوا ہے۔ اس ضمیمہ میں مشہور انگریزی صحافی مسٹر خوشونت سنگھ کاایک انٹرویو درج ہے۔ اس انٹرویو کا ایک سوال و جواب یہ ہے: p. 120
Q: You are a media man. How is it that you are so against television.as you once mentioned in your' Malice' column? p. 120
A: Well, I am aganist my viewing it. I had one set in Bombay at my residence.As a result I could not concentrate on anything else.I would simply switch on the T.V. and see the programme being trans-mitted,whatever nonsense it might be .So i told the television company to take it back, since i prefer to read and write. p. 121
سوال: آپ میڈیا کے ایک آدمی ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ آپ ٹیلی ویژن کے اس قدر مخالف ہیں جیسا کہ آپ نے ایک بار اپنے مستقل کالم میں لکھا تھا۔ p. 121
جواب: جی ہاں، میں اپنے ٹیلی ویژن دیکھنے کے خلاف ہوں۔ بمبئی میں میرے مکان میں ایک ٹیلی ویژن سیٹ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں کسی بھی دوسری چیز پر اپنے ذہن کو لگا نہیں پاتا تھا۔ میں بس ٹی وی کا بٹن دبا دیتا اور جو کچھ اس پر آتا اس کو دیکھتا رہتا، خواہ وہ کتناہی بے معنی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ میں نے ٹیلی ویژن کمپنی سے کہا کہ وہ اس کوواپس لے جائے۔ کیوں کہ میں لکھنے پڑھنے کو زیادہ پسند کرتا تھا۔ p. 121
مسٹر خوشونت سنگھ نے اس معاملہ میں جو کچھ کیا اس کو ہماری زبان میں ’’ترجیح‘‘ کہا جاتا ہے۔ ترجیح کا یہ اصول کسی بامقصد انسان کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر آپ کے سامنے ایک مقصد ہو تو آپ کو لازماً یہ کرنا پڑے گا کہ آپ اصل مقصد کے سوا دوسری تمام چیزوں میں اپنی دلچسپی ختم کر دیں۔ اپنی توجہ کو دوسری تمام سمتوں سے ہٹا کر صرف مقصد کے رُخ پر لگا دیں۔ یہ کامیابی کی لازمی شرط ہے، اس کے بغیر موجودہ دنیا میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ p. 121original + quote
ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیزکو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اگر آپ چھوڑنے والی چیز کو نہ چھوڑیں تو اس دنیامیں آپ پانے والی چیز کو بھی نہیں پائیں گے۔ p. 121
باب دوم p. 122
اوراقِ حکمت p. 122
سوچ کا فرق p. 122
فریڈرک لینگ برج (Frederick Langbridge) انگریزی کاایک شاعر ہے۔ وہ 1849ء میں پیدا ہوا۔ 1923ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک شعر ہے کہ رات کے وقت دو آدمی جنگلہ کے باہردیکھتے ہیں۔ ایک شخص کیچڑ دیکھتا ہے اوردسرا شخص ستارہ : p. 122
Two men look out through the same bars one sees the mud, and one the stars. p. 122
یہی بات ایک فارسی شاعر نے زیادہ بہتر طور پر اس طرح کہی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو فرق ہے وہ سننے کا فرق ہے۔ ایک آواز آتی ہے۔ تم اس کو دروازہ بند کرنے کی آواز سمجھتے ہو اور میں سمجھتا ہوںکہ وہ دروازہ کھلنے کی آواز ہے: p. 122other source
تفاوت است میانِ شنیدن من وتو تو غلقِ باب و منم فتح باب می شنوم p. 123
درخت میں کانٹے کے ساتھ پھول بھی ہوتاہے۔ یہی حال انسانی سماج کا ہے۔ سماجی حالات بظاہر خواہ کتنے غیر موافق ہوں، ہمیشہ اس کے اندر موافق پہلو بھی ساتھ ساتھ موجودرہتا ہے۔ ایک شخص جو چیزوں کو صرف ظاہری طور پر دیکھنے کی نگاہ رکھتا ہو، و ہ سطحی چیزوں کو دیکھے گا، اورزیادہ گہرے پہلوئوں کو دیکھنے میںناکام رہے گا۔ مگر جو شخص گہری نظر رکھتا ہو وہ زیادہ دور تک دیکھے گا اورناموافق پہلو کے ساتھ موافق پہلو کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ p. 123
اس دنیامیں کیچڑ بھی ہے اور یہاں ستارے بھی ہیں۔ یہ دیکھنے کی بات ہے کہ کون شخص کس چیز کو دیکھتا ہے اور کون شخص کس چیز کو۔ ایک ہی آواز ہے، مگر نادان آدمی اس کو دیکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ دروازہ بند ہو گیا اور دانش مند آدمی سمجھتا ہے کہ دروازہ اس کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ p. 123
تمام مسائل ہمیشہ ذہن میں پیدا ہوتے ہیں اور ذہن کے اندر ہی ان کو ختم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ آدمی کے اندر صحیح سوچ کا مادہ پیدا ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا عقل کا امتحان ہے، جو شخص اپنی عقل کو استعمال کرے گا وہ اپنے لیے راستہ پا لے گا، اور جو شخص عقل کو استعمال نہیں کرے گا اس کے لیے بربادی کے سوا کوئی انجام مقدر نہیں۔ p. 123
سمندر میں موجوں کے تھپیڑے ہیں۔ جو شخص سمندر میں اپنی کشتی چلانا چاہے وہ مجبور ہے کہ موج اور طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی کشتی مطلوبہ منزل کی طرف لے جائے۔ جنگل میں جھاڑیاں اور درندے ہیں، جو جانور جنگل میں رہتے ہیں، ان کے لیے اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیوں اور اپنے دشمن جانوروں کے درمیان اپنے لیے زندگی کا طریقہ نکالیں۔ p. 123
ایسا ہی کچھ معاملہ انسانی سماج کا بھی ہے۔ انسانوں کے اندر بھی طرح طرح کے لوگ ہیں۔ ان کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ مختلف اسباب سے ایک اور دوسرے کے بیچ میں ناخوش گواریاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ اونچ نیچ اور یہ فرق سماجی زندگی میں ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ باقی رہیں گے۔ کسی حال میں انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے زندگی اور کامیابی کا صرف ایک ہی ممکن راستہ ہے— وہ ’’باوجود‘‘ کے اصول کو اپنی پالیسی بنائے۔ وہ مخالفتوں کے باوجود لوگوں کو اپنا موافق بنانے کی کوشش کرے۔ وہ ناخوش گواریوں کے باوجود اپنے لیے خوشگوار زندگی کا راز دریافت کرے۔ اس کے خلاف عداوتیں اور سازشیں کی جائیں تب بھی وہ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھے کہ وہ اپنے مثبت عمل سے تمام منفی باتوں کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ p. 124
اس دنیا میں آدمی کو کانٹے کے باوجود پھول تک اپنا ہاتھ پہنچانا ہوتا ہے۔ یہاں بیماریوں کے بے شمار جراثیم کے باوجود اپنے آپ کو تندرست اور صحت مند بنانا پڑتا ہے۔ اسی طرح اس دنیا میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ناموافق حالات کودیکھ کر مایوس نہ ہو۔ اورنہ شکایت اور احتجاج میں اپنا وقت ضائع کرے۔ وہ ان حقائق سے موافقت کر کے جئے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ وہ راستہ کے ان پتھروں سے کترا کر نکل جائے جو اس کے سفر میں حائل ہو رہے ہوں۔ لوگوں کی مخالفانہ باتوں پر مشتعل ہونے کے بجائے وہ تدبیری حکمت کے ذریعہ ان سے نپٹنے کی کوشش کرے۔ وہ کم ملنے پر راضی ہو تاکہ آئندہ اس کو زیادہ دیا جائے۔ وہ دشمنی پر صبر کرے تاکہ آج جو اس کے دشمن ہیں کل وہ اس کے دوست بن جائیں۔ p. 124